ضیاشاہد کی رخصت اور امتنان شاہد کا امتحان

ضیاشاہد کی رخصت اور امتنان شاہد کا امتحان
ضیاشاہد کی رخصت اور امتنان شاہد کا امتحان

  

برادرم ضیا شاہد کی رخصت نے اہل ِ صحافت کو سوگوار کر کے رکھ دیا ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے یہ سانحہ ہوا ہی نہیں،اور ابھی کہیں سے ضیا شاہد اپنے مخصوص لہجے میں باتیں کرتے کسی موڑ پہ پھر آن ملیں گے۔دل بار بار کہتا ہے کہ وہ شخص یہیں کہیں ہے،بس ذرا نظروں سے چھپ گیا ہے۔دل کے بھی اپنے ہی مسائل ہیں،اسے جتنا چاہے سمجھا لیں یہ نہیں سمجھتا،سمجھتا ہے تو اپنے وقت پرجب اسے یقین آجائے کہ دوائے درد دل بیچنے والے اپنی دکان بڑھا گئے،اب عمر بھر اسی دردِ لادوا کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ضیا شاہد کے ساتھ میرا عجیب سا تعلق تھا،جھگڑے اور محبت کا بیک وقت تعلق۔ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ جب آپ کسی شخص کے ساتھ ناصرف جھگڑتے ہیں بلکہ مسلسل جھگڑتے ہیں تو اس کے باوجودوہ آپ کے لیے منفی جذبات نہیں پالتا۔ایسے کتنے لوگ ملیں گے جن سے آپ جی بھر کے جھگڑا کریں،لیکن جب دوبارہ ملیں تو یوں ملیں کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔مجھے ضیا شاہد کی اس خوبی نے ہمیشہ سرپرائز دیا،اس نے مجھے ہمیشہ حیران کر کے رکھ دیا،کہ یہ کیسا انسان ہے جس کے ساتھ دشمنی کا بھی اپنا وقار ہے۔جب جب ایسا اتفاق ہوتا تب تب یہ ضرب المثل یاد آتی کہ بے وقوف دوست سے دانا دشمن کہیں بہتر ہے۔لیکن ضیاشاہد،دشمن تو کبھی تھے ہی نہیں۔ہمیشہ دوست بن کے ہی ملتے رہے،رنجش اور شکایت رکھی بھی تو ہم جیسے لوگوں نے جو معاملہ فہمی میں ضیا شاہد سے کہیں چھوٹے تھے۔ 

ضیا شاہد کی شخصیت کا یہی ایک روشن پہلو نہیں تھا بلکہ ان کے ترش اور تلخ لہجے میں بھی نصیحت چھپی ہوتی تھی۔میں نے ان کے جانے کے بعد جس دوست سے بھی اس بابت مکالمہ کیا،یہی سننے کو ملا کہ ضیا شاہد دل کے برے نہیں تھے۔عام آدمی تھے،عام سے گھر میں پیدا ہوئے۔وراثت میں ہمت اور حوصلے کے سوا کچھ نہیں ملا تھا،جو کمایا اپنی محنت اور ہمت سے کمایا۔جس شعبے کا انتخاب کیا اس کا عروج دیکھا اور ایسی بلندی پہ پہنچایا جہاں اب کسی دوسرے کا پہنچنا شاید ہی ممکن ہو سکے۔میں ضیا شاہد کا اگرچہ نقاد رہا ہوں لیکن ان کی تحریروں اور طرز ِ صحافت کاہمیشہ معترف رہا۔مجیب الرحمٰن شامی کے علاوہ یہاں کوئی بھی نہیں جو اس پائے کا ہو جسے ضیا شاہد کے مقابل رکھا جا سکے۔یہاں اگر بطور منتظم خوبیاں بھی شمار کر لی جائیں تو ضیا شاہد کا پلڑا کہیں بھاری ہوگا۔بہرحال دونوں کی اپنی اپنی خوبیاں ہیں،موازنہ مقصود نہیں۔مقصدصرف اپنی صحافت کا نوحہ کہنا ہے کہ کوئی ایسا ملتا ہی نہیں جسے ان دونوں جیسا کہہ سکیں۔موجودہ صحافت میں اگر کہیں چند لوگ اب بھی بہترین کام کر رہے ہیں تو حیران کن طور پر ان میں اکثریت ضیا صاحب سے سیکھنے والوں کی ہے۔انہوں نے اس شعبے کو بہت کچھ دیا ہے،اتنا کہ شاید ہم سب مل کر بھی نہیں دے پائے۔

ضیا شاہد بڑے آدمی تھے،برگد تھے۔اور برگد کے نیچے اگنے والے پودوں کے بھی اپنے ہی مسائل ہوتے ہیں۔وہی مسائل جو برخوردار امتنان شاہد کے ہیں۔وہ ایک بڑے باپ کا بیٹا ہے،ایسے باپ کا بیٹا جس نے اپنے شعبے کو بام عروج دیا۔کو ئی اس جیسا نہیں تھا۔نہ اتنا کامیاب نہ اتنا محنتی اور نہ اتناکائیاں۔لوگ اسے رشک اور حسد،دونوں نگاہ سے دیکھتے تھے۔امتنان شاہد کا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس کااس شعبے کے مہا گرو سے موازنہ کر رہے ہیں۔امتنان شاہد کوبھی اب اسی دشت کی سیاحی کرنی ہے جس کے ذرے ذرے کو ضیا شاہد ازبر ہے۔یہ بڑا امتحان ہے، جس میں ناکامی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور کامیابی بھی آسانی سے ممکن نہیں۔اکثر بڑے لوگوں کی اولادیں ایسے موقعے پر ہار جاتی ہیں،ہمت چھوڑ دیتی ہیں لیکن امتنان ایسا نہیں۔میں اسے اگرچہ کم جانتا ہوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ چیلنجز سے کبھی ہار نہیں مانتا۔ایسے کاموں میں بھی ہاتھ ڈالتا ہے جہاں جھلس جانے کا ننانوے فیصد امکان ہو،وہ ایک فیصد پہ لڑتا ہے اور پھر جیت کر بھی دکھاتا ہے۔یہی وہ ہمت ہے جو دیواروں پہ اشتہار لکھنے والے ایک عام سے بچے کو ضیا شاہد بنا دیتی ہے۔ایسے بچے کو جس کے سامنے اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں تھی،جس نے کبھی ”ضیاشاہد“نہیں دیکھا تھا۔یہاں تو ذکر اس باہمت نوجوان کا ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی ضیا شاہد کو دیکھا۔جس کی تربیت ہی اس گھر میں ہوئی جہاں ہر سانس پہ ضیاشاہد کا ”ڈسپلن“نافذ تھا۔

ضیا شاہد کو گائیڈ کرنے والا کوئی نہیں تھا،امتنان کو ہر معاملے میں اس شخص نے گائیڈ کیا جو اپنے پیشے کی معراج پہ تھا۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ امتنان کے لیے راستہ کٹھن ضرور ہے،مسائل بھی بہت ہیں لیکن وہ ایساباہمت ہے جو ناکامی سے بھی کامیابی کشید کرلے۔اگرچہ اب میڈیا انڈسٹری کے حالات پہلے سے سازگار نہیں، ان کٹھنائیوں میں صحافت کا دیا جلانا اور اس کی لَو کو بچائے رکھنا بھی آسان نہیں۔لیکن امتنان ہار ماننے والا ہے ہی نہیں،وہ جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ شعور کو بھی رہنما رکھتا ہے جو اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔کم از کم میرا تجربہ یہی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان دونوں میں توازن رکھنے کی منزل پا لے تو وہ کبھی ہارتا نہیں۔میں امتنان شاہد کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں،خبریں اور چینل فائیو کو اس عروج پہ دیکھنا چاہتا ہوں جہاں اسے حقیقی معنوں میں ہونا چاہیے۔وہ یہ سب کر سکتا ہے اور یقیناًکرے گا بھی،کیونکہ اس نے بھی ضیا شاہد کی طرح ہار ماننا نہیں سیکھا۔فرق یہ ہے کہ جب ضیاشاہد اس شعبے میں آئے تھے تووسائل بھلے ہی کم تھے لیکن مقابلہ آسان تھا۔اور آج اگر وسائل ہیں بھی تو مقابلہ اتنا ہی مشکل ہے۔لیکن جیت کا مزہ بھی تبھی آتا ہے جب نہ تو حالات سازگار ہوں اور نہ ہی مقابل غافل ہو۔میں امتنان کے لیے دعا گو ہوں، جسے اب اپنی دنیا نئے سرے سے ترتیب دینی ہے۔جسے اب وہ کر دکھانا ہے جس کی امید اس سے ہر وہ شخص کر رہا ہے جس نے ضیا شاہد کا عروج دیکھا۔ہر وہ شخص جو امتنان کو اس عروج سے بھی دو ہاتھ آگے دیکھنا چاہتا ہے۔

اللہ رب العالمین امتنان کو کامیابی سے ہمکنا رکرے اور ضیا شاہد کے ادھورے خوابوں کو تعبیر دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -