”آج اونچی آواز میں قانون سازی کی باتیں کرنے والوں نے خود یہ کام کیوں نہیں کیا، محمد عامر کو سٹار کیوں بنایا“

”آج اونچی آواز میں قانون سازی کی باتیں کرنے والوں نے خود یہ کام کیوں نہیں ...
”آج اونچی آواز میں قانون سازی کی باتیں کرنے والوں نے خود یہ کام کیوں نہیں کیا، محمد عامر کو سٹار کیوں بنایا“

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق فاسٹ باﺅلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ کسی کھلاڑی کو 10 سال جیل کی سزا اور جائیداد ضبط ہو تو دوسروں کو کرپشن کی جرات نہیں ہو گی، 1995ءسے یہ سلسلہ چل رہا ہے ، لوگ میچ فکسنگ کرتے ہیں اور واپس بھی آ جاتے ہیں لیکن آج اونچی آواز میں قانون بنانے کی بات کرنے والوں نے اس وقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے۔ 

تفصیلات کے مطابق شعیب اختر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور لیگل ٹیم کی نالاقی ہے کہ ابھی تک فکسنگ کرنے والوں کیخلاف کرمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کیلئے قانون سازی نہیں کرائی جا سکی۔ اگر فکسرز کو جیل بھیجنے یا جائیداد ضبط کرنے کا قانون ہو تو کھلاڑیوں کے ذہن میں ایک خوف ہوگا، ان کو اندازہ ہوگا کہ کوئی گڑبڑ کی تو10سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزریں گے، دیگر ملکوں میں فکسنگ کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں، 1995ءسے یہ سلسلہ چل رہا ہے، لوگ میچ فکسنگ کرتے ہیں اور واپس بھی آتے جا رہے ہیں۔یہ پی سی پی اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کی نالائقی ہے کہ کرمنل ایکٹ بنانے کیلئے قانون قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا۔ میرا سوال ہے کہ محمد عامر کو واپس کیوں بلایا؟ سلمان بٹ اور محمد آصف کیلئے الگ رویہ کیوں رکھا گیا؟ محمد عامر کی واپسی کیلئے اپنے پورے سسٹم کو دھکا دیا اور اسے سٹار بنا دیا گیا لیکن پھر اس نے ہی آپ کو دھکا دیدیا، اگر کسی کو دوسروں کی عبرت کیلئے مثال بنایا ہوتا تو شاید یہ سلسلہ رک گیا ہوتا۔

شعیب اختر نے کہا کہ آج جو بڑی اونچی آواز میں فکسرز کو جیلوں میں ڈالنے کی باتیں کرتے ہیں، ان لوگوں نے یہ فیصلے اس وقت کیوں نہیں کئے جب خود پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو یا چیئرمین تھے، سچ تو یہ ہے کہ فکسنگ کرنے والوں کو چھپایا گیا، بورڈ کی وجہ سے لوگوں کو بچایا اور واپس لایا گیا، یہ لوگ پھر پاکستان کیلئے بھی کھیلے، آج تک کرکٹرز یہی سمجھتے ہیں کہ فکسنگ کر لو، 6 ماہ کی پابندی کا وقت گزارو، پھر شرجیل خان کی طرح واپس آ جاﺅ، جب تک اس طرح کے قوانین ہوں گے یہ سلسلہ رکنے والا نہیں، آج عمراکمل تو کل کسی اور کا نام سامنے آئے گا۔ شعیب اختر نے کہا کہ تاخیر سے رپورٹ کرنے کے جرم میں عمر اکمل کو زیادہ سزا ہوئی، انہوں نے اپیل کا فیصلہ بھی کیا ہے لیکن خدشہ یہی ہے کہ مڈل آرڈر بیٹسمین کو ڈرا دھمکا کر منا لیں گے۔

مزید :

کھیل -