انتخابات میں دھاندلی، کب نہیں ہوئی!

انتخابات میں دھاندلی، کب نہیں ہوئی!
انتخابات میں دھاندلی، کب نہیں ہوئی!

  



                                                                        خبر ہے کہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے پرجوش نوجوان کارکن بہت بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں۔وہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس خارج کرنے اور تحریک انصاف کی انتخابات کے حوالے سے شکایات اور درخواستوں پر کارروائی شروع ہونے کو بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ میانوالی اور پشاور کی جیتی ہوئی قومی نشستیں ہارنے سے جو صدمہ ہوا تھا۔یہ حضرات اسے بھول گئے اور ایک مرتبہ پھر سے بہترین مستقبل کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔تحریک انصاف کے ایک سرگرم رکن نے جو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں امیدوار ہوں گے۔مٹھائی تقسیم کی اور اسے فتح سے تعبیر کیا کہ عمران خان کو معافی مانگے بغیر توہین عدالت کیس سے بریت مل گئی۔اس رکن کے مطابق کارکن مطمئن ہیں کہ ان کے لیڈر نے جو کہاوہی کیا اور معافی نہیں مانگی۔

دوسری طرف جو حضرات تحریک انصاف سے منسلک نہیں اور جن کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے وہ حےرت زدہ ہیں، ان کے نزدیک فیصلہ سمجھ میں نہیں آ رہا، کیونکہ عدالت کے سامنے یا اس کے باہر کسی سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور سب کو کرنا چاہیے۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ ان کے رہنماﺅں نے کب عدلیہ کی مخالفت کی، وہ بھی تو عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ان کے وزیراعظم کو تو30سیکنڈ کے اندر ایسی صورت کا سامنا ہوا کہ بعد میں وہ نااہل بھی قرار پائے اور وزارت عظمیٰ سے بھی ہاتھ دھویا، وہ زیادہ حیرت زدہ ہیں اور کچھ کہنے سے بھی قاصر ہیں۔

جہاں تک انتخابی دھاندلیوں اور الزام کا تعلق ہے تو یہ ایک دو دن کی بات نہیں، برسوں کا قصہ ہے۔حتیٰ کہ پچاس کی دہائی میں ابتدائی سالوں کے دوران یہاں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے تو ہم سکول کے طالب علموں کو بھی لے جا کر ووٹ ڈلوائے گئے ۔ہمیں یاد ہے کہ ہم تین چار ہم جماعتوں کو شاہ عالمی دروازہ کے سرکلر باغ میں بنے پولنگ سٹیشن پر لے جایا گیا اور ووٹ ڈلوائے گئے اس کے عوض کچھ نذرانہ بھی دیا گیا اور ہم دوستوں نے شوق سے خرچ بھی کیا۔اس کے بعد سب سے بڑی دھاندلی تو دور ایوبی میں ہوئی۔پہلے بنیادی جمہوریت کے نطام کے تحت بی ڈی ممبروں کے انتخابات ہوئے، ان کے بارے میں کہا گیا کہ مقامی سطح پر چھوٹے حلقوں میں انتخاب کی وجہ سے ہیرا پھیرا نہیں ہوگی ، لیکن یہاں بھی ہوئی۔دھن اور دھونس دونوں نے کام دکھایا اور پھر اسی نظام کے تحت قومی انتخابات کرائے گئے، یہ بلواسطہ انتخابات تھے اور صرف بی ڈی ممبروں کو ووٹ کا حق دیا گیا تھا، اس میں لاہور کا ایک بڑا معرکہ ایک ہی برادری کے دو بڑوں کے درمیان ہوا، کنونشن لیگ(ایوب خان) کی طرف سے چودھری محمد حسین اور ان کے مقابلے میں میاں افتخار الدین کے صاحبزادے میاں عارف افتخار تھے، مقابلہ بڑا سخت تھا، اس میں خریداری بھی ہوئی، عارف جیتے ہوئے نظر آئے، لیکن نتیجہ چودھری محمد حسین کے حق میں نکلا، اس میں پولیس کی کارکردگی بھی شاندار تھی، اسی پولیس نے 1964ء میں تو وہ معرکہ مارا جو آج بھی شرمندگی کا باعث ہے۔ایوب خان نے 1962ءمیں اپنے نافذ کردہ آئین کے تحت صدارتی انتخاب کا اعلان کردیا، وہ اس طرح اپنے اقتدار کو بزعم خود آئینی حیثیت دینا چاہتے تھے۔دوسری طرف اس وقت کے بڑے سیاستدانوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بمشکل آمادہ کرکے ایوب خان کے مقابلے میں کھڑا کردیا۔

کوئی سوچ سکتا اور اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک طرف بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ اور دوسری طرف ایک غاصب آمر ہو تو عوامی ہمدردیاں کدھر ہوں گی۔ہمیں یاد ہے کہ اس انتخابی معرکے کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن نے مادر ملت کے لئے باغ بیرون موچی دروازہ میں جلسے کا اہتمام کیا۔ان دنوں تمام جلسے اسی تاریخ باغ میں ہوتے تھے جو 46-47میں تحریک پاکستان اور سول نافرمانی کا مرکز تھا۔سٹیج سرکلر روڈ(اڈہ کراﺅن بس) والی مسجد کے سامنے باغ کے کونے میں بنائی گئی تھی۔یہ جلسہ موچی دروازہ کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں سے ایک جلسہ تھااور شرکاءپرجوش بھی تھے، جلسے کو دیکھ کر یہی کہہ رہے تھے کہ مادر ملت کو ہرانا مشکل ہے، لیکن فیصلہ عوام کے بلاواسطہ ووٹ سے نہیں، بالواسطہ منتخب کئے گئے بی ڈی ممبروں نے کرنا تھا، ہمیں یاد ہے کہ پولیس کو خصوصی ہدف دیا گیا، ہم نے خود دیکھا کہ انتخاب سے پہلی شب تھانہ اکبری دروازہ میں اس حلقے کے تمام بی ڈی ممبروں کو حکماً بلایا گیا، ان کو رات کا کھانا بھی یہیں کھلایا گیا، اور پھر اگلے روز پولیس ہی کی نگرانی میں پولنگ سٹیشن لے جا کر ووٹ ڈلوائے گئے۔اس تمام تر کاوش کے باوجود مادر ملت جیت رہی تھیں، اگر حضرت بھاشانی اپنے وعدے سے منحرف نہ ہو جاتے۔

دھاندلی اور احتجاج کا جنم جنم کا ساتھ ہے اور پھر اسی دھاندلی کے نام پر 1977ءکی تحریک شروع کی گئی۔پیپلزپارتی کے بعض مقامی امیدوار حضرات نے اپنے طور پر کچھ نہ کچھ کیا۔بعض پولنگ سٹیشنوں پر جھگڑے بھی ہوئے، تاہم مجموعی طور پر تنازعہ 16سے پچیس نشستوں پر تھا، بھٹو نے ایک مرحلے پر زیادہ متنازعہ نشستوں پر دوبارہ انتخابات کا عندیہ بھی دیا تھا، لیکن بات نہ مانی گئی، پھر ایک نئی تاریخ لکھی گئی اور یہ تحریک مارشل لاءاور مارشل لاءسے بھٹو کی پھانسی پر منتج ہوئی۔اس کے بعد آمریت اور جمہوریت کا کھیل ہوا تودھاندلی دھاندلی کی پکار بھی ہوتی۔ 2008ء میں بھی ایسے الزام لگے اور اب 2013ءمیں بھی صورت حال تبدیل نہ ہوئی، لیکن فرق یہ پڑا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی سے لے کرجماعت اسلامی اور ایم کیو ایم تک سب نے اپنے اپنے طور پر الزام لگائے، لیکن بات نہیں بڑھائی اور نتائج تسلیم کرلئے، تاہم اس مرتبہ تحریک انصاف ایک نیا اضافہ تھا۔نوجوان پر جوش تھے، عمران خان انتخابات جیتنے کا دعویٰ کررہے تھے جب مطلوبہ نتائج نہ آئے تو دھاندلی کا الزام لگا کر سنجیدہ مہم شروع کی گئی۔ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے تو تحریک چلانے کی دھمکی بھی دی گئی، لیکن امتحان کا یہ مرحلہ نہیں آیا، عمران خان کو توہین عدالت سے نجات مل گئی اور اس کے ساتھ ہی ان کی شکایت والی درخواست پر کارروائی بھی شروع ہوگئی۔حلقہ این اے 125کے انتخابی نتائج کے حوالے سے فریقین کو نوٹس جا چکے اور حلقہ این اے 122کے حوالے سے بھی کارروائی شروع ہوگئی، جبکہ حلقہ پی پی 150کا انتخابی نتیجہ روک کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا گیا ہے۔یوں تحریک انصاف والوں کو انصاف ملنے کے مواقع نظر آنے لگے ہیں اور ان کی طرف سے فتح قرار دے کر جشن بھی منایا جا رہا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف نے شنوائی کے لئے جو کامیابی حاصل کرلی، وہ مستقل ہو سکتی ہے یا نہیں ، اس کا علم 150کی دوبارہ گنتی اور دوسری عذر داریوں کے حوالے سے فیصلوں ہی سے ہوگا۔بہرحال دھاندلی کے خلاف تحریک تو رک گئی اب نتائج کا انتظار کرنے کے سوا چارہ نہیں اور یہ مجبوری ہے۔

مزید : کالم


loading...