سازش ۔۔۔ مگر کس کے ساتھ ؟ 

سازش ۔۔۔ مگر کس کے ساتھ ؟ 
سازش ۔۔۔ مگر کس کے ساتھ ؟ 
سورس: File

  

کپتان کو اقتدار سے ہٹانا سازش تھی یا بیرونی مداخلت؟ اس ضمن میں کچھ چیزیں سامنے آچکی ہیں، کچھ چیزوں کو آنے والا وقت پوری سچائی کے ساتھ کھول کے رکھ دے گا۔ جو لوگ اس بات سے انکاری ہیں کہ امریکہ نے دھمکی نہیں دی یا ان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب کرانے میں بیرونی مداخلت نہیں تھی، وہ تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں گے تو انہیں حقائق نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ ہمارے ہاں اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بذریعہ واشنگٹن ڈی سی ہی ہے۔ امریکہ جس گھوڑے پر ہاتھ رکھتا ہے اقتدار کی کاٹھی اسی کو باندھ دی جاتی ہے۔کونسا الیکشن ہے جسے شفاف قرار دیا جاسکے؟۔ کونسا ایسا سیاسی لیڈر ہے جو اقتدار کے حصول کے لئے اپنے آقا امریکہ کی تھپکی کا خواہشمند نہ ہو، سب کے سب ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور خدمت گزاری کے حوالے سے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر یقین دہانیاں کراتے ہیں ۔ وکی لیکس نے تو بڑے بڑے جبے کبے والوں کا بھی کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا تھا ، جن کے ںارے عقیدت کے کھونٹے سے بندے "بیلوں"کا خیال ہے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ایسا کیوں کرتے ہیں، وہ پاکستان کے وفادار کیوں نہیں، ان کی سیاست اپنے ملک کی خاطر کیوں نہیں، وہ قوم کے ساتھ کھڑا کیوں نہیں ہوتے؟۔ اس کا آسان اور سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستان پر جس نظام کو جمہوریت کہہ کر مسلط کیا گیا ہے حقیقت میں اس کا دور دور تک جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک مفاداتی نظام ہے جس کا لوگوں کے ساتھ محض اتنا تعلق ہے کہ وہ چند مفاد پرستوں کو ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچاتے ہیں، جو مڑکر ان کی خبرتک بھی نہیں لیتے۔ اقتدار تک پہنچنے کے بعد عوام کا استحصال کیا جاتا ہے اور اپنے مفادات حاصل کئے جاتے ہیں۔ جہاں آقا کو ضرورت پڑتی ہے حکمران جی حضوری کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایمل کانسی سے لے کر ریمنڈ ڈیوس تک پاکستان کی خود مختاری کا گلا گھونٹ کر آقا کی غلامی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی بے شمار داستانیں بکھری پڑی ہیں اگر کوئی سبق حاصل کرنا چاہے تو ان کا مطالعہ کرسکتا ہے۔ انہیں داستانوں کی بنیاد پر ایمل کانسی کیس میں امریکی وکیل نے کہا تھا کہ پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک بیچ دیتے ہیں۔ 

شاہ سے زیادہ شاہ کی اس وفاداری سے  دنیا بھر میں پاکستان کی بے توقیری ہوتی رہی، ملک کی عزت کو بیچنے والے نہ صرف اقتدار کے مزے لوٹتے رہے بلکہ بیرون ملک جائیدادیں بناتے رہے، اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ پاکستان آج جس معاشی بحران کا شکار ہے وہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں تو پیدا نہیں ہوا، اس کے پیچھے تیس سال کی لوٹ مار اور کرپشن موجود ہے، جسے دولہ شاہ کے چوہوں جیسے دماغوں والی ایک مخلوق گزشتہ ساڑھے تین سالہ کارکردگی کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ جو سیاستدان گزشتہ ساڑھے تین سال تک گلے پھاڑ پھاڑ کر مہنگائی، مہنگائی کا واویلا کرکے عوام کو گمراہ کررہے تھے آج اقتدار میں آنے کے بعد حقائق دیکھ کر ان کی زبانوں کو لقوہ مار گیا ہے، وہ اب اشاروں کنائیوں میں اقرار کررہے ہیں کہ مہنگائی کا اصل سبب کورونا کی وبا تھی جس نے بڑی بڑی مضبوط  معیشتوں کو دھول چٹا دی، پاکستان تو پھر تیسری دنیا کا ایک غریب ملک ہے، غریب بھی ایسا جس کی غربت کا سبب بدعنوان سیاستدان اور بڑے بڑے مافیاز ہیں۔ ہم توقع کررہے تھے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں مل کر اپنے تجربات کی روشنی میں ملک میں دودھ کی نہریں بہا دیں گی، چینی ، آٹا، گھی سستا کر دیں گی، پٹرول کی قیمت کو ستر روپے فی لٹر پر لے آئیں گی ، ڈیزل بھی سستا ہوجائے گا، بجلی کے نرخوں میں پچاس فیصد تک کمی آجائے گی لیکن یہ کیا ؟ ہمارے نئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل تو آئی ایم ایف کے آگے جا کر لیٹ گئے۔آئی ایم ایف کے جو مطالبات گزشتہ حکومت تسلیم نہیں کرپارہی تھی وہ سب کے سب مفتاح نے مفت میں تسلیم کرلئے۔ ڈالر چند روز نیچے آنے کے بعد پہلے سے بھی اوپر چلا گیا ہے، سٹاک مارکیٹ کا گراف دو تین دن تک دل کو لبھاتا رہا اب سرمایہ کار دل پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ آٹا، گھی دالوں کے نرخ ایک جگہ ٹکنے کا نام نہیں لے رہے، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے باوجود ماہ رمضان میں پاکستان کے مسلمانوں کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے،سحر و افطارہی نہیں نمازوں کے اوقات میں بھی بجلی کی  ایک گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ چار سال مسلسل بجلی کی فراہمی جاری رہی، لوڈشیڈنگ کا نام و نشان تک نہ تھا پچھلی حکومت کے جاتے ہی نجانے ایسا کیا ہوگیا کہ بدترین لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی، شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو یکم مئی تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ہدایت دے ڈالی ہے۔ اب خدا جانے ان کے ہاتھ کون سا الہ دین  کا چراغ لگ گیا ہے جس کا جن حکم کی تعمیل بجا لاتے ہوئے نیشنل گرڈ کا رابطہ کوہ قاف کے ساتھ جوڑے گا اور یکم مئی سے وہاں سے بجلی آناشروع ہوجائے گی جس سے بحران ختم ہوجائے گا۔ 

اب آئیے آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کی طرف ، اس سے  ملک میں مزید مہنگائی کا جو طوفان لائے گا اس سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے قیمتیں بڑھانے اور کاروباری ٹیکس ایمنسٹی ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے ملاقات میں سبسڈی ختم کرنے پر اتفاق اور بحران زدہ معیشت سے نمٹنے کے لئے سٹرکچرل اصلاحات پر عمل کرنے کا بھی عہد کیا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمران  سابقہ حکومت پر آئی ایم ایف کے حوالے سے شدید تنقید کرتے رہے اور  خود عنان اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے پہنچ گئی اور وہاں وہ تمام شرائط تسلیم کرلیں جنہیں سابقہ وزیر خزانہ شوکت ترین ماننے کو تیار نہ تھے۔  آئی ایم ایف سے پٹرولیم مصنوعات سے سبسڈی ختم کرنے اور قیمتیں بڑھانے کا عہد کرنا ایک طرف مہنگائی کے ایک بڑے طوفان کو جنم دے گا اوردوسری طرف کاروباری ٹیکس ایمنسٹی ختم کرنے سے کاروباری طبقہ میں شدید مایوسی کا سبب بنے گا۔ بیمار ملکی معیشت کے لئے پٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈی آکسیجن کے مترادف ہے۔اسے ختم کرنے کا مطلب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ 

موجودہ حالات میں اقتدار کسی صورت پھولوں کی سیج نہ تھا بلکہ کانٹوں کا بستر تھا، پی ٹی آئی سرکار کو مدت پوری کرنے دی جاتی تو شائد ان کے لئے اگلا الیکشن جیتنا مشکل ہوجاتا لیکن ان سے جس انداز سے اقتدار چھینا گیا، اس عمل نے پی ٹی آئی کو مظلوم بنا کر عوام میں کھڑا کردیا ہے، آئے روز اس کی مقبولیت کا گراف بڑھ رہا ہے۔ الیکشن فوری ہوں یا چھ ماہ بعد ، اب ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے حکومت میں شامل تمام کی تمام جماعتیں مل کر بھی اکیلی پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ اوپر سے بد سے بدتر ہوتے معاشی مسائل ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے کو دیکھ کر یہ بات تو درست لگتی ہے کہ سازش ہوئی ہے، مگر یہ سازش جانے والی حکومت کے ساتھ ہوئی ہے یا آنے والی کے ساتھ ؟ یہ وقت بتائے گا۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -