شام پر چڑھائی میں امریکہ تنہائی کا شکار، برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد مسترد، سلامتی کونسل میں چین اور روس نے ویٹوکردی ، ٹھوس شواہد کے بعد کاررورائی کے بارے سوچاجائے: اقوام متحدہ

شام پر چڑھائی میں امریکہ تنہائی کا شکار، برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد ...
 شام پر چڑھائی میں امریکہ تنہائی کا شکار، برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد مسترد، سلامتی کونسل میں چین اور روس نے ویٹوکردی ، ٹھوس شواہد کے بعد کاررورائی کے بارے سوچاجائے: اقوام متحدہ

  



قاہرہ ، لندن ، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی شام کے خلاف فوجی کارروائی کی قرارداد مسترد کر دی ہے تاہم ممکنہ کارروائی کیلئے برطانیہ نے مزید چھ جنگی طیارے روانہ کردیئے ہیں۔ روس اور چین نے شام کے خلاف سلامتی کونسل میں برطانوی قرارداد ویٹو کر دی۔امریکہ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک کو دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ قرارداد کے مسترد ہونے کے باوجود برطانیہ سے مشاورت جاری رہے گی لیکن وہ کسی بھی ملک کی حمایت کے بغیر اکیلا بھی شام پر حملہ کرسکتاہے تاہم عالمی اتحاد کا منتظر ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں برطانیہ کی شمولیت کے لئے قرار داد پیش کی۔ لیبر پارٹی کے ارکان نے قراردادکی سخت مخالفت کی اور زبردست بحث کے بعد 285 کے مقابلے میں 272 ووٹوں سے قرارداد مسترد کر دی گئی۔ وزیراعظم کیمرون نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ شام کے خلاف فوجی کارروائی نہیں چاہتی اور وہ اسکے فیصلے کے خلاف نہیں جائیں گے۔ وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت نہیں چاہتے، حکومت اس فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اسی کے مطابق عمل کرے گی۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کا فیصلہ دیکھ لیا لیکن ہم وہی کریں گے جو امریکی مفاد میں بہتر سمجھیں گے۔ کونسل کی ترجمان کے مطابق صدر اوباما سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہونے والا کوئی بھی واقعہ، اگر امریکی مفادات کو متاثر کرتا ہے تو اس پر ایکشن لینا ضروری ہے۔ وائٹ ہاو¿س نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قرارداد مسترد ہونے کے باوجود برطانیہ سے مشاورت جاری رکھیں گے۔ جو ممالک کیمیائی ہتھیاروں پر بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کریں انکا احتساب ہونا چاہئے، صدر براک اوباما امریکہ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔صدر باراک اوباما نے کہا ہے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کافی ہو گی۔ ادھر اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے دمشق کے نواحی علاقے کا آج پھر دورہ کیا۔ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے ماہرین ہفتے کے روز دمشق سے واپس آ جائیں گے،ٹھوس شواہد ملنے کے بعد شام پر کسی کارروائی کے بارے میں سوچا جائے۔امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے منیلامیں اپنے فلپائنی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ شام کے مسئلے پر اتحادیوں سے مشاورت جاری ہے ،امریکہ کو ایشیاءپیسفک خطے میں خطرات کا سامناہے اور عالمی اتحاد کے منتظر ہیں۔ ادھر شام کے خلاف کارروائی کے لئے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی برطانوی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کر دیا۔ روس کا کہنا تھا اقوام متحدہ کی رپورٹ سامنے آنے تک قرار داد پر بحث نہ کی جائے، روس نے شام کے دفاع کے لیے میزائل کروزر بحیرہ روم بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ شامی صدر بشار الاسد کا کہنا ہے مغربی جارحیت کے خلاف اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔ ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنائی نے کہا ہے کہ شام پرحملہ امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے خانہ جنگی کے شکار شام کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ برطانوی شہری اس ممکنہ کارروائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور انہوں نے امریکہ و برطانیہ کو خطے میں جنگ سے باز رہنے کی اپیل کی۔ برطانوی اپوزیشن لیڈر ملی بینڈ نے بھی کہا ہے حکومت کو شام میں کسی قسم کی ممکنہ فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید : بین الاقوامی /Headlines


loading...