شام پر امریکی حملے کی تیاریاں

شام پر امریکی حملے کی تیاریاں
شام پر امریکی حملے کی تیاریاں

  



                                        ملک شام کی تاریخ اور جغرافیہ کیا ہے؟.... دُوسرے عرب ممالک میں اس کی کیا سٹینڈنگ ہے؟.... اس کے موجودہ حکمران باقی عرب حکمرانوں سے کس طرح مختلف ہیں؟.... خطے میں اس کی سٹریٹجک اہمیت کیا ہے؟.... گزشتہ کئی ماہ سے شام میں بغاوت کا جو دور چل رہا ہے، اس کا آغاز کس طرح ہوا اور اسے منظم کرنے میں کن کن ملکوں کا ہاتھ ہے؟.... دُنیا کی واحد سپر پاور (امریکہ) ،پاور نمبر 2 (روس) اور نمبر3 (چین) کے کیا مفادات ہیں جو شام میں داو¿ پر لگے ہوئے ہیں؟.... امریکہ (نیٹو کے روپ میں) شام کے خلاف حملے کے لئے کیوں پَر تول رہا ہے؟.... اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟.... 21 ویں صدی میں نیٹو نے جن مسلم ممالک کو برباد کر کے رکھ دیا، ان کا قصور کیا تھا؟.... کیا شام پر امریکہ کا ممکنہ حملہ شیعہ، سُنی اختلاف کا سٹریٹجک تسلسل شمار کرنا چاہئے؟....

عام پاکستانی شہری کے لئے اوپر درج سوالوں کے جوابات کے بارے میں زیادہ تفصیلی نہیں تو کم از کم ابتدائی اور سرسری آگاہی تو ضرور ہونی چاہئے۔ کالم نگار برادری کو اس طرف کچھ تو توجہ دینی چاہئے اور مقامی اور ملکی سطح سے آگے نکل کر پبلک کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنے کا کچھ تو حق ادا کرنا چاہئے۔ ترقی یافتہ ممالک کے لکھے پڑھے طبقات اور ان کا میڈیا بالخصوص اس نیک کام میں حصہ لیتا رہتا ہے۔ ابھی آج (29 اگست2013ئ) کی اخباریں میرے سامنے آئیں تو ایک معروف انگریزی معاصر (Daily Times) کے صفحہ اول پر بائیں طرف ٹاپ پر جو تصویر لگی ہوئی تھی، اس کا کیپشن (عنوان) یہ تھا:

Free Syrian Army fighters and residents gather around a convoy of UN Vehicles carrying a team of United Nations Chemical Weapons experts at one of the sites of an alleged chemical weapon attack in Damascus` suburbs. REUTERS.

اس عنوان کا اُردو ترجمہ یہ ہے:

”آزاد شامی فوج کے فوجی جوان اور شہری اقوام متحدہ کی ان گاڑیوں کے قافلے کے گرد دو رویہ قطاروں میں کھڑے ہیں، جو دمشق کے نواح میں اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین معائنہ کاروں کو لے کے جا رہا ہے تاکہ وہ مقاماتِ حملہ میں سے کسی ایک مقام کی انسپکشن کر سکیں‘۔‘

