لوگوں کے بال کٹوانے پر پابندی اور خود فلمیں بنانے کا شوق، جانئے دنیا کے عجیب ترین حکمران خاندان کے بارے میں

لوگوں کے بال کٹوانے پر پابندی اور خود فلمیں بنانے کا شوق، جانئے دنیا کے عجیب ...
لوگوں کے بال کٹوانے پر پابندی اور خود فلمیں بنانے کا شوق، جانئے دنیا کے عجیب ترین حکمران خاندان کے بارے میں

  

پیانگ یانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا کا حکمران خاندان گوں ناگوں وجوہات کی بناءپر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ اب برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے اس خاندان کی کچھ ایسی عجیب و غریب باتیں اپنی ایک رپورٹ میں بیان کر ڈالی ہیں کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ شمالی کوریا کے موجودہ حکمران کم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل کو اپنے ملک کا تشخص بین الاقوامی سطح پر ابھارنے کا بہت شوق تھا چنانچہ وہ ملک کی فلم انڈسٹری کو ترقی دینا چاہتے تھے لیکن اتنے پسماندہ ملک میں فلم ڈائریکٹر تلاش کرنا بہت بڑا چیلنج تھا۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ انہوں نے ایک فلم ڈائریکٹر کو اغواءکروا لیا اور اس سے فلمیں بنواتے رہے۔ اس ڈائریکٹر کا نام شن سینگ اوکے تھا۔ اس کے ساتھ اس کی اداکارہ بیوی شیو ایون ہی کو بھی اغواءکیا گیا۔ اس میاں بیوی نے اغواءہونے کے بعد کم جونگ اِل کے مطالبے پر 6فلمیں بنائیں جن میں سے ایک کا نام ’پولگاراسی‘ (Pulgarasi)تھا۔ یہ فلم گاڈ زیلا سے متاثرہو کر بنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کم جونگ اِل خود بھی رومانوی کامیڈی فلمیں ڈائریکٹ اور پروڈیوس کرتے رہے۔ کم جونگ اِل کی لائبریری میں 20ہزار سے زائد فلمیں تھیں جس سے ان کے فلموں سے متعلق شوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اخبار نے شمالی کورین حکمران خاندان کی دوسری عجیب و غریب حرکت یہ بیان کی ہے کہ انہوں نے پاخانے سے بھرے ہوئے غباروں کے ساتھ جنوبی کوریا پر حملے کیے۔ ایسا ایک حملہ 2016ءمیں کیا گیا۔ اس حملے میں سینکڑوں غباروں میں پاخانہ اور دیگر گندگی بھر کر فضاءمیں چھوڑ کر جنوبی کوریا بھیجے گئے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے ان غباروں کو پکڑ کر کھولا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ان میں کوئی کیمیائی ہتھیار ہوں گے لیکن ان میں سے پاخانہ اور دیگر گندگی نکلی۔2015ءمیں شمالی کورین حکومت نے ملک بھر کے سکولوں میں اساتذہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ تمام بچوں کو بتائیں کہ کم جونگ ان نے تین سال کی عمر میں کار چلانا سیکھ لی تھی اور انہوں نے کشتی کی ریس میں 9سال کی عمر میں ایک انجن والی کشتیاں بنانے والی کمپنی کے مالک کو ہرا دیا تھا۔ بچوں کو یہ باتیں سکھانے کا مقصد پراپیگنڈا کرنا اور کم جونگ ان کو قوم کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرنا تھا۔2014ءمیں فیشن کے حوالے سے کم جونگ ان نے طلبہ کے بال کٹوانے پر پابندی لگوا دی تھی اور انہیں نصاب میں فیشن پڑھانے کا بھی حکم دے گیا تھا جس میں انہیں ہیئرکٹنگ بھی سکھائی جاتی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -