حافظ نذر احمد:قرآن کا خاموش مبلغ....(3)

حافظ نذر احمد:قرآن کا خاموش مبلغ....(3)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app





حافظ صاحب نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر ہمت باندھی اور تعلیم القرآن خط و کتابت سکول قائم کیا۔ یہ ادارہ آپ نے 1974ءمیں قائم کیا،جس کے قیام کی فوری تقریب یہ ہوئی کہ ایک مرتبہ ان کے ادارے شبلی کالج کے ایک طالب علم کے نام بائبل سوسائٹی کی طرف سے ایک خط آیا، جو اتفاقاً حافظ صاحب کی نظر سے بھی گزرا۔ انہیں کچھ تشویش ہوئی، پھر خطوط کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا، یہاں تک کہ ایک روز حافظ صاحب کے نام بھی ایک خط آ پہنچا، جس میں انہیں مسیحیت قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور اسی پر بس نہیں، کچھ ہی دنوں کے بعد عیسائی مبلغین ان کے گھر پر دستک دے رہے تھے۔ حافظ صاحب کو ان کی جرات اور جذبہ دیکھ کر خیال آیا کہ اگر عیسائی مبلغین ،جن کی کتاب تحریفات اور تضادات کا مجموعہ ہے، اس جرات اور لگن کے ساتھ اپنے مذہب کی دعوت دے سکتے ہیں تو ہمارے لئے یہ شرم کا مقام ہے کہ ہم اس زندہ کتاب کے حامل ہوتے ہوئے، جس کے بارے میں ناقدین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں کسی شوشے کی تبدیلی بھی نہیں ہوئی، نہ خود اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ دوسروں تک اسے پہنچانے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ 
اس کے بعد آپ نے تعلیم القرآن خط و کتابت سکول کے نام سے ادارہ قائم کرکے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی داغ بیل ڈالی، پھر آپ نے اس کا دائرہ پاکستان کی جیلوں تک بڑھایا، تاکہ یہاں پر محبوس قیدی اسلام کی اصلاحی تعلیمات سے روشناس ہوں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کر سکیں۔ سکول کے قیام کا ایک اور سبب بھی تھا۔ اس کا تذکرہ بھی اس جگہ ضروری ہے۔ انٹرویو کرنے والے کسی شخص نے آپ سے پوچھا: ” حافظ صاحب آپ کو تعلیم القرآن سکول قائم کرنے کا خیال کیسے آیا“؟ جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ ”وائس آف امریکہ“ کے حوالے سے امریکہ کی ایک جیل کے انچارج کا تذکرہ شائع ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میری جیل میں مافیا کے بدنام زمانہ مجرم قید کئے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کا ایک سرغنہ جس کا نام ایڈورڈز تھا، جیل میں لایا گیا۔ یہ شخص انتہائی خطرناک غنڈہ تھا اور صرف گالی کی زبان میں گفتگو کا عادی تھا۔ اس کے علاج کے لئے بڑے چوٹی کے معالجین امراض نفسیات کی خدمات حاصل کی گئیں، لیکن اس کی بددماغی اور بدزبانی میں کوئی فرق واقع نہ ہوا۔
 اس جیلر کا بیان ہے کہ ایک روز صبح جب مَیں معائنے کی غرض سے گیا تو اس نے بڑے شائستہ انداز میں مجھے گڈمارننگ کہا۔ اس کے رویے کی یہ تبدیلی میرے لئے انتہائی غیر متوقع اور ناقابل یقین تھی۔ مجھے اس کیفیت میں دیکھ کر اس نے بتایا کہ وہ اسلام قبول کر چکا ہے اور یہ تبدیلی اسی سبب سے ہے۔ بعد میں مجھے یاد آیا کہ ایک اپاہج لڑکے نے چند روز قبل اسلام کی تبلیغ کے لئے مجھ سے اجازت طلب کی تھی اور یہ سب کچھ اسی کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ مَیں نے اخبار میں جب یہ واقعہ پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ امریکی جیل میں اگر ایک غنڈہ اور بدمعاش اسلام کی بدولت اس حد تک بدل سکتا ہے تو پاکستان میں یہ کام کیوں نہیں ہو سکتا! چنانچہ مَیں نے فوراً اس سلسلے میں حکومت کے نام ایک مفصل درخواست داخل دفتر کی اور چھ ماہ بعد بالآخر مجھے جیلوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی اور اب الحمدللہ میں ہر جیل میں بلاروک ٹوک جا سکتا ہوں اور یہ اللہ کا خصوصی فضل ہے کہ حکومت نے میری درخواست قبول کرتے ہوئے یہ ضابطہ منظور کیا ہے کہ جو قیدی پانچ کورس مکمل کرے، اس کی سزا میں چھ ماہ کی تخفیف کر دی جائے گی“۔
حافظ صاحب کی مساعی رنگ لائیں۔ اس وقت پاکستان بھر کی جیلوں میں محبوس لاکھوں قیدی تعلیم القرآن خط و کتابت کورسز مکمل کر چکے ہیں۔ ان کی زندگیاں بدل چکی ہیں۔ حافظ صاحب مرحوم نے راقم پر یہ احسان فرمایا کہ مجھے فیصل آباد میں امتحان کا ممتحن مقرر کیا۔ اس جیل میں میری ملاقات ایک قیدی سے ہوئی، جو عمر قید کی سزا بھگت رہا تھا۔ وہ قرآنی آیات بڑی روانی اور تجوید کے مطابق پڑھتا تھا۔ قرآنی آیات سن کر میری دلچسپی بڑھی۔ مَیں نے استفسار کیا: ”تم نے قرآن کہاں سے پڑھا“۔ بولا: ”جیل میں“۔ مَیں نے حیرت کا اظہار کیا تو گویا ہوا: ”مَیں جیل میں آیا تو بالکل اَن پڑھ تھا۔ یہاں مَیں نے قرآن خط و کتابت سکول میں خود کو رجسٹر کرایا۔ قاعدہ پڑھا پھر قرآن .... یہی نہیں پھر سارا قرآن حفظ بھی کیا اور اسی سکول کی معرفت پورا درس نظامی بھی مکمل کر لیا ہے۔ اس معاملے میں حافظ نذر احمد نے میری بہت رہنمائی بھی کی اور مجھے ہر طرح کی سہولت بھی جیل والوں سے لے کر دی“۔ اس قیدی کا نام احمد حسن تھا۔ اس کا مکمل انٹرویو میں نے التجوید کے کسی شمارے میں شائع کیا تھا۔ یہ ایک مثال ہے، اس قسم کی مزید مثالیں بھی موجود ہیں۔
حافظ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے محمد فاروق اس کارِ خیر کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جو آپ کے لئے صدقہ¿ جاریہ ہے، جس کے ذریعے آپ کی حسنات میں تاقیامت اضافہ ہوتا رہے گا۔ تعلیم القرآن سکول کی کوئی عمارت ہے نہ کوئی دفتر۔ حافظ صاحب کا گھر ہی سکول کی عمارت تھی، یہی اس کا دفتر تھا۔ حافظ صاحب اکیلے اس سکول کے پرنسل تھے، وہی منتظم تھے، وہی استاد تھے۔ انہوں نے تن تنہا اس سکول کو چلایا اور خوب چلایا۔ تعلیم خط و کتابت کے ذریعے دی جاتی۔ اس وقت تک اس سکول سے استفادہ کرکے سند حاصل کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں نہیں، لاکھوں میں ہے۔ جو قیدی سکول کے کورسز کو پاس کر لے، اس کی سزا میں 15یوم سے لے کر چھ ماہ تک کی تخفیف کر دی جاتی ہے۔
حافظ صاحب کی ان کوششوں سے پنجاب کی جیلوں میں ہزاروں مجرم صالح اور متدین بن کر نکلے۔ سابقہ زندگی پر توبہ کی اور آئندہ زندگی اچھے مسلمان، اچھے انسان کی حیثیت سے گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ہم بہت سے ایسے حضرات کے شناسا ہیں، جن کی زندگیوں میں ان کورسز سے انقلاب برپا ہوا۔ جیل میں داخل ہوئے تو مجرم تھے، ملزم تھے۔ جیل سے باہر آئے تو حافظ صاحب کی مساعی سے وہ متقی و پرہیز گار، صوم وصلوٰة کے پابند ہو کر نکلے۔ بہت سے اسی جیل کی چار دیواری سے حافظ قرآن بن کر باہر آئے۔ ان کے لئے جیل کی قید رحمت ثابت ہوئی۔ حافظ صاحب امتحان لینے کے لئے پورے پنجاب کی جیلوں میں خود تشریف لے جاتے۔ آپ عموماً قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے: ”تم میں اور ہم میں گناہ کے ارتکاب کے اعتبار سے فرق نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمہاری گرفت ہوگئی، ہم کسی وجہ سے بچے رہے، اگر زندگی بدلنے کا عزم کر لو تو یہ قید تمہارے لئے رحمت کا باعث ہے“۔
تعلیم القرآن خط و کتابت سکول حافظ نذر احمد کی طرف سے صدقہ جاریہ ہے۔ حافظ صاحب دنیا میں نہیں رہے، لیکن اس کارِخیر کے حوالے سے حافظ صاحب زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور تعلیم القرآن خط و کتابت سکول ان کی حسنات میں مسلسل اضافہ کا ذریعہ بنتا رہے گا۔ علمی حلقوں کی معروف شخصیت ڈاکٹر سفیر اختر صاحب سے حافظ صاحب کے بارے میں بات چلی تو فرمانے لگے کہ حافظ صاحب کے تین اوصاف نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ایک یہ کہ آپ وقت کی بہت حفاظت کرتے، تمام کام کرتے، لیکن اوقات کو اس طرح منظم کرتے کہ ایک ایک لمحے کا پورا فائدہ اٹھاتے۔ وقت کو ضائع کرنا ان کے ہاں روا نہیں۔ اس طرح تھوڑے وقت میں بہت سا کام سرانجام دیتے۔ دوسرا پہلو یہ کہ معاشرے میں گرتی ہوئی اسلامی اقدار کی وجہ سے انہیں بہت دکھ اور افسوس ہوتا تھا۔ اس کا برملا اظہار فرماتے، لیکن کبھی مایوس نہ ہوتے اور اسلامی اقتدار کے احیاءکے لئے مقدور بھر کوشش کرتے، دوسروں سے اس کا تذکرہ بھی اصلاح کی کوشش ہی کے حوالے سے ہوتا تھا۔ تیسرا پہلو یہ کہ حافظ صاحب کے ہاں خورد نوازی کا پہلو بڑا غالب تھا۔ اپنے چھوٹوں پر شفقت کرنا، اس کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرنا ان کی زندگی کا بڑا وصف تھا، اگر کوئی چھوٹا ان کی رائے سے اختلاف بھی کرتا تو تحمل سے سنتے۔ غلطی پر اصلاح کی کوشش کرتے۔
راقم حصول سعادت کے لئے ان کی خدمت میں ”التجوید“ اعزازی بھیجتا تھا، لیکن آپ نے ہمیشہ تقاضے کے بغیر سالانہ زر تعاون لازماً بھیجا۔ منی آرڈر ملتے ہی میری پیشانی عرق ریز ہو جاتی۔ ایک مرتبہ خط میں اپنے احساس کا اظہار کیا، فرمانے لگے: ”اتنا حساس بھی نہیں ہونا چاہیے“ زر تعاون تبرکاً ہی رکھ لو“۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس خلوص اور تبرک ہی کی برکت ہے کہ التجوید کی خدمت کی توفیق اللہ نے عطا کر رکھی ہے اور التجوید پابندی سے شائع ہو رہا ہے۔ حافظ صاحب نے لاہور کے درس کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھا، جس میں ان مساجد کی نشاندہی کی جن میں دروس قرآن جاری تھے۔ یہ مضمون بہت دلچسپ تھا، جو سیارہ ڈائجسٹ کے قرآن نمبر میں شائع ہوا۔ بعد میں بعض اور رسائل نے بھی اس کو شائع کیا۔ مولانا عبدالماجد دریا باری کی لکھی تفسیر ماجدی، تفسیری ادب میں بلند مقام رکھتی ہے۔ حافظ صاحب نے اہل علم کی سہولت کے لئے اس کا اشاریہ مرتب فرمایا، جس کی وجہ سے اس تفسیر سے استفادہ آسان ہو گیا۔
علم حدیث میں آپ نے موطا امام محمد کا ترجمہ لکھا۔ اربعین نووی پاکستان میں نایاب تھی۔ آپ نے جستجو کے ساتھ اس کی تلاش کی اور ترجمہ و تشریح لکھی۔ یہ کام تشکیل پاکستان کے ابتدائی برسوں میں کیا گیا۔ پھر یہ کتاب ایف اے کے نصاب اسلامیات میں شامل ہوئی اور اب تک شامل ہے۔ جائزہ عربی مدارس آپ کی انتہائی اہم تحقیق ہے، جس کے لئے آپ نے بہت عرق ریزی کی۔ پورے پاکستان کا دورہ کیا اور مغربی پاکستان میں موجود دینی مدارس کے کوائف کو اکٹھا کیا، اس حوالے سے یہ پہلا تحقیقی کام تھا۔ اس کتاب کو مدارس عربیہ کا انسائیکلوپیڈیا کہا جا سکتا ہے۔
ہمارے فرائض ہمارے حقوق، اس کتاب میں آپ نے مسلمانوں کے حقوق و فرائض کا تذکرہ بڑی شرح و بسط سے کیا ہے اور کتاب و سنت سے استدلال کرتے ہوئے فرائض اور حقوق کا تعین کیا ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ حیات حافظ نذر احمد کی مختلف جہات ہیں جو بہت سے پی ایچ ڈی مقالات کا عنوان رکھتی ہیں۔ ملک میں پھیلی جامعات کے طلباءان عنوانات پر تحقیقی کام کے ذریعے ڈاکٹریٹ کی تختیاں اپنی جبینوں پر سجا سکتے ہیں۔ ستمبر 2011ءکو یہ عظیم شخصیت دنیا سے رخصت ہو گئی، لیکن علمی اور قرآنی خدمات ان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ   (ختم شد)  ٭

مزید :

کالم -