بلوچستان کے نوگو ایریازاور اغوا کار

بلوچستان کے نوگو ایریازاور اغوا کار

  



وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کئی نو گو ایریاز اور اغوا کاروں کے72گروہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پچھلے چار آپریشن بھی مذاکرات سے ختم ہوئے اب بھی یہی پالیسی اپنائی جائے۔ بلوچستان اسمبلی میں امن و امان پر پیش ہونے والی تحاریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان مسئلہ کے حل کے لئے برطانیہ طرز کی آئرش مذاکرا ت والی پالیسی اپنائی جائے،” آخری تامل تک کو مار دو“ والی سری لنکن پالیسی نہیں اپنانی چاہئے۔ لاپتہ افراد کو باز یاب کیا جائے اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ روکا جائے۔ ادھر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ برطانیہ آئرش ری پبلکن آرمی سے مذاکرات کے اپنے تجربات سے پاکستان کو فائدہ پہنچائے تاکہ پاکستان بھی اپنے ناراض لوگوں کو مین سٹریم میں لا سکے۔ انہوں نے یورپ امریکہ اور اقوام عالم سے کہا کہ وہ پاکستان کی مدد کریں، تاکہ امریکہ کے نائن الیون جیسے سانحات کا بار بار سامنا کرنے سے پاکستان محفوظ رہے۔ اپنی ناراضگی کی وجہ سے اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہ اٹھانے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بھی بالآخر گزشتہ روز اسمبلی کا حلف اٹھا لیا ہے اور بلوچستان کے لا پتہ افراد کی بازیابی اور مرنے والے لوگوں کی ہلاکتوں کی شکایت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اپنی دھرتی (بلوچستان) سے وفاداری کو اولیت دینے کی بات کہی ہے۔

پاکستان کے تمام محب وطن عوام خواہ ان کا تعلق جس صوبے سے بھی ہو اپنے بلوچ بھائیوں کے خیر خواہ ہیں اور ان کی ترقی اور خوشحالی کی تمنا رکھتے ہیں، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ بلوچستان کے بگڑے ہوئے لوگ راہ راست پر آ جائیں ان کے تمام جائز شکوے دُور کئے جائیں ۔ بلوچستان میں بسنے والے کسی بھی پاکستانی پر کسی بھی طرح کا ظلم اور زیادتی نہ ہو۔ مکمل امن و امان کے ماحول میں اس خطے کو وہ ترقی اور خوشحالی ملے، جس کے وہ ہمیشہ سے مستحق ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر پنجاب کی طرف سے بجا طور پر بلوچستان کا مسئلہ برطانیہ کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے آئرش مسئلہ حل کرنے کی طرز پر حل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ چند روز قبل انہی سطور میں سری لنکا اور آئر لینڈ کے مسائل کو حل کرنے کے طریقہ ہائے کار کا ذکر کرتے ہوئے آئر لینڈ کے مسئلہ کو مذاکرات سے حل کرنے کی مثال کو سامنے رکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ گورنر پنجاب عالمی سطح پر ابھرنے والے ایسے مختلف مسائل کے سلسلے میں مذاکرات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے اگر پاکستانی فریقین کے درمیان مصالحتی خدمات سرانجام دی جا سکیں تو یہ قوم و ملک کے لئے ان کا بے پایاں اور یاد گار کام ہو گا، جس کے لئے پاکستانی ان کو کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ اس وقت ہمیں طالبان سے اور بلوچستان کے ناراض لوگوں سے مذاکرات کی ضرورت ہے اور سندھ کی سیاسی جماعتوں کو کراچی امن و امان کے لئے آپس میں مذاکرات کے ذریعے مجرموں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر متفق ہونا ہے۔ ایسے معاملات میں برٹش حکومت سے معاونت حاصل کی جائے یا اپنے لوگوں کے تجربات سے فائد ہ اٹھایا جائے ، یہ سارے معاملات مذاکرات ہی کے ذریعے طے ہونے چاہئیں۔ اس کام کی رفتار تیز کئے جانے کی ضرورت ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ بلوچ اپنی مٹی سے محبت ضرور کریں، لیکن وطن اور پوری قوم کو ہر گز نہ بھولیں، جس کا وہ حصہ ہیں۔ پاکستان کے سارے علاقوں کے سب مسائل کا حل صرف اور صرف قومی سوچ اپنانے میں ہے وہ سوچ کہ جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان اور اس کی ہر چیز سے محبت ہے۔         

مزید : اداریہ


loading...