یہ تصویر انٹرنیٹ کے ذریعے دُنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے اور آج کے تمام میڈیا پر اس کی اشاعت اور کوریج موجود ہے۔ فوٹو گرافر نے فنکاری یہ کی ہے کہ ایک نئی نکور لینڈ کروزر کو سڑک کے عین بیچ میں گزرتے دکھایا ہے۔ اس گاڑی کے بونٹ پر جلی حروف میں UN لکھا ہوا ہے اور گاڑی کے دائیں، بائیں وردی پوش اور سویلین لوگ قطار باندھے مو¿دب کھڑے ہیں.... تصویر کے نیچے جس صحافی نے دو سطری عنوان لگایا ہے، اس کی مہارت اور حب الوطنی کی بھی داد دیجئے کہ اس نے تصویر میں تین وردی پوش فوجیوں کو ”آزاد شامی فوج“ کے سپاہیوں کا نام دیا ہے۔ یہ Free Syrian Army کی اصطلاح، جس ذہن کی بھی پیداوار ہے، اس کی اپنے ملک و قوم سے لگن (Commitment) کا اندازہ لگائیے۔ یہ فوج جسے رائٹر کے اس ”صحافی عنوان نویس“ نے ”آزاد شامی فوج“ کا ٹائٹل دیا ہے، دراصل شام کی باغی فوج ہے.... آزاد فوج نہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں، جن کو برس ہا برس تک مغرب اور مشرق کے مفاد پرستوں نے خفیہ طور پر ملٹری ٹریننگ دی اور حکومت کے خلاف تیار کیا۔(1970ءمیں مکتی باہنی اور 1980ءسے 1988ءتک کے افغان جہاد کو یاد کیجئے)مغرب سے میری مُراد یورپ اور امریکہ سے ہے اور مشرق سے مراد وہ عرب ممالک ہیں جو مذہب کی ایک مخصوص برانڈ کے عالمی فروغ میں کئی عشروں سے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ مغرب کے اپنے مفادات ہیں اور مشرق کے اپنے مفادات اور مصلحتیں ہیں، جن پر اتنا کچھ لکھا جا چکا اور لکھا جا رہا ہے، جس کو آج بھی انٹرنیشنل پریس اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ اور پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔

تصویر کے اس مختصر عنوان کا دوسرا قابلِ غور حصہ وہ ہے جس میں ”دمشق کے نواح میں کیمیاوی حملوں“ کا ذکر ہے۔ یہ حملہ (یا حملے) ضرور ہوئے ہیں۔ ان میں ایک اندازے کے مطابق 100 اور بعض اندازوں کے مطابق 1000 سے زائد لوگ ہلاک بھی ہوگئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ اوردیگر نیٹو ممالک اس بات پر مُصر ہیں کہ یہ کیمیاوی حملہ شام کے صدر بشار الاسد کی شامی فوج نے کیا ہے، جس میں سینکڑوں، ہزاروں”بے گناہ“ شامی لقمہءاجل بنے ہیں اور چونکہ اس حملے میں سارن گیس کا استعمال کیا گیا ہے اور چونکہ اس گیس کا استعمال اقوام متحدہ کی فلاں فلاں قرار داد کی خلاف ورزی اور ایک انٹرنیشنل جُرم ہے، اس لئے مغرب کی انٹرنیشنل افواج (نیٹو) شام پر حملہ آور ہونے کا پلان بنا چُکی ہیں.... یہ حملہ بس آج کل میں ہُوا ہی چاہتا ہے۔

اس مجوزہ حملے پر آپ بہت کچھ میڈیا پر دیکھ اور پڑھ چکے ہوں گے، بلکہ شاید جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزریں تو بحیرئہ روم میں چار امریکی طیارہ برداروں سے شام کے سٹریٹجک اہداف پر میزائلوں کی بارش شروع ہو چکی ہو۔

برطانیہ نے دو روز قبل اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں شام پر حملے کی منظوری کے لئے ایک قرار داد پیش کی تھی، جس کو روس اور چین کی طرف سے ویٹو کا سامنا ہے۔ یہ دونوں مشرقی ممالک شام پر مغربی حملے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں، اگر حملہ ہوگیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے، پاکستان پر اس حملے کے نتائج کا کوئی اثر پڑے گا یا نہیں پڑے گا، کیا یہ حملہ، تیسری عالمی جنگ کا آغاز ثابت ہو گا؟ ان سوالوں کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے۔ نیٹو افواج یہ دیکھ چکی ہیں کہ انہوں نے عراق، افغانستان اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی تو روس اور چین دونوں خاموش رہے تھے۔ اب اگر شام کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے تو کیا روس اور چین اس کا کوئی فزیکل جواب دیں گے یا زبانی دھمکیوں ہی پر اکتفا کریں گے، ان سوالوں کا جواب آنے والے چند گھنٹے یا دن دیں گے۔

اقوام متحدہ نے جو یہ معائنہ کار دمشق بھیجے ہیں اور جن کی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کر کے ”پانچ بڑوں“ کا ووٹ حاصل کیا جائے گا تو یہ بھی ایک ڈرامے سے کم نہیں .... ہم سب کو معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کی حقیقت کیا ہے، اس کا اَن داتا کون ہے،ماضی میں اس نے اپنے اَن داتاو¿ں کی کیا کیا خدمات انجام دی ہیں، یہ معائنہ کار (انسپکٹرز) کون لوگ ہیں؟.... کن یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں، بڑی بڑی اور پُرکشش تنخواہیں اور مراعات کس سے لے رہے ہیں، رپورٹ میں کس کو قصور وار ٹھہرایا جائے گا؟.... ان سب باتوں کا علم ساری دنیا کو ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے دوسرے ذیلی اداروں سے اہلِ مشرق کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص ”خیر“ کی جو توقع ہو سکتی ہے، اس کی خبر بھی ہم مشرق کے تمام مسکینوں کو ہے۔ یہ اقوام متحدہ کیا ہے؟یہ جنگ عظیم دوم کے بعد فاتح اتحادیوں کے دماغ کا ”بغل بچہ“ ہی تو ہے۔ قارئین کے علم میں ہوگا کہ جنگ عظیم اول کے بعد بھی فاتح اتحادیوں نے ایک تنظیم ”لیگ آف نیشنز“ نام سے بنائی تھی جس کو اہلِ مغرب کا ”بغل بچہءاول“ کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہ ہوگا۔ یہ تنظیم کب بنی تھی اور کب ٹوٹی تھی، اس کی تفصیل آپ کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ مجھے تو حضرت اقبال کی وہ تین شعری مختصر نظم یاد آ رہی ہے جو انہوں نے اس تنظیم کے ٹوٹنے سے چند ماہ پہلے کہی تھی اور ”ضربِ کلیم“ کی آخری چند نظموں میں سے ایک ہے۔ اس کا آخری شعر، حضرتِ علامہ کے اپنے دورِ پیری کے او امر و نواہی کے تقاضوں کے باوصف ان کے تنفر کی شدت کا غماز ہے:

بے چاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے

ڈر ہے خبرِ بد نہ مرے منہ سے نکل جائے

تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے ولیکن

پیرانِ کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل جائے

ممکن ہے کہ یہ داشتہءپیرکِ افرنگ

ابلیس کے تعویز سے کچھ روز سنبھل جائے

اقوام متحدہ کا ہمارا اپنا تجربہ، (مسئلہ کشمیر کے تناظر میں) لیگ آف نیشنز(League of Nations) (جمعیتِ اقوام) کی اس جانشین کے بارے میں کتنا مبنی بَر حقیقت ہے! یہ داشتہءافرنگ اگر آج نہیں تو آنے والے کل میں ضروردم توڑ دے گی۔ ابلیس کا تعویز آخر اسے کب تک مہلت دے گا؟

 تازہ ترین خبریں یہ بھی ہیں کہ امریکی کانگریس خود شام پر اوباما کے اس حملے کے حق میں نہیں۔ ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک نے نیٹو کی شکل میں شام پر حملہ کیا تو روس، سعودی عرب پر حملہ کر دے گا....

خیال کہتا ہے کہ یہ خبر سچ ہوگی ....تبھی تو امریکی کانگریس نے شام پر حملے سے اوباما کو ”منع“ کردیا ہے۔ یہ امتناع روس کے اسی جوابی اقدام کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو اوپر کوٹ کیا گیا۔ اس بیان سے کانگریس، بین الاقوامی امریکی امیج کو داغدار ہونے سے بچانے کے لئے ایک راہِ فرار نکالنا چاہتی ہے۔ عراق اور لیبیا پر حملے میں روس اور چین کی خاموشی بلکہ بے حسی ساری دنیا کے لئے باعثِ حیرت تھی کہ یہ تب دونوں روسی ہتھیاروں سے لیس تھے.... اب اگر روس نے سعودی عرب پر جوابی وار کرنے کا عندیہ ظاہر فرمایا ہے تو یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز بھی ہو سکتا ہے جس کا انجام دیکھنے اور اس پر تبصرہ کرنے کے لئے شاید کوئی ذی روح اس کرئہ ارض پر زندہ نہ بچے!

مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دگرگوں

معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا

مزید : کالم