”واقعاتی شہادتوں“ سے ثابت کورونا وائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے فرار ہوا

”واقعاتی شہادتوں“ سے ثابت کورونا وائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے فرار ہوا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) کرونا وائرس کی عالمی وباء کی ابتداء اور پھیلاؤ کے بارے میں امریکی حکومت جو تفتیش کر رہی ہے اس سے حاصل ”واقعاتی شہادت“ ظاہر کرتی ہے یہ وائرس چینی شہر ووہان کی تجربہ گاہ سے ”فرار“ ہوا۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ نے اپنے ذرائع سے امریکی انٹیلی جنس کی ایک دستاویز حاصل کی ہے جس میں اس وائرس کی ابتدائی کے بارے میں ممکنہ کہانی بیان کی گئی ہے دستاویز اس سلسلے میں چینی حکومت کے موقف کی نفی کرتی ہے کہ یہ وائرس ووہان کی مختلف جانوروں کے گوشت کی ”گیلی مارکیٹ“ سے شروع ہوا اور بتاتی ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ کے علاوہ وائرس کے آغاز کے دوسرے مقامات قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ قبل ازیں فرانسیسی سانس دان پروفیسر لوئی مونٹگینٹر بھی اپنی معلومات کی بنیاد پر دعوی کر چکے ہیں کہ کرونا وائرس ووہان کی تجربہ گاہ میں حادثاتی طور پر پیدا ہوا ان پروفیسر کو ایڈیز کا وائرس دریافت کرنے پر نوبل انعام مل چکا ہے۔امریکی انٹیلی جنس کو ابھی ایسے ٹھوس ثبوت نہیں ملے جن کے ذریعے چینی حکومت پر یہ الزام لگایا جا سکے کہ انہوں نے جان بوجھ کر وائرس کی یہ قسم تیار کی ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ بات تو طے شدہ ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ میں چمگادڑوں میں موجود کرونا وائرس کی خاص قسم پر ایک چینی سائنس دان شی زنگلی تجربہ کر کے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جانوروں سے جانوروں میں منتقل ہونے والا یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے ان کی تحقیق کا مقصد اس وائرس کی جنیات میں تبدیلی کر کے اسے انسانوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا تا کہ اس وائرس سے انسانوں کو محفوظ کیا جا سکے لیکن حادثاتی طو رپر اس سے ایک ایسی قسم دریافت ہو گئی جو انسانوں میں منتقل ہو سکتی تھی جن چمگادڑوں میں یہ وائرس پیدا ہو چکا تھا ان کی بے شمار تعداد تجربہ گاہ میں موجود تھی لیبارٹری کا نچلی سطح کا سٹاف ان کے انڈے استعمال کرتا رہا تھا تجربات کے بعد جو بے شمار چمگادڑ مر گئے ان کو تلف کر نے میں بھی بے احتیاطی کی گئی اس طرح ان چمگادڑوں میں نئی صلاحیت رکھنے والا کرونا وائرس تجربہ گاہ سے ”فرار“ ہو گیا انٹیلی جنس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک اور چینی سائنس دان ڈاکٹر ووزیاہوا نے اپنی ویب سائٹ میں تسلیم کیا ہے کہ چینی ڈاکٹر شی اس تجربہ گاہ میں جانوروں پر تجربے کرنے میں مصروف تھے۔

امریکی رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -