آٹا، چینی اور آئی پی پیز کے معاملے کی تحقیقات۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت دیگر کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

آٹا، چینی اور آئی پی پیز کے معاملے کی تحقیقات۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز ...
آٹا، چینی اور آئی پی پیز کے معاملے کی تحقیقات۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت دیگر کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے آٹا، چینی اور آئی پی پیز سے متعلق تحقیقات پر کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور اس معاملے کی تحقیقات فائلوں کی نظر نہیں ہوگی،حکومت ذمہ داروں کو سزا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

 نجی ٹی و ی سےگفتگوکرتےہوئےسینیٹرشبلی فراز  نےکہاکہ حکومت  آٹا،چینی اورآئی پی پیز معاملے کی تحقیقات فائلوں کی نظر نہیں ہونے دے گی، کورونا کی وجہ سے فرانزک آڈٹ میں تاخیر ہوئی ہے، اسے لیے تین ہفتوں کا مزید وقت دیا گیا ہے،حکومت ذمہ داروں کو سزا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔وفاقی کابینہ میں تبدیلی سے متعلق شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم نے کیا ہے کیونکہ وہ کپتان ہیں۔اس موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا فردوس عاشق اعوان کو انکوائری کے نتیجے میں ہٹایا گیا؟ تو اس پر شبلی فراز نے کہا کہ انہیں فردوس عاشق کے خلاف انکوائری کا علم نہیں، فردوس عاشق اعوان کے خلاف 10 فیصد کمیشن لینے کی خبریں بھی چلیں، کسی کے خلاف افواہ پھیلا دینا درست بات نہیں ہے، اس معاملے پر جو کچھ بھی ہوگا سامنے آجائے گا۔اپنی بات کے دوران 18ویں ترمیم کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر سنجیدگی کی سطح تک کوئی بات نہیں ہو رہی، 18ویں ترمیم سمیت کسی بھی موضوع پر بحث ہوسکتی ہے، جب آپ چاہتے ہیں کہ بحث نہیں ہوسکتی تو مطلب آپ بہتری کے حق میں نہیں ہیں، لہذا اٹھارویں ترمیم سمیت کوئی بھی ترمیم ہو اتفاق رائے سے ہوگی، جو بھی بات ہو رہی ہے وہ بہتری کی بات ہورہی ہے، یہ موقف کہ اٹھارویں ترمیم پر بات ہی نہیں ہوسکتی درست نہیں ہے، اپوزیشن کے موقف سے اچھا پیغام نہیں جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک طرف لاک ڈاؤن کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب ایوان کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ حکومت دونوں اجلاس بلانے کے لیے کوشاں ہے، کورونا سے بچاؤ سمیت دیگر ایس او پیز پر غور ہورہا ہے، نیب قانون پر بھی اپوزیشن سے بات چیت جاری ہے، کوشش ہے کہ قانون ایسا ہو جو سب کو قبول ہو۔

مزید :

قومی -