احساس پروگرام سے آگے بڑھ کر سو چیں

احساس پروگرام سے آگے بڑھ کر سو چیں
احساس پروگرام سے آگے بڑھ کر سو چیں

  

کسی قوم پر بھی جب امتحان کی گھڑی آتی ہے تو وہ خدا خوفی، جذبہ ایمانی اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ہی ان مسائل اور مشکلات پر قابو پا سکتی ہے، کیونکہ شب کے تاریک اندھیروں کو ہمیشہ احساس کی روشنی سے ہی مٹایا جا سکتا ہے، مگر اس کے لئے حقیقی جذبہ اور صاف نیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جن میں طیب اردگان کی اے کے پارٹی نے ترکی کو قرضوں کی دلدل سے نکال کر ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے اپنے ملک کو دُنیا کے صف اوّل کے ممالک میں شامل کردیا اسی طرح جرمنی اور برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ و برباد ہونے کے بعد بھی اپنی محنت اور لگن سے دوبارہ ایک طاقتور اور مستحکم ملک بن کر ابھرے۔ اسی طرح چین نے بھی ترقی اور کامیابیوں کا زینہ انہی رہنما اصولوں پر عمل کر کے طے کیا، مگر ان سب مثالوں میں قوموں کے مزاج اور لیڈر شپ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے پاکستان کو پے در پے مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے، کبھی کشمیر کا لاک ڈاؤن تو کبھی اپوزیشن کا احتجاج، کبھی اسلام آباد کا دھرنا تو کبھی ڈاکٹرز اور وکلا برادری کے جھگڑے کا المیہ، کبھی احتساب اور کبھی خود احتسابی، کبھی آئی ایم ایف کی اقساط کے مسائل تو کبھی معاشی ابتری کے مسائل

کبھی مہنگائی پر احتجاج تو کبھی طبعی سہولتوں پر شوراور اب کورونا اور اس کے معاشی اور معاشرتی مسائل حکومت پاکستان کا منہ چڑا رہے ہیں،مگر حکومت پاکستان بھی انتھک محنت سے ان مسائل سے نبرد آزما ہے اس کی ایک کڑی احساس پروگرام کا شروع کیا جانا ہے، جو کہ یقینا ملک میں ایک اچھی روایت ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس جیسا پروگرام پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی شروع نہیں ہوا، جبکہ اس سے قبل بے نظیر انکم سپورٹ سکیم موجود تھی اور سندھ حکومت آج بھی اسی نام سے احساس پروگرام چلا رہی ہے۔ پھر بھی یہ بات اس حد تک درست ضرور ہے کہ جس قدر شفا ف انداز سے احساس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے، کیونکہ حالیہ ہنگامی صورت حال میں عوام کا اس قدر خیال رکھنا حکومت کی جانب سے ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ حکومت کسی حد تک پورے احساس اور جدوجہد سے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی سر توڑ کوشیش کر رہی ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال تب دیکھنے میں آئی کہ جب احساس پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم میں نہ کوئی وزیر شریک ہوا اور نہ ہی کو ئی مشیر تصویریں بنواتا نظر آیا جو کہ کورونا کے خوف سے تھا یا خوف خدا سے، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے بہر کیف قابل ِ تعریف ہے۔

اب حکومت وقت کو کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیروزگاری، مہنگائی اور غربت کا تدارک کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ چند دن سے وزیراعظم کی ایک ذاتی ویڈیو سو شل میڈیا پر عام ہوئی کہ جس میں وہ بہت کرب اور تکلیف میں دیکھائی دئیے،جو شاید جہاں افسوسناک ہے وہاں بہت خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کو کوئی درد دِل رکھنے والا حکمران ملا ہے، مگر کاش کہ اسی طرح کی ٹیم بھی مل جاتی تو پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ میرے کانوں میں قائداعظم کے وہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ“مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے“ تو خان صاحب گھبرانے کی ضرورت ہر گز نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اس قوم پر اللہ کی رحمتیں سایہ فگن ہیں وہ قرآن کی آیت یاد کریئے کہ جس میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ“ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ تو شکر ادا کیجیے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اللہ نے پاکستان کو ہمیشہ رہنے کے لئے بنایا ہے اِن شاء اللہ اس مشکل کے ساتھ بھی اللہ نے یقینا کوئی آسانی رکھی ہے، جس کا ہمیں ادراک نہیں ہے۔ آپ اپنی کوشیش کیجیے اور باقی کام اللہ پر چھوڑ دیجئے۔

بس اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو احساس پروگرام سے تھوڑا آگئے بڑھ کر سوچنا چاہئے اس مشکل گھڑی میں کہ جب پوری دُنیا کی حکومتیں اپنی عوام کو مختلف نوعیت کے ریلیف فراہم کر رہی ہیں وہاں حکومت پاکستان کو بھی کم و بیش اسی طرح کا ریلیف اپنے عوام کو دینا چاہئے، کیونکہ اس موقعہ پر پیسہ نہیں عوام کو بچانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو احساس ریلیف فنڈ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اگر اس مد میں حکومت کے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں،جو کہ کو ئی اچنبھے کی بات نہیں تو کسی دوسری مد میں مختص کئے گئے فنڈز کو عوام کی مدد کے لئے استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اب جب بات احساس کی ہے تو اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کو سفید پوش طبقے کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو اپنی خود داری اور عزت کا برہم رکھتے رکھتے ٹوٹتے جا رہے ہیں وہ نہ تو کسی لسٹ میں ہیں اور نہ ہی اْن کا کوئی پرسانِ حال ہے یہ طبقہ خاص طور پر نہ تو اپنی پریشانی کسی کو بتا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کے سا منے ہاتھ پھیلا سکتا ہے ان میں بہت سے صحافی، چھوٹے دکاندار، گورنمنٹ اور پرائیویٹ ملازمین، اساتذہ، وکیل، پنشنرز اور وہ سب بابو صاحب شامل ہیں جو کریڈٹ کارڈز اور دوست احباب سے قرضہ لے کر اپنی عزتِ نفس بچانے میں مصرف ہیں یہ لوگ ان مشکل حالات میں صرف خدا کے سہارے زندہ ہیں۔ن کا احساس بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اگر حکومت ان مسا ئل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو صرف تین مہینوں کے لئے بجلی، پانی اور گیس کے بل معاف کر دینے چاہئیں اور ان پر سبسڈی دینی چاہئے تاکہ غریب اور لاچار لوگ ان حالات میں زندہ رہ سکیں، لیکن اگر ایسا بھی ممکن نہیں تو ان تین مہینوں کے بلوں کو ایک سال کی آسان اقساط میں وصول کر لیجئے۔ اس کے علاوہ اشیاء خوردونوش کی خرید و فروخت، سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، مٹی کے تیل، ڈیزل اور پیڑول پر ٹیکس کم یاختم کر دینا چاہئے۔ تاکہ عوام چند مہینوں کے لئے ہی سہی سکھ کا سا نس لے سکیں۔

ملک و ملت اس وقت سنگین ترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت حکومت کو نا صرف اندرون ملک پاکستانیوں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے،بلکہ جو پاکستانی دبئی، سعودی عرب، قطر وغیرہ میں رہتے ہیں ان میں سے بہت سے خاندان لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں ان میں سے بہت سے افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ان کا احساس بھی ضروری ہے۔ ذرا بھر برطانیہ،امریکہ، سپین، فرانس، جرمنی اور اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کا جائزہ لیجیے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ بھی بہت سی مشکلات کے شکار ہیں۔ ان کی حکومتوں کی طرف سے جو ریلیف پیکیجز عوام اور کاروباری حضرات کو دیئے گئے ہیں اس کی وجہ سے ابھی تک تو ان ممالک میں مالی طور پر حالات کنٹرول میں ہیں، مگر ان ممالک میں پاکستانی اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھا نے میں دن رات مصروف ہیں ان کو اپنی میتوں کو دفنانے جیسے مسائل درپیش ہیں۔

حکومت پاکستان کو فوری ان مسائل کو حل کر نے کی کوششیں کرنی چاہئے۔ اگر بیرون ملک رہنے والے پاکستانی حکومت سے درخواست کریں تو اُن کے پیاروں کی میتوں کو عزت اور تکریم سے پاکستان لانے کا بندوبست کرنا چاہئے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ملکوں میں موجود سفیر وں کا رویہ بہت حد تک قابل ِ مذمت ہے۔ ان کو تو انسانیت دور دور سے بھی چھو کر نہیں گزری ان میں سے کسی ایک سفیر نے بھی اوورسیز پاکستانیوں کے غم کی گھڑی میں ہمدردی کا ایک فقرہ تک ادا نہیں کیا اور مدد اور ہمدردی تو بہت دور کی بات ہے۔اِس وقت سب سے زیادہ پاکستانی نیویارک اور نیو جرسی میں کرونا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہے ہیں، مگر امریکہ میں پاکستانی ایمبیسی کا رویہ اُتنا ہی سفاکا نہ ہے کہ جس طرح دُنیا کے دوسرے ممالک میں ہے۔

کیا حکومت صرف بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم اور امداد کی وصولی کرنے تک محدود ہے یا پھر ان محب وطن پاکستانیوں کی ملکی خدمات کے عوض کچھ عملی طور پر بھی کرئے گی۔ اگر یہ سفیر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمدردی کے دو بول ہی ادا کر دیں اور مَیں سمجھتا ہوں دیگر اچھی روایات کی طرح اس کا آغاز بھی جنابِ وزیراعظم کی طرف سے ہونا چاہئے اور پھر پوری دُنیا میں موجود پاکستانی سفیروں کو ایک قدم آگے بڑھ کر متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرنی چاہئے اور پوری دُنیا میں موجود پاکستا نیوں کے لئے 24گھنٹے ہیلپ لائن کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ بیرون ملک بسنے والے پاکستا نی اپنے آپ کو بے یارو مدد گار محسوس نہ کریں۔ حکومتی سفیروں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ بیرون ملک بسنے والے زیادہ تر پاکستا نی اپنے قریبی رشتہ داروں سے دور تنہا بیرون ملک محنت و مشقت کر کے اپنے وطن میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور اگر اُن پر اس وقت کٹھن وقت ہے تو ان کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تنہا ہیں۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے حکومت وقت کے لئے کہ وہ بیرون ملک اْن کو سفیر بنائیں جو اس قابل ہوں اور اُن میں اہلیت ہو کہ وہ ملک کا نام روشن کر سکیں۔ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کو ایک انجمن کی طرح اکٹھا کریں،کیونکہ بات تو ہے صرف احساس کی اور خدا سے دُعا ہے کہ وہ حکومت کے ہر فرد میں وزیر اعظم جیسا احساس پیدا کر دے اور اس چینی اور آٹا مافیا سے ملک کی جان ہمیشہ کے لئے چھوٹ جائے۔ امین

مزید :

رائے -کالم -