”لوگ نہیں جانتے 8 فروری 2017ءکی رات کیا ہوا تھا، 9 فروری کو میچ میں کیا ہوا، کھلاڑیوں کے فون کس طرح پاکستان لائے اور 12 فروری کو کھولے گئے، بیٹس اور ان کی گرپس کیسے صاف کی گئیں“

”لوگ نہیں جانتے 8 فروری 2017ءکی رات کیا ہوا تھا، 9 فروری کو میچ میں کیا ہوا، ...
”لوگ نہیں جانتے 8 فروری 2017ءکی رات کیا ہوا تھا، 9 فروری کو میچ میں کیا ہوا، کھلاڑیوں کے فون کس طرح پاکستان لائے اور 12 فروری کو کھولے گئے، بیٹس اور ان کی گرپس کیسے صاف کی گئیں“

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ فکسنگ پر انکوائری رپورٹس میں گڑبڑ کئے جانے کی تاریخ ہے، فکسنگ پر کرمنل ایکٹ بن جائے تو پی سی بی کے عہدیداروں کی اکثریت سلاخوں کے پیچھے ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے عمر اکمل پر 3 سال پابندی عائد کئے جانے کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے کرپٹ کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کیلئے قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور سابق کرکٹر رمیز راجہ اس میں پیش پیش ہیں جس پر راشد لطیف کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے جنہوں نے چند ایسی پریشان کن باتیں بھی ہیں کہ ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہو جائے۔

راشد لطیف نے کہا کہ فکسنگ پر انکوائری رپورٹس میں گڑبڑ کئے جانے کی تاریخ ہے اور جس کے ہاتھ میں اختیار ہو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، اسی لئے ہم قانون بنانے کی بات کرتے ہیں،فکسنگ پر کرمنل ایکٹ بن جائے تو پی سی بی کے عہدیداروں کی اکثریت سلاخوں کے پیچھے ہوگی اور تب معلوم ہو گا کہ اصل میں کرپٹ کون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ فاسٹ باﺅلر محمد عرفان اور آل راﺅنڈر محمد نواز کا نام لیتے ہیں لیکن کیا کسی کو معلوم ہے کہ انہوں نے کب اور کیوں رپورٹ کی؟ اور کتنے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے رپورٹ ہی نہیں کیا، میرے پاس ویڈیوز ہیں لیکن میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ پاکستان میں بہت بڑا تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔

راشد لطیف نے کہا کہ ہر کسی کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ 8 فروری 2017ءکی رات کو کیا ہوا تھا یا 9 فروری کو میچ کے دوران کیا ہوا تھا، کھلاڑیوں کے فون کس طرح پاکستان لائے اور 12 فروری کو کھولے گئے،17 فروری کو کیسے بیان لے گئے، بلوں اور ان کی گرپس کیسے صاف کی گئیں؟

مزید :

کھیل -