ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ ساتھ 

ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ ساتھ 
ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ ساتھ 

  

 نارووال کے قریب ظفروال سے درمان کی طرف بہت خوبصورت علاقہ ہے، جس کی اپنی ایک تاریخ ہے اس کا کلچر باقی علاقوں سے مختلف ہے لوگ محنتی ہیں اس علاقہ کی مشہور ادبی شخصیات زیڈ اے سلہری، وارث سرہندی، راجندر کمار بھارتی اداکار کے علاوہ تقسیم ِ ہند سے قبل دیوآنند بھی اسی علاقہ سے ہندوستان گئے۔ درمان سے 12 کلو میڑ کے فاصلہ پر ورکنگ باؤنڈری ہے یہاں چیک پوسٹ سے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر بابا مرلی مروڑ کا مزار ہے، جو قیامِ پاکستان سے پہلے کا ہے اس کے نام کی وجہ تسمیہ معلوم نہیں ہو سکی اس دربار کے جانشین کو بھی پتہ نہیں ہے پاکستانی چیک پوسٹ کے اس پار بھارتی افواج کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ہم باؤنڈری لائن سے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر کھڑے یہ سوچ رہے تھے کہ وہاں چند فرلانگ کے فاصلہ پر پہاڑوں کے پرے ہمار ے مسلمان کشمیری کس حالت میں زندگی کے رات دن گزارتے ہیں، گندم کی کٹائی جاری تھی اور کسان  اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اسی سٹرک کے ساتھ والی سٹرک پر چلتے جائیں تو زیڈ اے سلہری کا گاؤں ہے جسے ہم عبور کرکے اس سرحدی علاقہ تک پہنچے تھ

ے درمان میں لکھاری نسیم درمانوی  دوپہرکے کھانے کے بعد جموں ہاؤس بھی لے گئے یہا ں سے میاں رشید ہمارے پرانے دوست کئی بار آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبر منتخب ہوے اب ان کے بیٹے ایم ایل اے ہیں، نواز شریف کے دور میں ان کی بہو بھی ایم این اے رہی ہیں اور وہ بھی کئی بار ایم پی اے اور مشیر رہ چکے ہیں اسی سڑک پر مڑارہ شریف بھی ہے، جہاں سے پیر سعید الحسن شاہ اب صوبائی وزیر ہیں اور آزاد منتخب ہو کر پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ ابرارالحق چیئرمین ہلال احمر پاکستان کا گاؤں بھی یہاں سے چند کلو میڑ کے فاصلہ پر ہے میاں رشید کا جموں ہاؤس امردو پاپیتا سٹرابری، لوکاٹ اور دیگر پھلوں سے ڈھکا ہواہے، جو خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا یہاں سے 10کلومیڑ کے فاصلہ تک پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی ورکنگ باؤنڈری بڑا بھائی گاؤں تک ہے۔ آشوک بٹالوی ایس ایم طفر سید ہاشم شاہ فیض احمد فیض کے دیہات بھی اس سرحدی علاقہ کے قریب واقع ہیں۔ یہ مقبوضہ کشمیر کی پٹی بڑا بھائی سے ہیڈ مرالہ کے قریب سے گزتی ہوئی سراے عالمگیر کے پاس سے چلی جاتی ہے، نارووال کے علاقے بدوملہی نور کوٹ شکر گڑھ اور کرتار پور پاک بھارت سیکٹر کے قریبی دیہات میں شمار ہوتے ہیں۔

سوار محمد حسین شہید بھی1971ء کی پاک بھارت جنگ میں شکر گڑھ سیکٹر میں شہید ہوے تھے 2017ء میں اس شہید کی یاد گار تعمیرہوئی جو کہ ہرڑر خورد شکر گڑھ جنوبی مشرق میں مورچہ کے ساتھ ہے اسی خطہ نے بڑے سیاست دان بھی پیدا کئے ہیں اب یہ پسماندہ علاقہ نہیں رہا،بلکہ سڑکوں کا جال بچھ گیا ہے۔

 چودھری انور عزیز کی سیاسی زندگی بھی اپنی مثال آپ تھی، حال ہی میں ان کا انتقال ہوا، قومی اور بین الاقومی سطح پر سیاست اور ملکی امور میں ان کا اہم کردار رہا، ہم طالب علم تھے جب ان کے جلسے دیکھنے کا موقع ملا ان کا تقریر کرنے کا انداز بھٹو جیسا تھا اور ان کی ذہانت اور سوچ کا لیول بھی ان جیسا تھا ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور آخری دم تک ان سے رابطہ رہا دانیال عزیز ان کے فرزند اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ احسن اقبال نے نارووال کو ترقی یافتہ علاقہ بنانے میں اہم کردار کیا ہے، وہ سیاست دان کے علاوہ ٹیکنو کریٹ بھی ہیں۔اس علاقے میں ایس ایم طفر اور ابرارالحق جیسے سماجی لوگوں کے گاؤں بھی شامل ہیں نارووال کے دیہات نور کوٹ، کرتار پور، اخلاص پور، بڑا بھائی، جسڑ سرحدی علاقے ہیں۔

 قلعہ احمد آباد بھی جنگی ڈیفنس کے حوالے سے اہم ہے، اس کے نزدیکی گاؤں جسیتی والہ میں ایک جنگل ہے،جو کہ جنگی ایام میں بہت اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہاں سے دہتم اور نونار کی دفاعی سڑک انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔ اس دفاعی جنگی سڑک کی تعمیر کرنی ہو گی۔وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا اور آئے روز ادھر سے ظلم وستم کی داستانیں سننے کونہیں ملیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -