پانی کی فراوانی ہے‘ پانی کو ترستے ہیں!

پانی کی فراوانی ہے‘ پانی کو ترستے ہیں!
پانی کی فراوانی ہے‘ پانی کو ترستے ہیں!

  



                                                        سیلاب قدرتی آفت ہے یا ہماری کوتاہیوں اور کوتاہ اندیشیوں کی سزا؟ہم پانی کو ترستے ہیں، لیکن جب قدرت مہربان ہوتی ہے تو اسے سنبھال ہی نہیں پاتے۔ یہ رحمت ہماری بدانتظامی سے سیلاب بن کر بستیاں بہا لے جاتی ہے، زندگی کی جمع پونجی، گھر بار، مویشی پانی میں بہہ جاتے ہیں،کھڑی فصلیں اور لہلہاتے کھیت بپھری لہروں کا رزق بن جاتے ہیں۔اربوں روپے کی املاک نگلتا ہوا سیلاب، اربوں روپے کا پانی سمندر میں جاگرتا ہے۔ حکومت کچھ متاثرین کو امداد دے کر،کچھ ریلیف کی سرگرمیاں کرکے فرض سے سبکدوش ہوجاتی ہے۔کیایہ قیمتی پانی یونہی ضائع ہوتا رہے گا، زندگی اُجالنے کے بجائے اجاڑتا رہے گا؟ مستقبل قریب میں دُنیا کو درپیش بحرانوں میںسب سے بڑا پانی کا بحران ہو گا اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جنہیں پانی کی قلت کا سامنا ہو گا۔ کیا ہم نے اس کے لئے کوئی پیش بندی کر لی ہے ؟

 پانی بہت قیمتی چیز ہے، کیونکہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، زمین پر موجود پانی کا 97 فیصد سمندر کا پانی ہے، اڑھائی فیصدبرف اور گلیشیر میں بند ہے، صرف آدھا فیصد پانی ہمارے لئے ہے جو دریاﺅں، جھیلوں، چشموں میںاورزیر زمین موجود ہے۔آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن پانی کی مقداروہی ہے ۔ ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ءمیں دنیا کے اِسی سے زائد ممالک کوپانی کی قلت کا سامنا ہوگا،ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

ہم اس وقت کافی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، مگران سے بھی سنگین مسائل ہماری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں ،جن پر ہم فی الحال توجہ دیتے نظر نہیں آ رہے۔گزشتہ دنوں ایک اچھی خبر یہ آئی کہ منگلا ڈیم کی اونچائی بڑھانے سے اس میں پانی کی گنجائش6اعشاریہ 65 ملین ایکڑ فٹ ہوگئی ہے، جس کے بعد یہ ملک میں پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ بن گیا ہے۔اس سے پہلے تربیلا نمبرون تھا جس میں6اعشاریہ 58 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ ذخائر مگر ہماری ضروریات سے بہت کم ہیں۔ہمارے پاس اتنے ریزر وائر ہی نہیں، جن میں پانی ذخیرہ کرلیں، اس لئے ہمارا بہت سا پانی نہ صرف ضائع ہوجاتا ہے بلکہ سیلاب بن کرتباہی بھی پھیلاتا ہے۔

ہماری اس بد انتظامی اور کوتاہی کو بھارت خوب استعمال کرتا ہے ،وہ عالمی فورم پر طنزاً کہتا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ پانی ہے جو وہ سمندر میں پھینک دیتا ہے۔اس بات کو بنیاد بناکر وہ پاکستانی دریاﺅں پر دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہا ہے اور ہم صرف واویلا کررہے ہیں ۔کیسی بد قسمتی ہے کہ جو شخص پاکستان کا بظاہرمقدمہ لڑتا رہا ،وہ انہی کا کارندہ نکلا۔ طویل عرصہ تک انڈس واٹر کمشنر رہنے والا سید جماعت علی شاہ، اپنے خلاف تحقیقات کی رپورٹ آنے سے ایک ہفتہ قبل ریٹائر ہو گیا اور ای سی ایل پر ہونے کے باوجود کینیڈا فرار ہو گیا۔ ایک شخص اہم منصب پر بیٹھ کر بھارتی مفادات کے لئے کام کرتا رہا اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک کے اثاثوں کے بارے کتنے حساس اور چوکس ہیں۔

بھارت نے صرف دریائے جہلم اور چناب پر 33 ڈیمز بنائے ہیں، جبکہ چھ زیر تعمیر اور دس کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔دریائے چناب سے پنجاب کے کھیت سرسبز ہیں جو سارے ملک کو اناج فراہم کرتے ہیں۔ ابھی بگلیہار ڈیم پر ہمارا ”احتجاج“ جاری ہے کہ بھارت نے چناب پر ایک اور ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ،جو بگلیہار سے تین گنا بڑا ہو گا ۔ اِسی طرح دریائے سندھ پر نو ڈیمز بنانے جارہا ہے ۔ بھارت نے پاکستانی دریاﺅں پر ڈیمز بنا کر 32ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ہم کسی عالمی فورم پر بھارت کی’ آبی دہشت گردی، کی بات کرتے ہیں تو دنیا ہمارے آبی ذخائر کی گنجائش دیکھتی ہے ،پھر سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھتی ہے اور پھر ہمارا منہ تکتی رہ جاتی ہے ۔ بھارت کے یہ منصوبے جاری رہے تو ہمارے لہلہاتے شاداب کھیتوں میں خداانخواستہ دھول اڑے گی کیونکہ ہماری زرعی زمین کا اِسی فیصد انحصار دریاﺅں اور نہروں پر ہے ۔ سارے دریاﺅں پر بھارت کے ڈیم ہوں گے تو ہمیں کیا ملے گا،کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

ہر ملک اس قیمتی پانی کومحفوظ بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کرتا ہے۔ مستقبل میںپانی کے بحران کے پیش نظر بہت سے ممالک پانی کے زیادہ سے زیادہ ذخائر بنا رہے ہیں۔ دنیا میں48 ہزار ڈیمز ہیں،جس میں نصف صرف چین میں ہیں، چین میں22 ہزار بڑے ڈیمز ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا تھری گورجز ڈیم بھی چین میں ہے، جس میں40ارب کیوبک میٹر پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے اور وہ ساڑھے22ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے ۔ بھارت میں پانچ ہزار ڈیمز ہیں، چین اور روس کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر ہے ۔ہم کس نمبر پر ہیں ،ہمارے پاس15میٹر سے بلند اونچائی والے صرف 143ڈیمز ہیں۔

ایشین بنک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی آبی جارحیت کے باوجود گزشتہ40سال میں پانی کا کوئی بڑا ریزر وائر نہیں بنایا۔ اس کے پاس30سے40دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ ایسے موسم والے ملک کے پاس ایک ہزاروں کا ذخیرہ ہونا چاہئے۔ 1951ءمیںجب آبادی ساڑھے تین کروڑ تھی تو ملک میں پانی کی فی کس دستیابی 5300 کیوبک میٹر تھی جو اب کم ہو کر صرف 800 کیوبک میٹر رہ گئی ہے ،ایک ہزار کیوبک میٹر سے کم کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، مگرکوئی سننے والا ہی نہیں ۔

سارے اشارے ہمیں جھنجوڑ رہے ہیں، جگا رہے ہیں، لیکن ہم جاگنے کو تیار نہیں، شاید گہری نیند نیم بے ہوشی کی حدوں میں داخل ہو چکی ہے،ایسی حالت میں پانی کے چند چھینٹے ہوش میں لانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ ہمارے سروں سے تو سیلاب کے کئی ریلے گزر گئے ہیں، معلوم نہیں ہم ہوش میں کیوں نہیں آ رہے۔

حالیہ سیلاب کے اعداد و شمار ابھی آنے ہیں، تین سال پہلے کے سیلاب کی بات پرانی نہیں ہوئی۔ 2010ءکے سیلاب میں پونے دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے، جن میں سوا کروڑ لوگ بے گھر ہوئے ، 2000 سے زائد جاں بحق ہوئے،12 لاکھ مویشی سیلاب میں بہہ گئے ،فصلوں کوبے پناہ نقصان ہوا۔ سڑکیں ،پل ، نہری نظام، انفراسٹرکچر اورگھر تباہ ہونے سے 10ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوا۔ اس وقت جتنا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو گیا، اس سے کئی ڈیم بھرے جا سکتے تھے، جو خشک موسم میں کھیتوں کو سراب کرتے ،زندگی آباد کرتے۔

ہماری قومی قیادت ملک کے اثاثوں اور وسائل کی امین ہے، ان وسائل کو قوم کے لئے کارآمد بنانے کی دُور رس پالیسیاں بنانا اور مو¿ثر اقدامات کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ان کی غیر ذمہ داری ، غفلت ،نااہلی اور کوتاہ بینی کی سزا عوام کو نہیں ملنی چاہئے، جو قیادت عوام کو سیلاب سے نہیں بچاتی ، عوام کا سیلاب بالآخراس کو بہا لے جاتا ہے۔  ٭

مزید : کالم


loading...