جمہوریت ،آم کا درخت

جمہوریت ،آم کا درخت
 جمہوریت ،آم کا درخت

  



                                    ” سر منڈواتے ہی اولے پڑے“ ....نجانے کب یہ محاورہ یا کہاوت معرض وجود میں آئی ،لیکن ہمارے سیاستدان ہم پاکستانیوں کو آئے روز اس کی یاد دلاتے رہتے ہیں ، سیاسی لیڈراپنے بیانات میں اتنی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیںکہ ان کے بیانات ہمارے سروں پر اولوں کی بجائے پتھر بن کر برستے ہیں۔ عام انتخابات کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی پر اتر آئے ہیں، انہیں کون سمجھائے کہ سیاست اور حکومت کرنے کے لئے بہت بڑا دل،بہت زیادہ صبر اور بہت ہی زیادہ سپورٹس مین سپرٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کوئی کرکٹ کا میدان نہیں کہ ذرا سا موسم خراب ہوا ،یا ،میدان میں اندھیرا بڑھ گیا تو میچ ختم کروانے کے لئے ایمپائروں سے مذاکرات شروع کر کے میچ رکوادیا ۔سیاست اور حکمرانی جمہوری پراسیس کا نام ہے۔اس جمہوریت کی خاطر ہمارے ملک میں بہت بڑی بڑی قربانیاں دی گی ہیں، اس کی خون سے لت پت بہت لمبی کہانی ہے،آگ اور خون کا ایک نہیں کئی دریا عبور کرنے کے بعد ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ جمہوریت کے کچھ معمولی ثمرات حاصل کر سکیں ، کوئی شک نہیں کہ جمہوریت آم کا درخت ہے، بڑی مشکل سے پلتا ہے، سالہا ہا سال کی تگ و دو، دھوپ چھاﺅں سے بچانا ، گوڈی چوپی کرنا ، باڑ لگا کر” راکھی“ کرنالیکن جب یہ پودا جوان ہو جاتا ہے ،پہلا ”بُور“ آتاہے تو باغبان خوشی سے نہال ہو جاتا ہے ۔

 جمہوریت بھی ایسا ہی پھل ہے.... ”سہج پکے سو میٹھا“....کوئی نظام اس کی برابری نہیں کر سکتا ،مگر افسوس کہ ہمارے ہاں اس نظام یا پودے کو ” بُور“آنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جاتا رہا۔ہماری نسلیں اس پھل کے پکنے کے انتظار میں بوڑھی ہو گئیں ،مگر موجودہ نسل خوش قسمت ہے کہ اس نے نہ صرف اس پھل کو پکتے دیکھا ،بلکہ عوام کی جھولی میں بھی گرتے دیکھا ۔ جی ہاں ! اب عوام کی باری ہے ،اس میٹھے پھل سے استفادہ کرے ،کسے منتخب کرنا ہے، اس پودے کی رکھوالی کیسے کرنی ہے؟ سارے فیصلے اب عوام کے ہاتھ میں ہیں ۔یقینا اگر یہ سسٹم قائم دائم رہا، ایک کے بعد دوسری جمہوری حکومت آتی چلی گئی تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے ملک اور قوم پر فخر کریں گے اور اقوام عالم میں سربلند کرتے ہوئے اعلان کر سکیں گے کہ ہماری ڈگمگاتی کشتی کو جمہوریت نے بھنور سے نکال لیاہے۔ ابھی ہم بہت پیچھے اور بہت کچے ہیں،اپنی اپنی اناءکی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں، ابھی ہمارے سیاستدانوں میں اتنا حوصلہ نہیںکہ اپنے اور ملک و قوم کے لئے جلد بازی کے فیصلوں کو قریب نہ پھٹکنے دیں، مگر یہ کچا پن تھوڑی مدت کا مہمان ہے ،بہت جلد ہم ذاتیات سے بالا تر ہو کر سوچنا شروع کر دیں گے اور منزل کو اپنے قریب کر لیں گے ۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تو لے لی، مگر ابھی تک وہ اپنی حکومت کی صحیح سمت کا تعین نہیں کر سکے۔جو کام ان کے وزیراعلیٰ یا حکومت کے کرنے والے ہیں ،وہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور کر دے،یا یوں کہہ لیں کہ تحریک انصاف شائد پکی پکائی کھانا چاہتی ہے، انہیں کون سمجھائے کہ اچھی حکمرانی کے لئے سارے پاپڑ خود بیلنا پڑتے ہیں ۔معمولی رنجشوں ،مخالفتوں یا راہ میں حائل پتھروں سے گھبرا کر اپنی راہ نہیں چھوڑ دی جاتی اور منزل کو دھتکار نہیں دیا جاتا۔ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے ،وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کی راہ میں ابھی تک ایسا کوئی روڑا نہیں پھینکا جسے بنیاد بنا کر عمران خان جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دیں،ہاں البتہ لاہور کی مال روڈ پر تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ پنجاب پولیس کا ”لو“سین ضرور دیکھنے کو ملا ،مگر یہ کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں جسے بنیاد بنا کر عمران خان یا ان کی پارٹی ملک کے اندر کسی غیرجمہوری سیاسی عدم استحکام کی بنیاد رکھ دیں اور نئی نویلی جمہوریت کو دھکے دے کر ایوانوں سے باہر نکالنے کی کوشش کریں ۔

لاہور کے واقعہ پر وزیراعظم نوازشریف کا اپنے بھائی شہباز شریف کو اس بات پر قائل کرنا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے، لائق تحسین عمل ہے،مگر ہم پھر بھی یہ کہیں گے کہ یہ کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں، جسے بھلایا نہ جا سکے۔لاہور کی اسی مال روڈ پر پیپلز پارٹی کے جیالوں اور مسلم لیگ (ن)کے متوالوں نے بارہا اتنی مار کھائی ہے ،جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا۔تحریک انصاف کو اس بات کے ”اضافی نمبر“نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ نئی جماعت ہے، سیاست کرتے ہوئے اس جماعت کو 2دہائیاں ہونے کو ہیں۔ عمران خان سمیت اس جماعت کے سبھی لیڈروں کو یہ بات اچھی طرح یاد ہونی چاہئے کہ سیاست میں پولیس کے ساتھ ہلکی پھلکی ”موسیقی“ چلتی رہتی ہے، ان لیڈروں کو چاہئے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن)کے ان کارکنوں اور لیڈروں کی فوٹیج نکال کر دیکھیں ، جنہوں نے پاکستان کی سڑکوں پر بار بار اپنا خون بہایا ،مگر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا کسی نے بھی نہ سوچا۔

 پاکستان کے عوام خوش ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور پانچ سال میں بہت اہم فیصلے کئے۔سب سے بڑا فیصلہ یہ ہوا کہ انتقام کی سیاست کو خیر باد کہہ دیاگیا۔پی پی پی کی حکومت اس حوالے سے سرخرو رہی کہ اس نے اپنے کسی مخالف کو جیل میں نہیں پھینکا، کسی پر جھوٹے مقدمات درج نہیں ہوئے ،کوئی سیاسی قیدی کہیں نظر نہیں آیا۔خوشی کی ایک اور بات یہ ہوئی کہ پی پی پی کی حکومت نے اداروں کے درمیان تصادم کوبڑے احسن طریقے سے روکے رکھا۔عدلیہ ، فوج، میڈیا، بیورو کریسی اور سیاسی اداروں میں لاکھ اختلافات کے باوجود ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رہا،کہیں ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا نہیں ہونے دی گئی۔عوام کے بنیادی حقوق پی پی پی حکومت کا خاصا رہا، اظہار رائے کی آزادی سبھی کے پاس رہی ،کوئی سڑک پر آیا یا میڈیا میں بیٹھ کر حکومت کے لتے لیتا رہا،سب کو احتجاج کا حق حاصل رہا ، کہیں حکومتی غنڈہ گردی یا پکڑ دھکڑ کے ریکارڈ قائم نہیں ہوئے ،یقینا میاں نوازشریف کی جمہوری حکومت بھی ایسا ہی چاہتی ہے،اسی لئے تحریک انصاف کے کارکنوں کی لاہور میں پکڑ دھکڑکا وزیراعظم نے نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے خود بات کی ۔ کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم کا یہ عمل پاکستان میں صحتمند جمہوریت کی طرف احسن قدم ہے،لہٰذا تحریک انصاف کے لیڈروں کو بھی چاہئے کہ اپنے مزاج ٹھنڈے رکھیں،”ہتھ ہولا“رکھیںاور ایسا کوئی بیان نہ داغیں ،جس سے جمہوری حلقے بے چین نظر آئیں۔    ٭

مزید : کالم


loading...