ریاست مدینہ اور احترام مدینہ

  ریاست مدینہ اور احترام مدینہ
  ریاست مدینہ اور احترام مدینہ

  

 دل بہت دکھی اور مغموم ہے، آنکھیں ہیں کہ رہ رہ کہ نم ہوئی جاتی ہیں، سر ہے کہ مارے شرمندگی کے اٹھ نہیں پا رہا۔یہ ہم نے کیا ستم ڈھایا کہ حرم کے تقدس اور پاکیزگی کو   اپنی مکروہ سیاست پر قربان کرتے ہوئے لمحہ بھر بھی نہیں سوچا کہ ہم آخر  کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں  اپنی آواز کابے سبب اونچا کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتا ہے، جہاں کیسی کیسی برگزیدہ ہستیاں اپنی سانسیں روک کر  حاضری دیتی آ رہی ہیں، جس بارگاہ کے ادب پر اترنے و الی آیات قیامت تک کے لئے نافذ العمل ہیں، جہاں بڑے بڑوں کو ہمیشہ دم بخود احترام کرتے دیکھا گیا۔ جہاں آج بھی قدسیوں کی قطاریں سلامی کے لئے صبح و شام اترتی ہیں۔ جہاں نہ سورج کی شعاعیں اپنا طمطراق دکھاتی ہیں اور نہ ہی  ہوائیں تند و تیز ہو کر چلتی ہیں۔جہاں ماحول میں ایک  جھیل جیسا ٹھہراؤ ہے اور اطراف کے گوشے گوشے میں  قدرت کا ترتیب دیا گیا سبھاؤ ہمہ وقت  عکس ریز رہتا ہے۔ یہاں کبھی کسی نے "نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جاں " کی  بات  کی، کہیں "خطرہ ہے بہت سخت یہاں بے ادبی کا" لکھا گیا، کہیں "ذہن میں رکھ آیہء لا ترفعوا اصواتکم"کی تنبیہ کی گئی۔رب کائنات نے کتاب زندہ میں  ان لوگوں کو فرمایا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں کہ وہ معافی کے لئے  اس بارگاہ میں حاضر ہوں۔یہاں صدیوں سے بادشاہ بھی آتے ہیں اور فقیر بھی، امیر بھی آتے ہیں اور غریب بھی، نیک و پارسا بھی آتے ہیں اور خطا کار و گناہ گار بھی۔لیکن کسی پر یہاں آوازے نہیں کسے جاتے،   یہاں کسی کو دھتکارا نہیں جاتا، یہاں کسی  کی صدا پر بے توجہی نہیں برتی جاتی۔  آج کے کالم کی یہ سطریں کسی بھی طور سیاسی  پس منظر یا وابستگی کے تناظر  میں  نہیں بلکہ ایک کلمہ گو کی حیثیت سے تحریر کر رہا ہوں۔ مجھے افسو س ہر گز کسی ایسے شخص پر نہیں جس نے ا س مقدس سرزمین پر پہلے سے اپنے ورکروں کو ایسا کرنے کی باقاعدہ ترغیب دے رکھی تھی  بلکہ دکھ ان غلام ذہنیت لوگوں کا ہے جنہوں نے آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے ایمان کی بھی فکر نہیں کی۔ ہم واقعی  حقیقی غلام قوم ہیں جن کی کوئی اپنی  انفرادی سوچ اور زاویہ نظر نہیں ہے بلکہ جدھر کوئی ہانک کے لے جائے بغیر سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے نکل پڑتے ہیں۔اپنے سیاسی لیڈر کے نظرئیے کا پرچار کرنا اپنی جگہ ایک حد تک اہم ہو سکتا ہے لیکن اس کی بجا آوری میں آداب بارگاہ  رسالت اور تقدس حرمین کو پس پشت ڈال دینا ہماری ذہنی و فکری پستی کی  بدترین علامت ہے۔ہم واقعی ایک ایسا ہجوم ہیں جس کو کوئی بھی اپنی شعلہ بیانی سے  مشتعل کر کے موم کی ناک کی طرح  جس طرف چاہے موڑ سکتا ہے۔مدینہ کی یہی ریاست تھی جہاں دنیا کی سب سے جاہل، تند خو اور بداخلاق قوم آباد تھی لیکن جب انہیں واقعی ایک حقیقی قیادت میسر آئی تو یہی جہالت میں ڈوبا ہوا معاشرہ امن و سلامتی، تہذیب و اخلاق اور احترام آدمیت کا علمبردار بن گیا۔ساڑھے تین سال کے عرصے میں  ہم نے اپنی قوم کو یہ شعور دیا ہے کہ وہ بس آوازیں کسنے کے قابل ہو گئی ہے  اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھا جا رہا ہے کہ شائد قوم کا شعور بلند کر دیا گیا ہے۔کاش مولانا طارق جمیل صاحب اپنے سامنے بیٹھے ہوئے سامعین کو مدینے کی ریاست کے امیر کا وہ فرمان بتاتے کہ "جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ بھلائی کی بات  کہے یا خاموش رہے۔" ہم نے ایک ایسا مشتعل ہجوم تیار کر دیا ہے جس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو چکی ہے اور جو غور و فکر اور تدبر سے عاری ہو چکا ہے۔ہم پہلے مسلمان اور بعد میں پاکستانی ہیں۔ہماری دینی و مذہبی ذمہ داریاں پہلے اور ملکی و قومی بعد میں ہیں، اللہ اور اس کے رسولؐ پر کسی کا حکم مقدم نہیں ہو سکتا۔ہمیں اپنی حدود کے تعین اور اپنے طرز فکر کا جائزہ لیتے ہوئے  اپنی ترجیہات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔اس شرمناک واقعے کو نہ تو کوئی سیاسی لیڈر اپنی کامیابی تصور کرے اور نہ ہی اسے "وتعز و من تشا و تزل من تشا" کی آیت کے تناظر میں غلط انداز سے دیکھا جائے۔یہ  بحیثیت مسلمان اور من حیث القوم  ہر حوالے سے ہماری  بیمار نفسیات کی دلیل ہے جس کو درست سمت میں تربیت کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔ہم نے اگر بروقت اس کے لئے ٹھوس اور عملی قدم نہ اٹھائے تو ایک ایسی بے رہ روی کے گڑھے میں گرنے جا رہے ہیں جس سے کسی صورت نکل نہیں پائیں گے۔ریاست مدینہ کا ایک ہی بنیادی عنصر تھا کہ وہاں باہمی احترام ، محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے  وہ اس کی عملی تصویر بن کر سامنے آئی۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر طرح کی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کراپنی دینی اور قومی ذمہ داریوں کا تعین کرنا چاہئے۔کاش اللہ ایسی توفیق عطا فرما دے کہ اس کے ذمہ داران خود آگے بڑھ کر اپنے ورکروں اور فالوورز کو اس قبیح حرکت پر سرزنش کرتے ہوئے معافی مانگنے کا کہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی نے بہت اچھی بات کہی ہے کہ  " ریاست مدینہ کے قیام سے پہلے ہمیں احترام مدینہ سیکھنے کی ضرورت ہے "۔سیاسی مخالفین کا مقابلہ میدان  سیاست میں سیاسی داؤ پیچ سے کریں اپنے  کج فہم ورکروں کو بد تہذیب بنا کر نہیں۔نعت کا ایک شعر قارئین کی نذر کرنے کو دل چاہ رہا ہے:

یہ کج کلاہ تو اپنوں کے دل نہ جیت سکے 

ترے خلوص نے غیروں کا دل شکار کیا

مزید :

رائے -کالم -