سمارٹ لاک ڈاؤن کس چڑیا کا نام ہے؟

سمارٹ لاک ڈاؤن کس چڑیا کا نام ہے؟
سمارٹ لاک ڈاؤن کس چڑیا کا نام ہے؟

  

جب نشتر ہسپتال ملتان کے ینگ ڈاکٹرز کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے کیسوں کا ذکر کر رہے تھے، تو ان کی آنکھوں میں نمی واضع طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ صرف اپنی سلامتی کے خوف میں مبتلا نہیں تھے بلکہ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ یہ وباء بے قابو ہو گئی تو مریض کہاں جائیں گے ڈاکٹرز کیسے علاج کریں گے۔ انہوں نے بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے ڈاکٹروں کی طرح یہی مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن مزید سخت کیا جائے، حکومتوں کی اس ضمن میں کمزوری اور فیصلہ نہ کر سکنے کی صلاحیت نے کورونا وبا کے پھیلاؤ کو یقینی بنا دیا ہے جس دن یہ پریس کانفرنس کی گئی اسی دن ملک میں کورونا سے 29 ہلاکتیں ہوئیں، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ کیا ڈاکٹرز غلط کہہ رہے ہیں یا واقعی حکومتوں نے اپنی بے بسی کا عملی مظاہرہ شروع کر رکھا ہے۔

پنجاب تو سب سے بازی لے گیا ہے۔ ہر شے کھلی نظر آتی ہے۔ سڑکیں گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے بھری ہوئی ہیں، بازاروں میں رش ہے، بڑے بازار اور مارکیٹیں بند ہیں لیکن 80 فیصد تو کاروبار چھوٹے علاقوں میں ہوتا ہے، وہاں سب کچھ کھلا ملتا ہے۔ پولیس کو نجانے کیا ہوا ہے، آنکھیں بند کر کے گزر جاتی ہے، ظاہر ہے حکومت کی طرف سے غیر اعلانیہ نرمی کر دی گئی ہے۔ کیا یہ مناسب فیصلہ ہے، کیا سب دیکھ نہیں رہے کہ کورونا کے کیسوں اور اموات میں بتدریج تیزی آتی جا رہی ہے، پھر یہ سب کچھ کس لئے کیا جا رہا ہے کیا واقعی حکومتیں یہ چاہتی ہیں کہ کورونا نے جس تیزی سے بڑھنا ہے ایک بار بڑھ جائے پھر اس کے بارے میں سوچیں گے۔ عجیب و غریب صورتحال ہے، جس کی کمی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔

اب یہ سمارٹ لاک ڈاؤن کس چڑیا کا نام ہے؟ کیسے ہوگا اور اس کے فوائد و نقصانات کیا ہوں گے۔ یہ کس ذہن رسا کی ایجاد ہے ایک ایسے ملک میں جہاں لوگوں کو سیدھی بات بھی مشکل سے سمجھ آتی ہو، وہاں انہیں سمارٹ لاک ڈاؤن کی ترکیب میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ کیا سمارٹ لاک ڈاؤن یہی تو نہیں جو آجکل نظر آ رہا ہے، ہر چند کہیں کی ہے نہیں ہے، والی صورت حال جیسا۔ لغت میں دیکھیں تو سمارٹ کے کئی معانی ملتے ہیں۔ ایک معانی ذہین و چالاک کے بھی ہیں، یہ چالاکی اور ذہانت حکومت کسے دکھا رہی ہے۔ ہمارے عوام کو تو صرف پولیس کا ڈنڈا سمجھ میں آتا ہے باقی نصیحتیں، باتیں اور محاورے ان کے پلے نہیں پڑتے۔ کراچی میں پولیس سمارٹ لاک ڈاؤن سے آگے کے کام کر رہی ہے، تو وہاں کچھ بہتری دکھائی دے رہی ہے، دو چار سو کو روزنہ حوالات میں بند کرتی ہے، ڈبل سواری پر چالان کئے جاتے ہیں، گویا انفورسمنٹ کی کوئی رمق موجود ہے، مگر ہم کیا کر رہے ہیں۔ یہ پنجاب میں سارا زور اس نکتے پر کیوں مرکوز ہو گیا ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، خود وفاقی حکومت ہر روز اربوں روپے کے ریلیف پیکج نکال رہی ہے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی اور گورکھ دھندہ تو شروع نہیں۔ اس وقت ریلیف کی ضرورت ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن سب سے اہم کام کورونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

اگر آپ اربوں روپے کے امدادی پیکیج منظور کر رہے ہیں تو پھر سخت لاک ڈاؤن کا کڑوا گھونٹ کیوں نہیں بھرتے۔ اُلٹا سمارٹ لاک ڈاؤن کی لایعنی اصطلاح ایجاد کر کے سارے ملک کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سارے اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ کورونا کیسوں کی تعداد مقامی پھیلاؤ کی وجہ سے بڑھ رہی ہے، گویا یہ جو آزادی کے ساتھ میل جول جاری ہے اور بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے، اس نے اس وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا مشیر برائے صحت فرماتے ہیں کہ جہاں اس وبا کے شواہد ملیں گے وہاں سخت لاک ڈاؤن کر دیں گے۔ ابھی کل ہی یہ خبر چھپی ہے کہ پنجاب میں کورونا کیسوں کی تعداد کم ظاہر کرنے کے لئے ٹیسٹوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ یہ دھوکہ کسے دیا جا رہا ہے۔ اگر اسی طرح آنکھیں بند کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تو خدانخواسطہ ایک دن یہ عقدہ کھلے گا کہ تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہو چکی ہے۔ پھر کہاں کہاں سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔ مریضوں کو کس جگہ رکھا جائے گا۔

ہمارے ارباب اختیار کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ ملک کی 80 فیصد آبادی کورونا کی وجہ سے نفسیاتی مریض بنی جا رہی ہے۔ لوگوں میں ایک خوف ہے۔ وہ جلد از جلد اس وبا سے چھٹکارا چاہتے ہیں، وہ دوبارہ اپنی معمول کی زندگی میں لوٹ جانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں مگر جس طریقے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، اس سے تو یہ خواہش مستقبل قریب میں پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک بار کرفیو جیسا لاک ڈاؤن نافذ کر کے کورونا ٹیسٹوں کی تیس چالیس ہزار تک روزانہ تعداد بڑھا کر اس وائرس کی اصل حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے، چین کی بہت مثالیں دی جاتی ہیں کہ اس نے اس وباء کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے، لیکن چین نے جو کیا ہم وہ کرنے کو تیار نہیں، زندگی بھی اپنی پوری توانائی سے چلتی رہے اور کورونا بھی ختم ہو جائے، یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہمیں زندگی کو روکنا پڑے گا۔

ہمارے عوام میں اتنا شعور نہیں کہ وہ اس وبا کی تباہ کاری سے آگاہ ہو سکیں، ہم یورپ یا امریکہ نہیں کہ جہاں لوگ خود گھروں میں محبوس ہو گئے۔ آسٹریلیا جیسے ملک میں تین دن کے بعد دو گھنٹے کے لئے ضروریات زندگی کی اشیاء خریدنے کے لئے باہر آنے کی اجازت ہے۔ ہم عجیب گنگا بہا رہے ہیں صرف ٹی وی پر اربابِ اختیار کا روزانہ بیان چل جاتا ہے کہ عوام گھروں میں رہیں تاکہ کورونا پر قابو پایا جا سکے۔ ہمارے عوام ایسی باتیں کہاں سنتے ہیں، وہ تو یہ دیکھتے ہیں کہ ہمسایہ باہر نکلا ہے تو ہم کیوں نہ نکلیں، اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکلیں، سماجی فاصلے کا خیال نہ رکھیں اور یہ توقع بھی کریں کہ ان میں سے پانچ، دس فیصد کورونا وائرس لے کر گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔

میں کل پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی یہ بات سن رہا تھا کہ حکومت یہ کوشش کر رہی ہے کہ پرائیویٹ لیبارٹریز کورونا ٹیسٹوں کی فیس کم کریں۔ وہ فیس کیوں کم کریں گی، انہوں نے تو اس لوٹ مار میں کروڑوں روپے کما لئے ہیں یہ کورونا ٹیسٹ عام خون یا پیشاب کے ٹیسٹ کی طرح پانچ سو یا ہزار روپے میں ہو جاتے تو لوگ شاید طبیعت خراب ہونے پر اس کے بارے میں سوچیں بھی، سات آٹھ ہزار روپیہ وہ کہاں سے دیں، سو نہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور نہ اندازہ ہو رہا ہے کہ کورونا پاکستان میں کس قدر پھیل گیا ہے۔ ہمارے پاس تو یہ اعداد و شمار بھی غیر حقیقی ہیں کہ ملک میں روزانہ کتنے لوگ کورونا سے مر رہے ہیں کیونکہ لوگ خوف کی وجہ سے یہ بیماری ظاہر ہی نہیں کرتے، لیکن ایک گھر میں کورونا سے اگر ایک مریض کی موت واقع ہو جائے تو وہ گھر ہی نہیں بلکہ پورا محلہ کورونا کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اس پر توجہ دینے کی کوئی پالیسی نظر نہیں آتی۔

غور کیا جائے تو کورونا کے حوالے سے ہم بحیثیت قوم بشمول حکومت کسی معجزے کے انتظار میں ہیں ہم یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک دن تھک ہار کر کورونا خود ہی پاکستان کے چلا جائے گا۔ میں پھر کہوں گا کہ پیش بندی کے حوالے سے سندھ حکومت ہی بڑے فیصلے کر رہی ہے۔ ایک بڑا فیصلہ یہ کیا ہے کہ رمضان المبارک میں مذہبی اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 21 رمضان المبارک کو حضرت علیؓ کا یوم وفات منایا جاتا ہے۔ اسی روز بڑے بڑے ماتمی جلوس نکلتے اور عزا داری کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ سندھ حکومت نے اس بار ان جلسوں اور اجتماعات پر پابندی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ابھی تک پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، کیونکہ اہل تشیع اس دن کو یوم سوگ کے طور پر مناتے ہیں مگر موجودہ حالات میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے اور جلوس کی صورت میں چلنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کورونا وبا کو پھیلنے کا ایک بڑا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس لئے اس سال یہ دن صرف گھروں میں رہ کر منایا جانا چاہئے تاہم سندھ حکومت نے اس کا سب سے پہلے اعلان کر کے پھر ایک بڑے فیصلے کے حوالے سے سبقت حاصل کر لی ہے۔ اس وقت ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ سمارٹ نہیں بلکہ بڑے فیصلے کئے جائیں تاکہ ایک بڑی تباہی کا سامنا کرنے سے بچ جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -