کیا سیکیورٹی اداروں میں کورونا کا کوئی کیس نہیں؟

کیا سیکیورٹی اداروں میں کورونا کا کوئی کیس نہیں؟
کیا سیکیورٹی اداروں میں کورونا کا کوئی کیس نہیں؟

  

جب سے پاکستان میں کورونا کی وبا پھوٹی ہے میرے ذہن میں کئی بار یہ خیال آیا ہے کہ افواجِ پاکستان اس سے کس سکیل پر متاثر ہوئی ہیں، کیا ہوئی بھی ہیں یا نہیں اور اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے، کیا ہماری افواج کا ڈسپلن اتنا کڑا اور موثر ہے کہ جس کی وجہ سے کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا؟ جب سویلین ڈاکٹر اور دوسرا پیرا میڈیکل سٹاف وائرس گزیدہ ہو چکے ہیں اور کئی ڈاکٹر صاحبان اس وبا سے جاں بحق بھی ہو چکے ہیں تو افواجِ پاکستان کے ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کا کچھ نہیں ہوا تو کیا یہ محض عنائتِ ایزدی ہے یا اس نقصان کو چھپایا جا رہا ہے تاکہ افواج اور سویلین آبادی کے مورال پر کوئی اثر نہ پڑے؟ میں نے کئی بار توقع کی ہے کہ کوئی ایسی خبر ہمارے کسی میڈیا پر بھی آئے جس میں بتایا گیا ہو کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس کورونا سے اب تک کوئی فوجی متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے لواحقین کو ایسا کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ لیکن ہر بار میں نے محسوس کیا ہے کہ ہر جگہ، ہر ملٹری اسٹیشن پر اور ہر یونٹ میں ”سب اچھا“ کی گونج سنائی دی ہے…… خدا کرے ایسا ہی ہو۔ لیکن پھر بھی نہ جانے مجھے یہ شک سا کیوں رہتا ہے کہ اگر ترقی یافتہ ممالک کی افواج (بری، بحری اور فضائی) کسی نہ کسی درجے پر کورونا کا شکار ہوئی ہیں تو افواجِ پاکستان کی صورتِ حال اتنی قابلِ صد رشک کیوں ہے۔

شمالی اوقیانوس کے خطے میں جو ممالک واقع ہیں، تقریباً سب کے سب ترقی یافتہ اور ماڈرن معاشرے ہیں اور ان کی افواج بھی اسی حساب سے ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کورونا کے شکار لوگوں کی تعداد خطہ ء شمالی اوقیانوس میں زیادہ کیوں ہے اور اس کے مقابلے میں جنوبی اوقیانوس کے ممالک میں کورونا وائرس حملہ آور ہوا تو ہے لیکن یورپ اور امریکہ سے کم سکیل پر ہوا ہے…… تو کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ یہ مغربی اور ماڈرن اقوام اس وائرس کی ہلاکت انگیزی سے ہماری نسبت کم خبردار تھیں؟

بادی النظر میں ایسا نہیں ہے۔ مغرب ہر لحاظ سے ہم سے زیادہ چوکس اور خبردار ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ان ترقی یافتہ مغربی اقوام کی افواجِ ثلاثہ بھی اس وائرس کا یکساں شکار ہوئی ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک امریکی طیارہ بردار (یو ایس ایس روز ویلٹ) کا عملہ اس کا شکار ہوا تھا۔ اس بحری جنگی جہاز کا کریو 5000افراد پر مشتمل ہے جس میں 1000کو جب ٹیسٹ کیا گیا تو نتیجہ Positive آیا۔ اور اسی لئے ان کو بحرالکاہل کے ایک امریکی جزیرے (گوام) پر جہاز سے اتار کر قرنطینہ کر دیا گیا۔ لیکن باقی 4000کریو کو بھی اس خطرے کا سامنا تھا اور جب اس جہاز کے کپتان نے حکامِ بالا کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا تو الٹا اس کو جہاز کی کمانڈ سے سبکدوش کر دیا گیا (اس آفیسر کا نام کیپٹن کروزیر ہے)۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ اس کپتان کو روز ویلٹ کی کمانڈ سے فارغ کرکے کسی اور جہاز کی کمانڈ دے دی گئی ہے۔ روز ویلٹ کے 5ہزار افسروں اور ملاحوں نے پینٹاگون سے احتجاج کیا تھا کہ کیپٹن کروزیر نے اگر سچ بولا ہے تو اس کی سزا اسے کیوں دی گئی ہے۔ یہ طیارہ بردار ابھی تک امریکی میڈیا کی ”توجہ“ کا مرکز بنا ہوا ہے اور پچھلے دنوں خبریں آ رہی تھیں کہ اسے تقریباً خالی کرکے Disinfect کرنے کے عمل سے گزارا جا رہا ہے…… یہ خبریں بھی مغربی میڈیا پر آتی رہی ہیں کہ روز ویلٹ کے علاوہ ایک اور امریکی طیارہ بردار نمٹز (Nimtz) کے عملے پر بھی اس وائرس نے حملہ کیا ہے۔

اس کے بعد گزشتہ دنوں (تین چار روز) پہلے (27اپریل کو) یہ خبر بھی مغربی میڈیا پر فلیش کی گئی کہ ایک امریکہ تباہ کن بحری جنگی جہاز پر بھی یہ وبا پھوٹ پڑی ہے اور اس تباہ کن کے 300افراد پر مشتمل عملے میں سے 50کو کورونا لاحق ہو چکا ہے۔ ان میں سے بعض افراد کو جہاز سے اتار کر کسی بندرگاہی فوجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے اور باقی کو عرشہء جہاز پر ہی Isolationمیں رکھا جا رہا ہے۔ اس جہاز کا نام کڈ (Kidd) ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کسی کو فی الحال وینٹی لیٹر پر نہیں ڈالا گیا۔ اب امریکی بحریہ کی طرف سے تازہ ترین یہ خبریں دی جا رہی ہیں کہ روز ویلٹ کے تمام عملے کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔یہ خبر بھی میڈیا پر آ چکی ہے کہ ایک پیٹی آفیسر (جونیئر کمیشنڈ آفیسر) جس کی عمر 41برس تھی اور جس کا نام رابرٹ تھیکر تھا اس وائرس کا شکار ہو کر 13اپریل کو انتقال کر گیا…… ظاہر ہے باقی کا وہ عملہ جو قرنطینہ میں ہے اس کا مورال بھی یہ سن کر ڈاؤن ہو چکا ہوگا۔

اور اس وائرس کا حملہ صرف امریکی بحریہ ہی پر نہیں بلکہ اس کی بری افواج بھی اس کا شکار ہو چکی ہیں اور اب تک 4000ٹروپس (جن میں آفیسرز اور دوسرے عہدیدار شامل ہیں) میں کورونا ٹیسٹ Positive آیا ہے۔…… اسی طرح ایک فرانسیسی طیارہ بردار ”چارلس ڈیگال“ کے عملے میں بھی اس وائرس کے آثار پائے گئے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار کے مقابلے میں یہ ایک چھوٹے سائز کا بحری جہاز ہے جس کا عملہ 1800افراد پر مشتمل ہے۔ اس میں سے 40افراد پازیٹو پائے گئے ہیں۔ یہ طیارہ بردار بھی جوہری ری ایکٹر سے چلتا ہے۔ فرانسیسی وزارت دفاع کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چارلس ڈیگال کو اب طولون کی فرانسیسی بندرگاہ میں ڈاک (Dock) کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز اسی سال جنوری میں بحیرہ روم میں بھیجا گیا تھا۔ وزارتِ دفاع تحقیقات میں مصروف ہے کہ گزشتہ چار ماہ میں یہ جہاز کہاں کہاں لنگر انداز ہوا اور کورونا کے جرثومے کیوں اور کس طرح جہاز کے عملے پر حملہ آور ہوئے۔ظاہر ہے سمندر میں تو عملے کے افراد کسی دوسری قوم کے افراد سے میل جول کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔.

سطور بالا میں کورونا وائرس کے حملوں کی جو جھلکیاں پیش کی گئی ہیں ان کی خبریں بین الاقوامی میڈیا پر آئے روز نشر کی جا رہی ہیں۔ لیکن ہمارا میڈیا وہاں کی صرف سویلین آبادی کی ضائعات ہی کو دکھاتا ہے۔ اگر امریکہ، برطانیہ، فرانس، سپین، ڈنمارک اور اٹلی کے شہروں میں روزانہ سینکڑوں مرد و زن اس وائرس کا شکار ہو کر مر رہے ہیں تو ان ممالک کی افواج کس طرح ان حملوں سے بچ سکتی ہیں؟…… اگر یہ ترقی یافتہ ممالک اپنی افواج کی اتلافات (Casualties) کا برملا تذکرہ کر رہے ہیں تو کیا سبب ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی افواج میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا…… اس مکمل نیوز بلیک آؤٹ سے دو نتیجے ہی اخذ کئے جا سکتے ہیں …… ایک یہ کہ واقعی ہماری افواج پر اس وائرس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ”سب اچھا“ کی رپورٹ قابلِ اعتماد ہے…… یا دوسرے یہ کہ کسی نہ کسی سکیل پر ہماری افواج پر بھی یہ وائرس حملہ آور ہوا ہے اور ہم جان بوجھ کر اسے پوشیدہ رکھ رہے ہیں کہ مبادا فوج کے مورال پر اثر پڑے…… مجھے اتنا معلوم ہے کہ جونہی یہ وائرس پاکستان میں شروع ہوا تھا اور لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تھا، ہماری افواج نے ہر طرح کی رخصتیں (Leaves) ختم کر دی تھیں۔ جو ٹروپس چھٹی پر تھے جب وہ واپس آئے تھے تو ان کو باقاعدہ ایک قرینطائی عمل سے گزارا گیا تھا(اور گزارا جا رہا ہے) اور یہی وجہ ہے کہ افواجِ پاکستان کورونا وائرس سے تقریباً محفوظ و مامون ہیں …… الحمدللہ!

قارئین گرامی! یہ سطور تحریر کرتے ہوئے میرے پیشِ نظر ایک ہی مقصد رہا کہ اپنے اس شک کو دور کروں جو بار بار ذہن کے دروازوں پر دستک دے کر کہہ رہا ہے کہ اگر پاکستان کی سویلین آبادی، احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہی یا ایسا کرنے میں لاپروائی یا کسی کوتاہی کا شکار ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی اثر تو ہماری افواج ثلاثہ پر بھی پڑ رہا ہو گا…… جب ڈاکٹر ظفر مرزا ٹیلی ویژن پر آکر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں، جب جنرل افضل میڈیا پر آکر اپنے ادارے کی کارگزاری کے سلسلے میں قوم کو بریف کرتے ہیں تو کیا آئی ایس پی آر کی طرف سے کوئی سینئر فوجی ڈاکٹر (مثلاً سرجن جنرل یا کوئی اور)میڈیا پر آکر فوج کی تینوں سروسز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دے سکتا کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں فوج کی کسی یونٹ (بحری، بری اور فضائی تینوں سروسز شامل) میں کوئی ایسا مریض منظر عام پر نہیں آیا جو Positive ہو؟…… اور اگر آیا ہے تو متعلقہ ہیڈکوارٹر اور افسرانِ بالا اس ٹرینڈ کو ایڈریس کرنے کی کیا سعی کر رہے ہیں؟…… اب جبکہ جنرل عاصم سلیم باجوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی تعینات ہو چکے ہیں تو ان سے میری گزارش ہو گی کہ وہ اس طرف توجہ فرمائیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ فوج کی ہائر کمانڈ کی طرف سے اس موضوع پر لب کشائی کی اجازت ہے یا نہیں کیونکہ ہمارا ”ٹاکرا“ ایک ایسے دشمن سے ہے جو ان کرونائی ایام میں بھی اپنی مذموم ہندوتوا کی حرکاتِ رذیلہ سے باز نہیں آتا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارا ISPR ڈائریکٹوریٹ آج اس موضوع پر اپنی قوم کو اعتماد میں لے اور چھ سات لاکھ فوج کی صحتِ عامہ کا کوئی ہفتہ واری خلاصہ پیش کرنے کا اہتمام کرے تو انڈیا بھی فوراً یہی کچھ کرے گا!……

اور نہ صرف افواج پاکستان بلکہ سیکیورٹی کے دوسرے اداروں (رینجرز، سکاؤٹس، ملیشیا، پولیس) کے بارے میں بھی پاکستانی عوام کو جانکاری دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری افواج اور سیکیورٹی کے دوسرے اداروں کے افسروں اور جوانوں کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی اس موضوع کی بریفنگز میں شامل کی جانی چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -