حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا مجوزہ مسودہ تیار کر لیا

      حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا مجوزہ مسودہ تیار کر لیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے سامنے پیش کرنے کیلئے نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کا مجوزہ مسودہ تیار کر لیا۔حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ مسو دے کے مطابق اب سے وفاق اور صوبائی ریگولیٹری باڈی کے دائرہ کار والے معاملات نیب دیکھ سکے اور نہ ہی کابینہ، ای سی سی، مشترکہ مفادات کونسل کے معاملات نیب کے دائر ہ کار میں آئیں گے۔مجوزہ مسودے کے مطابق نیب کے دائرہ کار میں ٹیکس ڈیوٹی کے معاملات ہوں گے اور نہ ہی نیب ایک ارب روپے سے کم کرپشن پر تحقیقات کر سکے گا، البتہ تمام انکوائریز اور انویسٹی گیشنز متعلقہ اداروں کو منتقل کر دی جائیں گی۔اس کے علاوہ ایکنک یا وفاقی و صوبائی پالیسی ساز ادارے کے معاملات بھی نیب کے دائرے کار سے باہر ہو نگے۔مجوزہ مسودے میں بیان کیا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس شیڈول سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کا ریفرنس ختم کر دیا جائیگا، جبکہ ٹرائلز احتساب عدالتوں سے متعلقہ عدا لتوں یا ریگولیٹری باڈیز کو منتقل کر دیے جائیں گے۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ نیب نجی شخص کے بارے میں کسی سرکاری عہدیدار کو مالی فائدہ یا کوئی اثاثہ دیے جانے تک کارروائی نہیں کرے گا، اہلیہ، بچے، بھائی، بہن بے نامی دار کی کیٹیگری میں نہیں آئیں گے جب تک کہ زیر کفالت اہلیہ اور بچے ذاتی طور پر ٹیکس فائلر نہ ہوں، جبکہ نیب ضابطہ کی کارروائی میں خامی، غلط رائے یا فیصلے پر بھی عوامی عہدیدار کیخلاف کارروائی نہیں کر سکے گا۔نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کے مجوزہ مسودے کے مطابق نیب کسی انکوائری یا تفتیش کے دوران جائیداد پر قدغن نہیں لگا سکے گا اور عدالت بھی جائیداد پر قدغن کے بارے میں متعلقہ شخص کو سنے بغیر کوئی آرڈر جاری نہیں کرے گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ جرم جس علاقے کی حدود میں سرزد ہوا ہو گا، وہیں کی عدالت میں ٹرائل ہوگا اور کسی بھی مقدمے کا فیصلہ 30 دن میں کرنا ہوگا، جس کے بعد چیئرمین نیب انکوائری یا تفتیش ختم ہونے پر عدالت کو منظوری کیلئے معا ملہ بھیجے گا۔مسودہ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوگی۔حکومت نے نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائیگا،ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، احتساب عدالت حاضری یقینی بنانے کیلئے ملزم سے ضمانتی مچلکے بھی طلب کر سکے گی، کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے، رضا کارانہ رقم واپسی پر 5 سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا،حکومتی کمیٹی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد نیب آرڈنینس پر معاملات آگے بڑھائے گی۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ مسودہ کے مطابق چیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائیگا جبکہ ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائے گا۔مجوزہ مسودہ کے مطابق ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، احتساب عدالت حاضری یقینی بنانے کیلئے ملزم سے ضمانتی مچلکے بھی طلب کر سکے گی، مچلکوں کے باوجود عدم حاضری پر عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرسکے گی جبکہ 50 کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا، نیب 5 سال سے زائد پرانے کھاتے بھی نہیں کھول سکے گا جبکہ ٹیکس اور لیوی کے ایشوز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے۔مسودہ میں کہا گیا کہ عوامی عہدیداروں کیخلاف کارروائی کیلئے مالی فوائد کے شواہد لازمی ہوں گے، اخراجات کیلئے کسی کی مدد لینے والا زیر کفالت تصور ہوگا، نیب کسی ملزم کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا جبکہ کرپشن کے ملزمان دوران تفتیش وکیل کو بھی ساتھ لے جا سکیں گے، نیب کسی گمنام شکایت پر کارروائی نہیں کر سکے گا جبکہ منتخب نمائندوں کا ٹرائل بھی اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتیں گے۔مسودہ میں کہا گیا کہ کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے، رضا کارانہ رقم واپسی پر 5 سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ ریفرنس دائر ہونے تک نیب حکام کسی ملزم کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کر سکتے، اس کے علاوہ میڈیا پر بیان دینے والے نیب افسر کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا جبکہ آرڈیننس کا اطلاق تمام زیرالتواء مقدمات پر بھی ہوگا۔نئے نیب آرڈنینس پر حکو مت اپوزیشن سے بھی مشاورت کرے گی، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی، اسدعمر اور پرویز خٹک کو اپوزیشن سے بات کرنے کی ذمہ داری سونپ چکے، حکومتی کمیٹی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد نیب آرڈنینس پر معاملات آگے بڑھائے گی۔خیال رہے نیب ترمیمی آرڈینس 2019 کو 28 دسمبر 2019 کو نافذ کیا گیا تھا جس کے ذریعے نیب کے نجی شخصیات کیخلاف کارروائی کا اختیار ختم کر دیا گیا تھا۔نیب ترمیمی آرڈیننس کی آئینی مدت 120 دن تھی جو گزشتہ جمعے کو ختم ہوگئی تھی۔ سلام ا?باد: (دنیا نیوز) نیب ا?رڈیننس کا ترمیمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کے تحت چیئرمین نیب سے گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا، کسی مقام کو سب جیل قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ترمیمی مسودے کے مطابق ٹیکس ڈیوٹی کیمعاملات نیب کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز متعلقہ اداروں کو منتقل کر دی جائیں گی۔ اہلیہ، بچے، بھائی اور بہن بینامی دار کی کیٹیگری میں نہیں آئیں گے، زیرکفالت اہلیہ اور بچوں میں صرف وہ شمار ہوں گے جو ذاتی طور پر ٹیکس فائلر نہ ہوں۔وفاق اور صوبائی ریگولیٹری باڈی کے دائرہ کار والے معاملات بھی نیب نہیں دیکھ سکے گا، نیب ایک ارب روپے سے کم کرپشن پر تحقیقات نہیں کر سکے گا۔

نیب ترمیمی آرڈنینس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے میڈیا پر چلنے والے نیب آرڈیننس کے مسودے کو جعلی قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میڈیا پر چلنے والا نیب آرڈیننس کا مسودہ جعلی ہے، ابھی تک نیب آرڈیننس کا مسودی تیار ہی نہیں کیا گیا، مسودے کی تیاری سے متعلق گزشتہ رات چلنے والی صرف ایک خبر ہی درست ہے۔ معلوم نہیں سوشل میڈیا پر جعلی مسودہ کس طرح آیا، کسی نے پورے کا پورا جعلی مسودہ تیار کرکے میڈیا کیساتھ شیئر کر دیا ہے۔ دوسری جانب معاون خصوصی شہزاد اکبر کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ میڈیا پر چلنے والا مسودہ درست نہیں، مسودے کی تیاری کے وقت نیب سے مشاورت کی جائیگی۔مسودہ وزارت قانون کی سربراہی میں تیار ہو رہا ہے۔ کوشش ہے کہ قانون کو پارلیمان سے پاس کرائیں، تاہم کورونا وائرس سے پیدا ہونیوالے حالات کے باعث اجلا س نہیں ہو پا رہا۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا حکومت شفاف احتساب پریقین رکھتی ہے۔ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے حوالے سے ابھی اپوزیشن اور نیب سے مشاورت ہونا باقی ہے۔

حکومت تردید

مزید :

صفحہ اول -