عبد الولی خان یونیورسٹی کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا

عبد الولی خان یونیورسٹی کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا

  

مردان (بیورورپورٹ)عبد الولی خان یونیورسٹی کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین کو اپریل کی آدھی تنخواہیں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یونیورسٹی کے پروو وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق نے یونیورسٹی کے سٹاف کے نام ایک خط میں یونیورسٹی کے مالی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہاہے کہ یونیورسٹی کے پاس اس ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے رقم موجود نہیں ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے لازمین کو آدھی تنخواہ دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کا مالی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور بی اے اور ایم اے کے امتحانات کے التواء اور طلبا کی جانب سے سمسٹر فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یونیورسٹی شدید مالی بحران کی شکار ہے۔انہوں نے اس ضمن میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور صوبائی حکومت سے گرانٹ کے لئے رابطہ کیا ہے۔یاد رہے کہ پروو وائس چانسلرڈاکٹر ظہور الحق ماضی میں یونیورسٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور ان سے قبل برطانیہ سے خصوصی طور پر طلب کر کے یونیورسٹی کے وائس چانسلر تقرر کی جانے والے ڈاکٹر خورشید اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے جا چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خورشید نے جاتے جاتے اپنے پرسنل سٹاف اور منظور نظر فیکلٹی ممبران کو جن کی تعد اد تین درجن کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے کہ نوازنے کے لئے انہیں اضافی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات سے بھی نوازا لیکن اب یونیورسٹی کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی فنڈز دستیاب نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے پروو وائس چانسلر نے چند دن قبل طلباء کو سمسٹر فیس جمع کرانے کی ہدایت کی تھی لیکن والدین نے یونیورسٹی کے اس فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انہیں ایک طرف مالی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ طلباء پر فیس جمع کرنے کا دباؤ ڈال رہی ہے جو کہ انتہائی نامناسب ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے طلباء کے مختلف سکالر شپس کے فنڈز بھی انتظامیہ نے تنخواہوں میں دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ طلباء پر حصول علم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔طلباء کے والدین نے یونیورسٹی کے تباہی کے ذمہ دار افراد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یونیورسٹی مالی بحران کی شکار تھی لیکن اعلیٰ حکام نے اپنوں کو نوازنے کے لئے انہیں یونیورسٹی کے خرچ پر بیرون ملک سکالر شپس تقسیم کی۔یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خورشید جن کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی تھی نے جاتے جاتے یونیورسٹی کو مالی طورپر شدید نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے272ملازمین کو بھی بغیر کسی شوکاز نوٹس کے نکالنے کے ساتھ ساتھ اپنے شہ خرچیوں میں بھی کمی نہیں لائی اور انہیں صوبے کے تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر سے زائد تنخواہ اور مراعات حاصل تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -