قادیانی جب تک خود کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے کسی کمیشن میں نمائندگی نہیں دی جاسکتی

  قادیانی جب تک خود کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے کسی کمیشن میں نمائندگی نہیں ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے نیشنل کمیشن فار مینارٹیز میں قادیانی نمائندگی کو اصولی طور پر مسترد کرکے اسے قادیانی اثرو رسوخ بڑھانے کے حوالے سے کسی خطرناک سازش کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنونیئر عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کی بات سامنے آئی ہے جو غور طلب ہے اس لئے کہ قادیانیوں نے دستور،پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے ان فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھاہے،جو ملک میں ان کے معاشرتی مقام و حیثیت کا تعین کرتے ہیں،جبکہ قادیانیوں کا یہ انکار قائم ہے، انہیں اقلیتی کمیشن میں نمائندگی کس حیثیت سے دی جارہی ہے؟۔عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پہلے قادیانیوں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے معاشرتی سٹیٹس کے بارے میں دستور، پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کا جماعتی حیثیت سے اعلان کریں اور اس کے بعدان کی نمائندگی سے کسی کو انکار نہیں ہوگا،لیکن جب تک وہ اپنے بارے میں دستوری فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں،انہیں اس دستور کے تحت کسی بھی فورم پر نمائندگی دینے کی بات قابل قبول نہیں ہو سکتی اور امت مسلمہ کا کوئی طبقہ بھی اس صورتحال کو قبول نہیں کریگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان اوروفاقی وزارت مذہبی امور کو اس کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ورنہ اس قسم کے کسی بھی اقدام کو شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔دریں اثناعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما?ں نے قادیانیوں کو نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں شامل کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت پاکستان کا قادیانیوں کو قومی کمیشن برائے اقلیت میں شامل کرنے کا فیصلہ بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ قادیانی کوئی مذہب نہیں بلکہ فتنہ ہے اور فتنہ ہمیشہ انتشار پھیلاتا ہے۔ قادیانیوں کی جو حیثیت آ ئین نے متعین کی ہوئی ہے قادیانی اسکو تسلیم نہ کرکے آئین پاکستان سے کھلم کھلا غداری کا ارتکاب کررہے ہیں جب تک قادیانی آئین میں متعین اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے اس وقت انکو کسی بھی کمیشن میں شامل کرنا یہ آئین شکن گروہ کی حوصلہ افزائی کرنے مترادف ہوگا۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات مو لانا عزیز الرحمن ثانی، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے ممبران قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا علیم الدین شاکر، پیررضو ان نفیس، مولانا حافظ محمداشرف گجراور مولانا خالدمحمودکا کہنا تھا کہ قادیانی ایک طویل عرصہ سے کوشش کررہے تھے کہ کسی نہ کسی طرح انہیں حکومتی کمیٹیوں میں جگہ مل جائے۔ امت مسلمہ کبھی انکا یہ خواب پورا نہیں ہونے دے گی۔ اگر انہیں اس کمیشن میں شامل کرلیا گیا تو دیگر کمیٹیوں میں بھی ان کو جگہ آسانی سے مل جائیگی اور عملی طور پر امتناع قادیانیت آرڈیننس غیر فعال ہوکررہ جائیگا، پھر انہیں شعائر اسلام اپنانے اور اپنے باطل نظریات کا پرچار کرنے کی بھی آزادی حاصل ہوجائیگی۔ اس لئے یہ بہت بڑی سازش ہے، قادیانیت کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک فتنہ ہے جس کو کوئی بھی مذہب تسلیم نہیں کرتا قادیانی پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں۔ اس ملک میں ہونے کیا جا رہا اب یہاں حضور? کے گستاخوں اور بدترین دشمنان کے ساتھ بیٹھا جائیگا قادیانیت جو فتنہ ہے اس کو مذہب کا درجہ دینے کی کوشش قادیانی جو حضور? کی ختم نبوت کے منکر ہیں جو مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اب ان کو اس ملک میں مذہب کے طور پے نمائندگی دی جائیگی؟ آخر کیوں کیا آج تک قادیانیوں نے اس ملک کے قانون کو مانا ہے کیا قادیانیوں نے اس ملک کی عدالتوں کے فیصلوں کو مانا ہے قادیانی اسلام کے اس ملک کے قانون کے بدترین دشمن ہے اور یہ دشمنی ڈھکی چھپی نہیں لا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہْ مْحَمَّدٌ رَسْولْ اللّٰہِ کے نام پے بننے والے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں جو حضور? کی ختم نبوت کا منکر ہے اگر اقلیت بننا ہے تو پہلے قانون اور عدالتی فیصلوں کو مانیں پھر کسی فورم کا حصہ بننے کا سوچیں یاد رکھیں قادیانیت مذہب نہیں بلکہ ایک سیاسی سازش اور ایک فتنہ ہے جس کو انگریز نے کھڑا کیا تھا مسلمانوں میں فتنہ فساد تفرقہ و انتشار پیدا کرنے کیلئے اور یہی فتنہ آج تک اپنے مشن پر عمل پیرا ہے پوری دنیا میں ایک دستور ہے کہ جو کسی ملک کے آئین کو نہ مانے آئین سے بغاوت کرے اسے سزائے موت دی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی قادیانیت نوازی کھل کر سامنے آگئی۔حکومت فوراً فیصلہ واپس لے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت

مزید :

صفحہ اول -