اللہ کے لئے، نئی نسل پر تو رحم کریں!

اللہ کے لئے، نئی نسل پر تو رحم کریں!
اللہ کے لئے، نئی نسل پر تو رحم کریں!

  

میرے ننھے پوتے نے مجھ سے ایک فرمائش کرکے مجھے پریشان کر دیا اور میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ کورونا کی صورت میں جو ”عذاب“ دنیا پر نازل ہوا، وہ جان لیوا تو ہے، لاکھوں لوگ متاثر اور مرنے والے بھی اسی تعداد میں شامل ہوگئے اور جو بچے ہوئے ہیں، وہ تنہائی کے عذاب میں مبتلا ہیں، گھروں میں رہنے اور لاک ڈاؤن پر عمل کے حوالے سے اب اور بہت سے نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں، انہی میں ایک یہ بھی ہے، جس کی طرف میری توجہ میرے پوتے کی معصومانہ خواہش نے دلا دی۔ محمد اشعر چودھری تین سال کا ہونے والا ہے اور اب (ماشاء اللہ) خوب باتیں کرتا اور نئی جنریشن کا ہونے والا ثبوت بھی مہیا کرتا ہے۔ گھر میں بچے اس کی سالگرہ منانے کے حوالے سے بات کرتے ہوں گے۔

گزشتہ روز ننھا معمول کے مطابق میرے کمرے میں آیا کہ اسے قرنطینہ کی پابندی تورنے کے حقوق حاصل ہیں۔ اس نے آتے ہی کہا ”دادا ابو! آپ بڑی پھوپھو سے کہیں وہ میری برتھ ڈے پر خود آ جائیں کہ ہم تو باہر نہیں جا سکتے“ بچے کا یہ سوال میرے لئے صدمے اور چونکا دینے کا باعث ہے، گھر میں میرے کمرے میں الگ ٹی وی ہے اور میں زیادہ تر خبریں سنتا اور ”ٹاک شوز“ دیکھتا ہوں۔ اخبارات کا مطالعہ ای پیپرز سے موبائل کے ذریعے کرنا ہوتا ہے کہ صنعت پر بُرے وقت نے اخبارات والی سہولت بھی ختم کر دی ہوئی ہے۔

اس لئے خبروں کے لئے اب زیادہ بھروسہ اسی برقی ذریعے پر ہے۔ ننھا محمد اشعر صبح سے شام تک اسی کمرے کے چکر لگاتا رہتا ہے کہ لاک ڈاؤن اور وائرس کے چکر میں اس کا بھی گھرسے نکلنا بند ہے کہ ہم سب مجبوراً ”حفاظتی قید“ میں ہونے کے باعث باہر نہیں جاتے اور اگر کسی ضرورت کی وجہ سے جانا ہو تو بچے کی ضد کے باوجود اسے ساتھ نہیں لے جا پاتے۔ دوسرے کمرے میں جسے ٹی وی لاؤنچ بنایا گیا ہے، الگ ٹیلی ویژن ہے، اس پر سارا دن المباشر (عربی) چینل چلتا ہے۔ گزشتہ برس میرا صاحبزادہ عاصم چودھری اپنی اہلیہ اور اس بچے کے ساتھ عمرہ ادا کرکے آیا تھا، چنانچہ وہ خانہ کعبہ کے منظر والی ویڈیو سامنے آتے ہی پکارتا ہے، ”اللہ کا گھر“ یوں گھر میں دن بھر تلاوت ہو تو برکت ہوتی ہے، تاہم میرا یہ پوتا چونکہ کافی وقت میرے کمرے میں کھیلنے میں گزارتا ہے اس لئے اسے خبریں اور ٹاک شوز کی جھلک بھی ملتی ہے جبکہ ہم سب بھی اسے باہر جانے سے روکنے کے لئے یہی سمجھاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہے۔ گھر سے نکلنا منع ہے۔ ہمارے لئے یہ معمول ہے لیکن گزشتہ روز اس کے معصومانہ سوال نے میرے سامنے بھی وہ سوال لاکھڑا کیا، جس کی طرف اور بھی لکھنے والے متوجہ کرتے ہیں، خصوصاً ہمارے کرنل (ر)غلام جیلانی خان کا تو موضوع ہی یہ ہوتا ہے اور وہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مثالیں لا کر ملکی ذرائع ابلاغ کے طرز صحافت کو زیر غور لاتے رہتے ہیں۔ ان کا انداز فکر اپنا اور قابل غور ضرور ہے، لیکن میں ایک بزرگ سینئر پیشہ ور صحافی ہونے کی حیثیت سے اپنا انداز فکر رکھتا ہوں۔

مجھے بھی زمانہ حال اور الیکٹرانک میڈیا کے طرز صحافت کے حوالے سے اختلاف ہے اور میرے اپنے تحفظات ہیں، جو خالص پیشہ ورانہ بھی ہیں، تاہم میرے پوتے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جب سے کورونا کی وبا شروع ہوئی۔ ہمارے نشریاتی اداروں کے پاس خبروں اور ٹاک شوز کے لئے موضوعات ہی ختم ہو چکے اور صبح سے رات سوتے وقت تک بھی اگر آپ یہ نشریات دیکھتے رہیں تو آپ کو کورونا کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور یہ سب خبریں اور ٹاک شوز بھی معمول والے ہی ہوں گے کہ کتنے مزید متاثر ہوئے اور کتنے وفات پا گئے اور دنیا بھر میں پھیلاؤ کی کیا صورت حال ہے۔ یہ سب مسلسل چل رہا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو انتباہی اشتہارات سرکاری اور غیر سرکاری چلتے ہیں، ان کا موضوع حفاظتی تدابیر ہوتا ہے۔ اب تو متعدد صابن کمپنیاں میدان میں ہیں جو حفاظتی ہدایات کی روشنی میں اپنی مصنوعات کی پبلسٹی کرتی ہین اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ”کورونا وائرس“ پھیلا ہی ان مصنوعات کی فروخت کے لئے ہے۔ ظلم خدا کہ تلقین بھی یہی ہے کہ بار بار صابن سے ہاتھ دھوؤ اور بیس سیکنڈ تک ہاتھ ملتے رہو(ہاتھ ملتا محاورہ بھی ہے) یوں نہ صرف صابن زیادہ استعمال ہوتا ہے بلکہ پانی بھی زیادہ بہتا ہے، اب ذرا ان دیہات اور علاقوں کا اندازہ لگا لیں، جہاں صابن اس طرح دستیاب نہیں اور پانی کی بھی قلت ہے۔ کیا وہاں یہ وائرس جانیں لیتا رہے گا؟

ذرا موضوع سے ہٹ گیا ہوں، ذکر تھا، بچے کی ذہنی، نفسیاتی کیفیت کا جو ہمارے نشریاتی اداروں کی وجہ سے ہے اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو ہم بالغ حضرات بھی نفسیاتی مریض ہو کر رہ جائین گے۔ یہ درست ہے کہ ہم نے کتابوں سے ناتا جوڑا ہے تاہم جو کتابیں ہمارے پاس ہیں وہ بھی موضوع کے لحاظ سے ذرا ”ثقیل“ ہیں کہ دینی مسائل، عالمی کیفیت اور دیگر ملکی سیاسی، معاشی حالات ہی سے متعلق ہیں یہ جو ہم کبھی کبھار ڈائجسٹ کا چٹخارہ لے لیتے تھے تو کراچی سے لاہور آنے والے یہ جریدے ذرائع آمد و رفت کے تعطل کی وجہ سے نہیں آ رہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ میں خود متاثر ہو چکا ہوں اور اس ننھے بچے کے شعور نے الگ سے دہلا دیا ہے، اب تو میں خود بھی زیادہ وقت ٹی وی بند رکھنے اور مطالعہ یا دفتری امور نمٹانے میں وقت گزارتا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ متاثر ضرور ہوں، اس لئے اب اپنے ان نشریاتی اداروں کے ارباب بست و کشاد اورکچھ اپنے ساتھیوں سے گزارش مقصود ہے کہ براہ کرم، قوم پر اور آئندہ نسل پر رحم کریں اور اپنے فارمیٹ اور پروگراموں پر نظرثانی کریں، خبروں کے تسلسل کو زیر غور لائیں اور رحم فرما کر انداز تبدیل کریں۔ یہ درست کہ یہ بڑا مسئلہ ہے، لیکن کیا صرف یہی ایک خبر رہ گئی ہے؟آخر کار پرنٹ میڈیا بھی تو ہے۔ذرا نظر ڈالیں تو تنوع مل جائے گا، اس لئے مہربانی فرما کر غور فرمالیں۔

قارئین! لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے، لیکن میں بھی فکر مند ہو گیا ہوں، لاک ڈاؤن نے یقیناً پریشان کر دیا ہے لیکن مجموعی رویہ بھی پریشان کن ہے۔ ہم مسلسل کنفیوژن کا شکار ہیں اور کوئی مستقل لائحہ عمل طے نہیں کر پائے۔ ہر طرف کورونا کی پکار ہے اور اربوں کھربوں کی باتیں، جبکہ ہم مجبور اور لاچار ہیں، معذرت قبول فرمائیں اور آج اسی پر اکتفا کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم -