انصاف ، امن وا مان اور معیشت

انصاف ، امن وا مان اور معیشت
 انصاف ، امن وا مان اور معیشت

  



                                                                                        اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ اور میری پینتیس سالہ پولیس سروس اور پچپن سالہ شعوری عمر کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ یہ ہے کہ جن ملکوںاورقوموںکا دفاع مضبوط نہ ہووہ اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ پاتیں۔ طاقتور ملک اور قومیں انہیں روند ھ ڈالتے ہیں ۔انہیں غلام بنا لیتے ہیں یا گروی رکھ لیتے ہیں۔اور جن ملکوں اور قوموں میں انصاف نہ ہو وہاں امن و امان نہیں ہوتا۔اور جہاں امن وامان نہ ہو وہاں اچھی اور صحت مند معیشت نہیں ہوتی ۔جس ملک میں عدالتوں سے انصاف نہ مل رہا ہو، مظلوم کی داد رسی اور ظالم کا سر نہ کچلا جاتاہو،وہاں لوگ مجبوراًاپنے معاملات خود طے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی ہے ۔اورجہاں قانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی ہے وہاں قتل و غارت ، ڈاکے، چوریاں ، اغوائ، دھوکادہی، فراڈ،دھونس ، غنڈہ گردی، بھتہ خوری، رشوت ستانی ، چور بازاری اوراخلاقی اور سماجی جرائم اور خرافات کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ امن و امان کی اس قسم کی صورت حال کے معیشت پر خوفناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔معیشت کسی بھی ملک کی لائف لائن ہوتی ہے یہ لائف لائن ہر طرح کے اندرونی اوربیرونی خطروں اور حملوں سے محفوظ ہونی چاہیئے ۔ اسے ایک پرسکون اور محفوظ ماحول چاہیئے ۔چرکے لگی ہوئی اور جگہ جگہ سے کٹی پھٹی لائف لائن بہت دیر تک وجود کوزندگی نہیں دے سکتی ۔

اب اگر اس تناظر میںپاکستان کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو صورت حال قطعاً تسلی بخش نہ ہے ۔میں چونکہ دفاعی امور کا ماہر نہیں ہوں اس لئے پاکستان کی دفاعی صورت حال پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا ۔ تاہم ملک کی اندرونی صورت حال سے پینتیس سال براہ راست وابستہ رہنے اور گردوبیش پر بغور نظر رکھنے کی وجہ سے اس پہلو پر کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں ۔ میری ناقص رائے، تجربے اور مشاہدے کے مطابق پاکستان میں انصاف ،امن وامان اور معیشت ،ہر تین شعبے زوال پذیر ہیں ۔ماتحت عدالتوں سے ، کہ جن سے عوام الناس کو زندگی کے روزمرہ معاملات میں واسطہ پڑتا ہے ، بہت کم انصاف ملتا ہے ۔اور اگر ملتا بھی ہے تو اتنی تگ و دو ،خواری ، خرچ اخراجات اور تاخیر کے بعد کہ اُسکا ملنایا نہ ملنا ایک برابر ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں کا طریقہ کار کچھ اس طرح کاہے کہ یہاں مدعی اور ملزم یکساں خوا ر ہوتے ہیں ۔ظالم اور مظلوم کی کوئی تمیز نہیں رہتی ۔جب قانو ن نافذ کرنے والے ادارے یعنی پولیس وغیرہ او ر عدالتیں قاتل ، اغوا کار، ڈاکو ، چور ، دھوکا بازاور خائن کو پکڑ کرجلد از جلد سزا نہیں دے پاتیں اور متاثرین کے نقصانات کی تلافی نہیںہوپاتی تو لوگ یہ کام خود کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ پاکستان میں یہ چلن بہت عام ہے۔ دھونس ، دھاندلی ،غنڈہ گردی ، بھتہ خوری اورمذہبی ، فرقہ وارانہ، علاقائی اور لسانی دہشت گردی نے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ رہی سہی کسر گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے نکا ل دی ہے ۔افراط زرکی انتہائی بلند شرح یعنی دنوں میں قیمتوںکے بے تحاشہ بڑھ جانے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انصاف کی عدم فراہمی اور امن وامان کی ابتری نے پاکستان کی معاشی صورت حال کو یہاں تک پہنچادیا ہے کہ 2002-03ءپاکستان میں اگر سالانہ قومی پیداوار میں چھ اور سات فیصد کی شرح سے ا ضافہ ہورہا تھا تو وہ آج ایک اور دو فیصد کے درمیان آگیا ہے ۔ پچھلے دس سالوں میں پاکستان کی برآمدات نصف رہ گئی ہیں ۔نصف سے زیادہ صنعتیں بنگلہ دیش ، ملائیشیا، انڈونیشیا وغیرہ منتقل ہو گئی ہیں ۔ باقی میں سے آدھے سے زیادہ یا تو بند پڑی ہیں یا اپنی پیداواری صلاحیت سے بہت کم پیدا کر رہی ہیں ۔اربوں روپیہ اور ہر شعبے کے ہزاروں ماہرین دوسرے ممالک میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ہماری سیرو سیاحت آدھی سے کم رہ گئی ہے ۔مذہبی سیاسی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی نے صوبہ خبیر پختون خوا اور صوبہ بلو چستان ،اور بھتہ مافیا ، لینڈ مافیااور مختلف سیاسی پارٹیوںکے مسلح گروہوں اور انکی باہمی رقابتوں اور ٹارگٹ کلنگ نے پاکستان کے معاشی منبع(Economic Hub)کراچی کو کرِچی کرِچی کر دیا ہے ۔ اگر پچھلے دس سالوں میں دہشت گردی کے ہاتھوں چالیس پچاس ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو کراچی میں متحرک مختلف گروپوں کی لڑائیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں بھی ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں ۔ ان حالات میں نہ ملکی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ لگانے کے لئے تیار ہے اور نہ کوئی غیر ملکی ۔جس سرمایہ کار کو ہر وقت خود اپنے اغواءہوجانے کا ڈر ہو اور جس کے پاس ہر ماہ چار پانچ مختلف گروپو ں کے لوگ آکر بھتہ مانگتے ہوں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر مانگتے ہوں اور نہ دینے پر بیوی بچوں سمیت قتل کردینے کی دھمکیاں دیتے ہوں اور دھمکیاں دیتے وقت خاندان کے تمام افراد کے نام اور سکول کالج اور دفاتر کی تفصیلات بھی بتاتے ہوں تو ایسی صورت حال میں کون پاکستا ن میں سرمایہ کاری کرے گا۔معیشت کی صورت حال کو سنبھالا دینے کے لئے جہاں کچھ اہم اور سخت معاشی او ر مالیاتی فیصلے کرنے ضروری ہیں وہاں ملک میں امن و امان کے قیام اور انصاف کی درست اور جلد فراہمی از بس ضروری ہے ۔

جہاں تک دہشت گردی سے نمٹنے کا تعلق ہے تو موجودہ حکومت با لخصوص وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا یہ عزم اور ارادہ انتہائی خوش آئند ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے مصالحت کے لئے بات چیت کی جائے گی اور یہ کہ اس وقت اس ایک کے علاوہ کوئی دوسری آپشن حکومت کے زیرغور نہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ میاں محمد نواز شریف، عمران خان ، مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق، جو کہ شروع سے ہی طالبان کے بار ے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور بات چیت کے حامی ہیں ، کے لئے اس سے بہتر کوئی موقع نہیں کہ وہ طالبا ن اور اسی نوع کے دوسرے گروہوں کے رہنماو¿ں سے بات کر کے اس مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نکالیں ۔اس ضمن میں ایک مثبت پہلویہ بھی ہے کہ طالبان نے خود بھی ان لوگوں کو بات چیت کی دعوت دے رکھی ہے ۔ اب بظاہرکوئی وجہ نہیںکہ طالبان سے بات چیت کر کے ملک کو دہشت گردی سے نجات نہ دلائی جاسکے ۔ لیکن یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رہنی چاہیئے کہ ہندوستان اور امریکہ کبھی بھی ایسی کسی مصالحت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے۔ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ یہ سب کچھ نہ ہونے پائے کیوں کہ وہ پاکستان کو مستحکم او ر پرامن نہیں دیکھ سکتے ۔ مضبوط اورمستحکم پاکستان اس خطے میں اُن کے مفادات اور مقاصدکے خلاف ہے ۔اس لئے پاکستان کے رہنماو¿ں کو نہایت سمجھ داری اور ہوشیاری سے مخالفین کی ریشہ دوانیوں سے بچتے اور اُنکو بے اثر کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنا ہوگا ۔ اور مقصد حاصل ہونے کے بعد اُسکا تحفظ کرنا ہوگا ۔

جہاں تک انصاف اور امن وا مان کا تعلق ہے اعلیٰ عدلیہ اور حکومتوں کو سب سے پہلے ماتحت عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی تطہیر کرنا ہوگی ۔ یہاں سے نا اہل، نکمے ، راشی اور سفارشی اہل کاروں کو نکالنا ہوگا ۔ ان کی جگہ ہر لالچ، سفارش اور دباو¿ سے بالاتر ہوکر بہترین لوگوںکو بھرتی کرنا ہوگا اور اُنہیں ضروریاتِ کارکی مکمل فراہمی کے بعد سخت نگرانی اور جزا وسزا کے نظام میںجکڑ کر کام لینا ہوگا ۔ان ہر دو شعبوں میں بہتری اور اصلاحات لانے کے لئے ماہرین کی بے شمار رپورٹیں موجود ہیں۔ ان میںسب سے جامع رپورٹ کو لے کر ضروری ترامیم کر کے اپنایا اور نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں پولیس آرڈر2002ءایک بہت اچھا قانون ہے جس میں بدلے ہوئے حالات کے تحت ملک بھر کے امور ِ پولیس کے ماہرین سے ازسرِ نو رائے لے کراور ایک متفقہ قانون بنا کر ملک بھر میں نیک نیتی اور پولیس کے سربراہان کو مکمل اختیارات اور اُن کے معاملات میں عدم مداخلت کی ضمانت دے کر ملک بھر میں نافذ کر دیا جائے تو اب بھی امن وامان کے قیام اور قانون کی حکمرانی کے خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب نے پہل کرتے ہوئے متذکرہ پولیس آرڈرمیں کچھ ترامیم کر کے منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کر دیا ہے ۔لیکن اسکا دائرہ کار صرف صوبہ پنجاب کی حد تک ہو گا۔بہتر ہوتا کہ اس نئے مسودہ قانون پر دوسرے صوبوں کے ماہرین سے رائے لے کرایک متفقہ مسودہ طے کیا جاتا جو وفاقی دارلخلافہ اسلام آباد سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہوتا۔یوں بھی پولیس آرڈر 2002ءایک وفاقی قانون ہے۔اور اسے وفاقی ہی رہنا چاہیئے تاکہ تعزیرات پاکستان ، ضابطہ فوجداری ، قانون شہادت ، قواعدپولیس اوردیگر بے شمار فوجداری قوانین کے ساتھ ساتھ پولیس کے نظم و ضبط ، اختیارا ت و فرائض اور نگرانی کا طریقہ کار پورے ملک میںایک جیسا ہوتا ہے ۔جیسا کہ کچھ دیرپہلے تک تھا۔ بہترین معیارات پر بھرتی کی ہوئی اوربہترین تربیت دی گئی بہترین پیشہ ور پولیس ہی معاشرے میںبہترین امن وامان کی ضامن اوربہترین امن وامان ہی بہترین معیشت کا ضامن ہے۔  ٭

مزید : کالم


loading...