زیارت ریذیڈنسی پر حملے کی فوٹیج کیوں دکھائی گئی؟

زیارت ریذیڈنسی پر حملے کی فوٹیج کیوں دکھائی گئی؟
زیارت ریذیڈنسی پر حملے کی فوٹیج کیوں دکھائی گئی؟

  



                                                 نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے 13اگست کی رات کو ایک فوٹیج دکھائی گئی، جس کے بعد بلوچستان محکمہ اطلاعات کی ہدایت پر پولس نے مقدمہ درج کر لیا۔ اے آر وائی اپنے چینل پر آواز احتجاج بلند کرتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں صحافی مظاہرے کرنے لگتے ہیں ۔ پولس کا درج کردہ مقدمہ عدالت میں لڑا جاتا تو بہتر ہوتا۔ بجائے اس کے کہ سڑکوں یا اسکرین پر لڑائی لڑی جائے، جو صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنا چاہتا ہے۔ پی ایف یو جے کا تو ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ مظاہروں سے ڈر گئے اور مقدمہ واپس لے لیا اپنے اس بیان کے باوجود کہ اے آر وائی کے دو اینکروں نے جو زبان استعما ل کی وہ غیر ضروری تھی، فوٹیج تھی کیا، جس پر مقدمہ درج ہوا تو ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔

 جب زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کو 15جون 2013ءکو نذر آتش کیا گیا تو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس کی فلم بندی کی۔ بی ایل اے نے ہی وہ ویڈیو جاری کی ۔ اس وڈیو میں اور کیا تھا۔ عمارت کا جلنا، قائداعظم ؒ کے زیر استعمال سامان جو کہ ایک یاد گار تھا، کا جلنا تو ایک طرف۔ اس لئے کہ جب آگ لگے گی تو سب ہی کچھ جل سکتا ہے، لیکن اس وڈیو میں ایک حصہ وہ بھی تھا، جس میں ملزمان پاکستانی پرچم کی توہین کے بھی مرتکب ہوئے۔ یہ کہنا کہ چینل نے تو دہشت گردوں کی کارروائی کیوں دکھائی۔ چینل اگر خود یہ ویڈیو بناتا اور دکھاتا تو الگ بات تھی، لیکن جو ویڈیو بی ایل اے نے فراہم کی ، چینل نے وہ ہی نشر کردی اور نشر کرنے کے لئے 13اگست کی رات چنی گئی۔ دوسرے دن پاکستان کا یوم آزادی تھا۔ اے آر وائی اور اس کے ہم نواﺅں کا اعتراض یہ بھی تھا کہ حکومت نے اس کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جو واقعہ جون کے مہینے میں وقوع پذیر ہوا، اسے اگست کے مہینے میں دو ماہ بعد، پاکستان کے یوم آزادی سے ایک شام قبل دکھانے کا مقصد کیا تھا ؟

بلوچسان ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کی کسی کارروائی یا بیان کی تشہیر نہ کی جائے۔ 4اپریل13کا فیصلہ واضح ہے۔ یہ فیصلہ کانسٹی ٹیوشن پٹیشن227/2013 پر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تو کوئی گنجائش نہیں رہتی تھی کہ وہ فو ٹیج دکھائی جاتی، جو اے آر وائی نے دکھائی۔ بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ اس سلسلے میں بہت واضح ہے۔ عدالت کے فیصلے میں واضح طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کی کارروائی کی اشاعت کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے ۔ اس پٹیشن پر فیصلے کے مندرجات کو توجہ سے پڑھنے کی ضرورت تھی اور اگر کوئی اعتراض تھا تو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جانی چاہئے تھی۔ یہ مقدمہ اِسی فیصلے کی روشنی میں درج کیا گیا تھا۔ معزز عدالت عالیہ نے اس فیصلے میں جہاں وفاقی اور صوبائی حکومت اور پیمرا کو پابند کیا وہیں اس فیصلے کی نقول اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، یعنی اے پی این ایس، مدیران اخبارت کی تنظیم کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹرز یعنی سی پی این ای، اور ٹیلی وژن چینلوں کے مالکان کی تنظیم پاکستا براڈ کاسٹرس ایسوسی ایشن یعنی پی بی اے کو بھی فراہم کی گئی تھیں۔ کسی نے بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی۔

چینل کے پاس چونکہ تشہیر کا ہتھیار ہے اور پاکستان میں سیاست دانوں کی اکثریت ذرائع ابلاغ کو کسی حالت میں بھی ناراض کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتی، اس لئے چینل کے اینکر حضرات نے جو چاہا بول دیا۔ لوگوں نے بھی بھائیں بھائیں کرنا شروع کردیا۔ ان میں سے اکثریت نے وہ فوٹیج دیکھی ہی نہیں تھی، لیکن تبصرہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ تبصرے اسی طرح کے تھے کہ کسی صاحب کی موت پر ایک مضمون شائع ہوا، جس میں تحریر تھا کہ مرحوم بڑے ملنسار تھے، حالانکہ صاحب مضمون کی مرحوم سے کبھی بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

قائداعظم ؒ ریذیڈنسی پر حملہ بظاہر بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ کی منصوبہ بندی تھی، بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حقوق کے مطالبات کے پردے کے پیچھے وہ سب کچھ ہے، جو پاکستان میں بہت سارے تعلیم یافتہ لوگ بھی سمجھنا نہیں چاہتے۔ یہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے جسے ”را“ اپنے منصوبے کے مطابق روند ڈالنا چاہتی ہے۔ حکومت کو اپنے ملک میں ہی اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لئے کارروائی تو موثر انداز میں کرنا ہو گی۔ اس کی قیمت کچھ بھی ہو، وہ قیمت کم ہو گی۔ ملک ، قانون، نظام ساکھ اور عمل داری کی بنیاد پر چلا کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جس انداز میں چینل کے سامنے گھٹنے ٹیکے وہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں بھارت کی براستہ افغانستان پاکستان میں لائی ہوئی شورش کا بھلا کیا مقابلہ کر سکیں گے۔ سابق مشرقی پاکستان میں اگرتلہ کیس کی کہانی پڑھ لیں صورت حال سمجھ میں آجائے گی۔ پاکستان کسی کو بھیک میں نہیں ملا تھا اور نہ ہی اسے بھیک میں حاصل کی گئی رقم کی طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔ چینل کے مالکان ہوں یا چینل میں کام کرنے والے صحافی، انہیں سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کی نگاہ میں ترجیحات کیا ہیں، وہ کس چیز کو فوقیت دیتے ہیں، جس ملک میں وہ اپنا چینل چلاتے ہیں اس کی سالمیت سے وہ کتنے مخلص ہیں۔ آپ کی ترجیحات، آپ کی دی گئی فوقیت اور آپ کے اخلاص کے نمونے آپ کے کردار سے نظر آتے ہیں اور نظر آنا بھی چا ہئے ۔

اے آر وائی کے مالکان اور اعلیٰ سٹاف اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ آزادی اظہار تھا تو کیا قباحت ہے کہ عدالت کے روبرو اپنا موقف پیش کر تے ، مگر یہ لوگ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ چینل کے سہارے رائے عامہ اپنے حق میں استوار کرنا جانتے ہیں۔ حیدر آباد میں ان لوگوں نے ایک مقدمہ مارچ کے مہینے میں درج کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم پر ایک محلے میں ایک گھر والوں نے حملہ کیا۔ اس مقدمے کی پیروی میں کیوں کر تساہلی سے کام لیا جارہا ہے۔ کیوں نہیں اس کی پیروی کر کے مقدمے کا فیصلہ کرایا جاتا۔ چینل مالکان کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ان کے کیمرہ مین ہر کسی گھر میں گھر والوں کی رضامندی اور اجازت کے بغیر کیوں کر داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی کے گھر میں اجازت لئے بغیر داخل ہوں گے تو گھر والوں کا رد عمل تو برداشت کرنا ہی پڑے گا خواہ وہ گھر کسی عصمت فروش عورت کا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی تکریم ذرائع ابلاغ نہیں کریں گے، تو پھر قانون کی بالا دستی کے لئے آواز کون اٹھائے گا۔ جب آپ کوئی کارروائی کرتے ہیں، تو نتائج میں لڑائی جھگڑے کے علاوہ کسی مقدمے کا اندارج بھی تو آپ کے ذہن میں ہونا چاہئے، لیکن آپ در اصل ایسی آزادی چاہتے ہیںجس کی حدود آپ خو د بھی مقرر کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسی آزادی تو دنیا میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ہے۔ پیمرا ویب سائٹ پر صرف جولائی کے مہینے میں ناظرین نے 75 شکایات درج کرائی ہیں ، انہیں ہی پڑھ کر اصلاح کی جاسکتی ہے۔ عبدالرﺅف یعقوب اور جناب عبدالرزق یعقوب، المختصر مسٹر اے آر وائی جب آپ اپنی تصویر پاﺅں میں روندنا اور اپنی تذلیل برداشت نہیں کر سکتے ، آپ کو اپنی عزت عزیز ہے، تو مسٹر اے آر وائی اس ملک کے کروڑوں لوگوں کو قائداعظم ؒ سے آج بھی عقیدت ہے، الفت ہے اور محبت ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ لاوارث نہیں ہیں۔   ٭

مزید : کالم


loading...