مسلمانوں کے خلاف بھارت کی نفرت انگیز مہم

مسلمانوں کے خلاف بھارت کی نفرت انگیز مہم

  

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو اقلیتوں کے لئے خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت نے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف مہم چلائی، کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی میں بھارت کئی درجے نیچے چلا گیا،بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، متنازع شہریت بل نافذ کیا اور سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں ایسا فیصلہ دیا، جو قابل ِ تنقید ہے۔2019ء میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا، کمیشن نے محکمہ خارجہ سے سفارش کی کہ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث بھارتی اداروں اور عہدیداروں پر پابندی لگائی جائے۔ کمیشن کی رپورٹ میں پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات کو سراہا گیا ہے اور اس سلسلے میں کرتارپور راہداری بابا گورو نانک یونیورسٹی، مندر کی تزئین اور آسیہ سمیت دوسرے قیدیوں کی رہائی کے اقدامات کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔

بھارت یوں تو نام کی حد تک سیکولر کہلاتا ہے،لیکن عملاً یہ ایسی کٹر ہندو ریاست ہے، جہاں سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں سمیت کوئی بھی کمیونٹی محفوظ نہیں، مسلمانوں کو تو ہر چند سال بعد کسی نہ کسی وقت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے،لیکن جب سے مودی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے مسلمانوں کو ریاستی پالیسی کے تحت باقاعدہ منصوبہ بندی سے ختم کیا جا رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال دہلی کے حالیہ فسادات ہیں،جو صدر ٹرمپ کی بھارت میں موجودگی کے دوران ہوئے ان فسادات میں مسلمانوں کو پولیس کی نگرانی میں قتل کیا گیا، دہلی کے وزیراعلیٰ نے جب فسادات پر قابو پانے کے لئے فوج کی مدد طلب کی تو مرکزی حکومت نے اس درخواست کو درخوراعتنا نہ سمجھا،مرکزی وزیر داخلہ کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کے مسلح جتھے، پورے ملک سے دہلی لائے گئے،جنہوں نے مسلمانوں کے گھروں پر حملے کئے، قتل ِ عام کیا اور جب یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ یہ ہندو مسلم فسادات تھے تو آزاد صحافیوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میڈیا پر اس کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اپنی رپورٹوں میں ثابت کیا کہ یہ ”مسلمانوں کا منظم قتل ِ عام“ تھا، جن چینلوں پر یہ رپورٹیں چلیں وہ بند کر دیئے گئے اور متعصب ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلائی،جس کے نتیجے میں آج تک دہلی کے حالات نارمل نہیں ہو سکے۔

مسلمانوں کے خلاف تنگ نظر مودی کی نفرت کوئی تازہ واقعہ نہیں ہے وہ جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اُن کی نگرانی میں احمد آباد میں مسلمانوں کا قتل ِ عام ہوا تھا، محلوں کے محلے جلا دیئے گئے تھے،پارلیمینٹ کے ایک مسلمان رکن کو بھی،جن کا تعلق کانگرس سے تھا اُن کے پورے خاندان سمیت جلا دیا گیا،گجرات کے فسادات میں مودی کے ملوث ہونے کی وجہ سے ہی امریکہ نے انہیں ویزہ دینے سے بھی انکار کر دیا تھا اور پابندی سالہا سال رہی، مودی نے2014ء میں اپنی انتخابی کامیابیوں کے لئے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ہتھیار استعمال کیا،جب سے اُن کی حکومت بنی ہے مسلمانوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آج تک ریاست کا لاک ڈاؤن ختم نہیں ہو سکا۔ اب غیر ریاستی ہندوؤں کو پورے بھارت سے لا کر کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے اور تین لاکھ ہندوؤں کو ریاست کے ڈومیسائل جاری کر دیئے گئے ہیں اِس اقدام کا مقصد ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنا ہے۔ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے ریٹائرڈ فوجیوں کی کالونیاں بھی بنائی گئی ہیں جہاں اسلحے کی بہتات ہے، ریاست کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پورے ملک میں متنازع شہریت بل نافذ کر دیا گیا، جس پر احتجاج کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ دہلی کے شاہین باغ میں تو مظاہرین کو اٹھانے کے لئے کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہو رہا تھا، کورونا کی وبا نہ آتی تو مظاہرین کا احتجاج اب بھی جاری ہوتا۔

اب ایک منظم پروپیگنڈہ مہم کے تحت مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے، تبلیغی جماعت کے ارکان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور جنہیں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا مدت گزرنے کے بعد اُن کے قرنطینہ کو نظر بندی میں بدل دیا گیا، میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف مہم آج بھی جاری ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسری ا قلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہاہے۔ دربار صاحب پر بھارتی فوج کا حملہ سکھ آج تک نہیں بھولے،اندرا گاندھی کا قتل بھی اسی حملے کا بدلہ لینے کے لئے کیا گیا، جس کے بعد دہلی میں سکھوں کا بدترین قتل ِ عام ہوا، عیسائیوں کے گرجوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام پر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر تو امریکی کمیشن کی رپورٹ میں موجود ہے، اس تاریخی مسجد کے انہدام میں جو جتھے شریک تھے اُن میں ایک ہندو کے دِل کی دُنیا ایسی بدلی اور وہ اپنے کئے پر ایسا پشیماں ہوا کہ اس کے کفارے کے لئے اُس نے بھارت میں سینکڑوں مساجد تعمیر کرا دیں،لیکن آر ایس ایس کے پتھر دِل آج بھی بھارت میں کسی نہ کسی مسجد کو گرانے کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت ایسے تنازعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے پردے میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور رکن ممالک کو خط لکھ کر آر ایس ایس کے مظالم کی طرف توجہ دلائی ہے،جنہوں نے حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم چلا رکھی ہے اور سوشل میڈیا پر انہیں انسانی بم جیسے نام دیئے جا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔ یہ مطالبہ تو اپنی جگہ درست ہے، لیکن او آئی سی اگر اِس سلسلے میں سرگرمی نہیں دکھاتی تو خود پاکستان کی حکومت کو یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھانا چاہئے۔ امریکی کمیشن کی رپورٹ حوالے کا بہت سا مواد اپنے اندر رکھتی ہے، اِس لئے یہ وقت ہے کہ پاکستان دُنیا کو بھارت کے اُن اقدامات سے آگاہ کرے جو وہاں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ عرب ممالک میں بھارت کے حق میں فضا موجود ہے،لیکن پے در پے مسلم کش اقدامات کی وجہ سے اب بھارت عرب ممالک میں بھی بے نقاب ہو رہا ہے اور مودی حکومت کی نفرت انگیز مہم جتنی پھیلتی جائے گی بھارت کا مسلم دشمن چہرہ اتنا ہی سامنے آتا جائے گا۔اِس وقت دُنیا اگرچہ کورونا کی تباہ کاریوں میں اُلجھی ہوئی ہے،لیکن عالمی ادارے اپنی ذمے داریوں سے بھی غافل نہیں ہیں اِن مشکل حالات میں بھی امریکی کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، اِس لئے اب عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کی مدد کے لئے عملی اقدام کرے، پاکستان کی حکومت کو بھی ٹویٹس سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، جو مودی کا دست ِ ستم روک سکیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -