بھارت میں مذہبی آزادیوں کو شدید خطرات ہیں،زاہد محمود

بھارت میں مذہبی آزادیوں کو شدید خطرات ہیں،زاہد محمود

  

لاہور(پ ر) مرکزی علماء کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی،مرکزی وائس چیئر مین مولانا عبید الرحمن ضیاء،مولانا یار محمد عابد،پیر جی خالد محمود قاسمی،حافظ محمد شعبان صدیقی،حافظ شعیب الرحمن قاسمی،مولانا عبد المنان عثمانی،مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا محمد شاہ نواز فاروقی،مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا حافظ محمد امجد،مولانا خالد محمود سرفرازی،مفتی حفظ الرحمن بنوری،حافظ محمد طیب قاسمی، علامہ حفیظ الرحمن کشمیری،میاں محمد طیب ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں مذہبی آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔بھارت کی جانب سے بنایا گیا شہریت قانون مذہبی آزادی خصوصی طور پر مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے صریحاً خلاف ہے۔ بھارتی حکومت نے اقلیتوں کیخلاف تشدد کی اجازت دی۔بھارت کے ہتک آمیز اقدامات بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کے منافی ہیں۔بھارت میں انتہاء پسند ہندو جماعت آر ایس ایس اوربی جے پی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلا رہی ہیں۔ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو کرونا وائرس کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت چلنے والی مہم کے نتائج انتہائی مہلک ہو سکتے ہیں۔ چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پہلی بار بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔بھارت نے مسلمانوں کیخلاف انتہاپسندی،تشدد پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔ مودی حکومت عالمی دنیا کی توجہ اپنے سیاہ کارناموں سے ہٹانے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر کشیدگی بڑھارہی ہے اور جنونی کارروائیوں کے ذریعے پاکستانی حدود میں شہری آبادی کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -