اب شام نشانے پر

اب شام نشانے پر
اب شام نشانے پر

  



                                    مےں اپنے قارئےن پاکستان کی خدمت مےں پھر حاضر ہو رہی ہوں۔دراصل مےں گذشتہ کچھ عرصے سے فلسطےن پر اےک ناول لکھنے مےں مصروف تھی۔موضوع کی گھمبےرتا نے مجھے سر ہی اٹھانے نہ دےا۔بہرحال لہورنگ فلسطےن تکمےل کو پہنچ کر کتابی صورت مےں مارکےٹ مےں آےا تو مےں آپ قارئےن کے سامنے حاضر ہوئی۔

تو وہ وقت آگےا ہے جب دنےا کے تھاےندار نے اعلان کردےا ہے کہ ہم شام کے خلاف فوجی کارروائی کی تےاری کررہے ہےں۔ڈرامے کا وہی اےپےسوڈ جو عراق پر حملے کے وقت تھا۔وہی کہانی جو تب تھی۔صدام آمر تھا۔صدام ظالم تھا۔صدام کے کردار پر کردوں کو قتل کرنے کا الزام بجامگر اِس انسانےت کے ہمدردوں کا کےا کردار سامنے آےا۔کےا کےا چالےں چلی گئےں۔شےعہ ،سنی اور کردوں کو لڑانے کی ۔اور وہ لڑ رہے ہےں۔اےک دوسرے کا تخم مار رہے ہےں۔مسلمان کا گلا مسلمان کاٹ رہا ہے اور عراق صدام سے چھٹکارہ پاکر بھی تباہ ہورہا ہے۔

پاکستان جن مصائب اور المےوں سے گزر رہا ہے اور جےسے لہولہان ہورہا ہے۔اس کا بڑا ذمہ دار بھی تو وہی ہے جوڈالروں سے سرکردہ لوگوں کو خرےدتا ہے اور انہےں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔اب شام کی باری ہے۔اور وہی الزامات دہرائے جارہے ہےں۔بشارالاسد کو چاہےے کہ وہ اقتدار سے الگ ہوجائے۔جےسے صدام کو چاہےے تھامگر اِس اقتدار کی ہوس بندے کو اس پاتال مےں پھےنک دےتی ہے۔جہاں قوموں کا بےڑہ غرق ہوتا ہے۔

اب کوئی پوچھے کہ مصر مےں جو کچھ ہورہا ہے۔وہ جائز ہے۔کےسے اسلام پسند عناصر کو تہ تےغ کےا جارہا ہے۔وہاں اسرائےل اور مغربی طاقتےں سب سرگرم ہےں۔مصری چےف اور نےتن ےاہو کے درمےان تعاون جاری ہے۔اسرائےل نے اُن تمام سرنگوں کو ملےامےٹ کردےا ہے۔جو مصر اور غزہ کے درمےان تھےں اس ڈرسے کہ غزہ کے لوگ اخوان المسلمےن کی مدد کےلئے نہ آجائےں۔سعودی عرب پر کےا افسوس کرےں اور امام کعبہ کے بےانات پر کےا رائے زنی ہو کہ حکمرانوں کو صرف اپنا اقتدار عزےز ہے۔سوال ہے دوسروں کے مونڈھوں پر کب تک ےہ اقتدار برقرار رہے گا۔

پاکستان کی جماعت اسلامی مصر پر آواز اٹھارہی ہے تو شام پر کےوں چپ ہے کےا وہاں مسلمان نہےں ہےں۔

دمشق،حلب اور حمس کتنے خوبصورت شہرہےں۔کتنا تارےخی ورثہ اُن جگہوں پر بکھرا ہوا ہے ۔ےہ سب شہر مےں نے دےکھے ہےںاِ ن کی خوبصورتی نے مےرے دامن دل کو بار بار کھےنچا تھا۔جن کا اب بےڑہ غرق ہورہا ہے۔شام کا انقلابی شاعر دنےا بھر مےں اپنی انقلابی نظموں کے بل پر مشہورہوا۔نظارقبانی جس کی آخری خواہش دمشق مےں دفن ہونے کی تھی۔دمشق مےرے لےے رحم مادر کی طرح ہے۔آئےے مےں اس کی انقلابی نظم کے چند ٹکڑے آپ کو سناﺅں۔

مےں دہشت گردی کا حامی ہوں

مےں اس کی حماےت جاری رکھوں گا

جب تک نےو ورلڈآرڈر تقسےم ہوتا رہے گا

امرےکہ اور اسرائےل کے درمےان

مےں اس کی حماےت جاری رکھوں گا

اپنے سب لفظوں کے ساتھ

اپنی ساری توانائی کے ساتھ

جب تک ےہ دنےا اُس قصاب کی گرفت مےں رہے گی مےں دہشت گردی کی حماےت کروں گا

 جب تک ےہ نےوورلڈ آرڈراپنی قصابےت کو جاری رکھے گا

 مےرے بچوں کو کتوں کے سامنے ڈالتا رہے گا

مےں دہشت گردی کے ساتھ ہوں

مزید : کالم


loading...