کراچی آپریشن : وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس

کراچی آپریشن : وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس

  



                                                                                                            کراچی میں امن امان کی صورت حال پر غور کے لئے وفاقی کابینہ کا اجلاس کراچی میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میںمتحدہ قومی موومنٹ کے سینئررہنما فاروق ستار کو بھی خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی دعوت دی جائے گی، کراچی میں فوج طلب کرنے کے سلسلے میں ان کا موقف سنا جائے گا۔ اجلاس میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ، گورنر، چیف سیکرٹری ، ڈی جی رینجرز، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی شرکت کریں گے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کراچی میں فوج بھیجنے کی بجائے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر شہرمیں فوج بھیجنے کے بجائے حالات خراب کرنے والوں کے خلاف پولیس اور رینجرز کی مدد سے بلا امتیاز بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ کسی طرف سے کوئی بھی دباﺅ قبول نہیں کیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی حکومت کے اس منصوبے سے متفق ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اتفا ق رائے سے شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن ہو تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کیپٹن بنیں وفاقی حکومت بھرپور مدد مہیا کرے گی۔ پھر کوئی یہ نہ کہے کہ یہ میرا ہے اور یہ پرایا۔ سیاسی مفادات کو بچاتے رہے تو امن قائم نہیں ہو گا۔ حالات اور محرکات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے ، کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور مافیاﺅں کی شناخت ہوچکی، خلوص نیت سے کارروائی کی ضرورت ہے۔کراچی ایک ایسا شہر ہے، جہاں پورے ملک کے لوگ ہیں،جو پُرامن ہیں اور اپنی روزی کماتے ہیں، وہاں سے ملک کو بڑا ٹیکس ملتا ہے۔ کراچی کا مسئلہ سیاسی عینک اتار کر حل کرنا ہو گا۔ سب کو ملک کا سوچنا ہو گا۔ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس تشویشناک ہیں ۔ ہم مسلم لیگ (ن) کا نہیں ملک کا بھلا چاہتے ہیں۔ کراچی کا امن سندھ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نیت صاف ہے اس لئے انہو ں نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ وہ لیڈ کریں امن و امان قائم رکھنے والے تمام ادارے اور ایجنسیاں ان کے ماتحت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ آپریشن کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت نے بہت کام کیا ہے، بہت سے مجرموں کا سراغ ملا ہے، ان کی سیاسی وابستگیاں ہیں۔

ادھر کراچی بدامنی کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں ڈی جی رینجرز نے کہا ہے کہ جب تک عدالتیں سزائیں نہیں دیں گی امن مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات خراب کرنے میں سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز ملوث ہیں۔ اس پر عدالت نے پوچھا کہ ڈی جی رینجرز کو دو سال پہلے یہ ونگز ختم کرنے کا حکم دیا تھا اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ کراچی کے حالات کے بگاڑ میں سیاسی جماعتوں اور بالخصوص حکومتی جماعتوں کے مسلح گروہوں کے ہاتھ کی بار بار نشاندہی کی گئی ہے۔ انہی لوگوں نے شہر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔انہی کے سرپرست بدامنی اور لوٹ مار کے خلاف سب سے زیادہ واویلا کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں متحدہ کی طرف سے کراچی میں فوج کی مدد لینے کے مطالبے کی مخالفت کرچکی ہیں۔ اس سارے مسئلے کے حل کے لئے ٹھوس کارروائی کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کو بھرپور مدد دینے کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ وفاقی حکومت ماضی کے تمام تجربات اور ملک و قوم کو پہنچنے والے نقصان سے سبق حاصل کررہی ہے۔ امن و امان قائم کرنے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت ہی کی ہوتی ہے، لیکن صوبائی حکومت اس سلسلے میں اب بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کو تیار ہے نہ ہی سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز ختم کرنے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی پیشرفت ہوئی ہے۔ موجودہ ملکی حالات کسی بھی آپریشن کے سلسلے میں احتیاط برتنے اور ہر طرح کی حساسیت کو پیش نظر رکھنے کے متقاضی ہیں۔ اس معاملے میں مسلسل تاخیر معاملات کو سلجھانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ الجھانے کا باعث بنی ہے۔ اب نہ ہی شہر کے لوگوں میں مزید برداشت کا حوصلہ ہے اور نہ وفاقی حکومت زیادہ دیر تک صوبائی حکومت کا مُنہ دیکھ سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ہی کی پچھلے پانچ سال کے دوران سندھ میں حکومت رہی ہے۔ وفاقی حکومت میں بھی یہی دونوں جماعتیں اتحادی تھیں۔ وفاقی حکومت ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے سندھ کی حکومت توڑ کر وہاں گورنر راج قائم کر کے آمرانہ اقدامات کرنے اور وہاں اپنے خلاف تحریک شروع کرانے کے بجائے صوبائی حکومت کے مینڈیٹ کو قبول کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔ اپنی سطح کی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے اس کی طرف سے کراچی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ہر ممکنہ تعاون اور امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں کسی آپریشن کا حتمی فیصلہ اور طریق کار طے کیا جائے گا۔

فوج کی طرف سے آپریشن جرائم اور بدامنی سے بہت آگے کے معاملات میں آخری آپشن کے طور پر کیا جاتا ہے۔ قومی حلقوں کی طرف سے کراچی کا امن بحال کرنے کے لئے فوج بلانے کے سلسلے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت جو تمام معاملات کی حساسیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے،دہشت گردی کے علاوہ اِس سلسلے میں بھی تمام متعلقہ گروہوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ کراچی کے سلسلے میں یہ بات سب پر واضح ہے کہ ابھی تک وہاں کی صوبائی حکومت اور اس کے ادارے رینجرز کی امداد و تعاون کے باوجود اپنا فرض پورا کرنے یا صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں بدامنی اور لوٹ مار کے ذمہ دار افراد کی سرپرستی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ امن و امان قائم کرنا، جن لوگوں کی بنیادی ذمہ داری ہے،وہ اس کے لئے ابتدائی طور پر بھی کچھ نہیں کر رہے تو انتہائی اقدامات کی طرف بڑھنے کا آخر کیا جواز ہے؟ آج اسلامی دنیا میں اور بالخصوص شام اور مصر میں مسلمان آپس میں لڑکر جس طرح اپنی طاقت ختم کر رہے ہیں وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم جو پہلے ہی دہشت گردی کا عذاب بھگت رہے ہیں فوجی کارروائیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عوام کی زندگیوں کا اجیرن ہو جانا اور اس سلسلے میں سیاست دانوں کا کچھ نہ کرنا سب کے سامنے ہے، لوگ اپنے منتخب کئے گئے نمائندوں اور حکومتی رہنماﺅں کا گھیراﺅ کر کے انہیں مجرموں کی سرپرستی یا حکومت میں سے ایک چیز چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ فوج کی مدد آخری آپشن کے طور پر باقی رکھی جائے اور اس سے پہلے کی آپشنز کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہو گا۔ ذمہ دار لوگ ہی اپنی ذمہ داری نبھائیں تو اس طرح نہ مخالف سیاست دانوں کو وفاقی حکومت پر آمریت کا الزام دینے کا موقع ملے گا اور نہ بیرون ملک ہمارے دشمن فوج کے مظالم کے قصے کہانیاں گھڑ کر دنیا کے سامنے بیان کر سکیں گے۔

 ٭

مزید : اداریہ


loading...