روزہ، سائنس اور انسانی صحت !

روزہ، سائنس اور انسانی صحت !
روزہ، سائنس اور انسانی صحت !

  

انسان اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی ایسی گری ہوئی حرکتیں کرتا ہے جس کے تصور سے روح تک کانپ جاتی ہے۔آج دنیا میں جو بیماریاں وجود میں آرہی ہیں، ان میں سے بیشتر انسان کی اپنی پیدا کردہ ہیں۔ نیکی  بدی،پاکی ناپاکی، حلال حرام کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے انسان بہت سی بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  " ہر بیماری کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار، یعنی مغفرت طلب کرنا ہے   ……اس لیے یہ کہنا کہ کسی بیماری کی دوائی ایجاد نہیں ہوئی، یہ انسان کی کم علمی کی نشانی ہے۔ 

رمضان المبارک اپنی رحمتوں، شفقتوں، نعمتوں اور اپنی مکمل کرم نوازیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، اگر انسان اس مقدس مہینے کو اس کی روح کے مطابق گزارے تو وہ کینسر سمیت بہت سی  بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے معاشرے پر بھی خوشگوار اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔اس حوالے سے کوئی لمبی چوڑی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔ احتیاط صرف یہ ہے کہ سحری اور افطاری میں سادہ غذا استعمال کریں، جسم کو مکمل طور پر پاک صاف رکھیں،  حرام  چیزوں سے بچیں، نماز پنجگانہ سمیت تراویح کا اہتمام کریں، توبہ و استغفار سمیت ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن مجید کثرت سے کریں، مرغن غذاؤں سے مکمل اجتناب کریں۔ رحمت، مغفرت اور آگ سے آزادی کے عشرے کی دعائیں اور درود شریف کثرت سے پڑھیں، صدقہ و خیرات کثرت سے کریں۔ غریبوں، مسکینوں اور بیماروں کا خیال رکھیں۔ آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کا عہد کریں۔ اللہ رب العالمین کے حضور افطاری سے قبل، خاص طور پر تہجد بالخصوص آخری عشرے کی طاق راتوں میں  قیام اللیل کے دوران اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی گڑگڑا کر معافی طلب کریں اور پھر رحمت خداوندی کا نزول اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں۔ آج تو سائنس بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ روزہ بے شمار بیماریوں کا علاج ہے۔

رمضان المبارک کے پہلے ہی روز سے جسم بھوک کا عادی ہوناشروع ہو جاتاہے، اس طرح سال بھر مصروف رہنے والا نظام ہضم سکون محسوس کرتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت ہے، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سفید جرثوموں اور قوت مدافعت میں اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے، ساتھ ہی روزے دار کے پھیپھڑوں میں سے زہریلے مادوں کی صفائی کاعمل شروع ہو جاتا ہے، اس کی انتڑیوں کی مرمت کا کام شروع ہوجاتاہے۔ انتڑیوں کے اندر جمع شدہ مواد ڈھیلا ہو کر زائل ہونے لگتا ہے۔

سولہویں سے بیسویں روزے تک روزے دار کا جسم پوری طرح بھوک، پیاس اور برداشت کاعادی ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ خودکوچست، چالاک اور چاق وچوبند محسوس کرتا ہے۔ان دنوں اس کی زبان بالکل صاف، شفاف اور سرخی مائل ہوجاتی ہے۔ اسے سانس میں تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے جسم سے زہریلے مادوں کاخاتمہ ہو چکا ہوتا ہے۔نظام ہضم درست ہوچکا ہوتاہے، جسم سے فالتو چربی اورفاسد مادوں کا اخراج ہوچکا ہوتاہے۔ اب آپ کا بدن اپنی پوری طاقت کیساتھ اپنے فرائض اداکرناشروع کردیتاہے۔

بیسویں روزے کے بعد اس کی برداشت اور یادداشت تیزہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی توجہ اورسوچ کو مرتکز کرنیکی صلاحیت بڑھ جاتی ہے، اس طرح اس کا بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کوبھرپوراندازسے اداکرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے سے بے پناہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی بھلائی کے لئے ہی روزہ اس پرفرض کیا، دوسری جانب دیکھئے رحمت الہٰی کا اندازِ کریمانہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات ماننے سے، اللہ تعالیٰ نے روزہ دار کی دنیاوی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت سنوارنے کا بھی بہترین بندوبست کردیا ہے۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

  جزاکم اللہ خیرا ًکثیرا

مزید :

رائے -کالم -