ایف بی آر کے3لاکھ 10ہزار سے زائد آڈٹ کیس داخل دفتر

ایف بی آر کے3لاکھ 10ہزار سے زائد آڈٹ کیس داخل دفتر

  

اسلام آباد(آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد آڈٹ کیس داخل دفتر کر دئے، یہ کیس ان نادہندگان کے تھے جو 2014سے 2017کے درمیان بروقت ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس سلسلے میں جمعے کے روز ایف بی آر نے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔ ایف بی آر کے اس فیصلے سے افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ آڈٹ کیسز انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 214ڈی کے تحت خودکار طور پر منتخب کیے گئے تھے۔ایف بی آر نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن کیسز میں اس کے پاس تھرڈ پارٹی انفارمیشن اور سابقہ ڈکلیریشنز سے میچ کرتا ڈیٹا نہیں ہوگا، ایسے کیسز بند کردیے جائیں گے۔ سیکشن 214ڈی کے تحت منتخب کیے گئے آڈٹ کیسز کو بند کرنے کے لیے ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی شق 214E متعارف کرائی تھی۔ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ 31 دسمبر 2018 تک رضاکارانہ طور پر اپنے ریٹرنز پر نظرثانی کریں اور 25فیصد اضافی ٹیکس ادا کرکے اپنے کیسز ختم کرالیں۔ مگر ایف بی آر اس معاملے پر پیشرفت نہیں کرسکا اور 6 لاکھ سے زائد کیسز کھلے رہے۔

داخل دفتر

مزید :

پشاورصفحہ آخر -