ہندوستانی بالادستی تسلیم ،زرعی رہنمائی لینے کیلئے پنجاب کا پارلیمانی وفد بھارت بھیجنے پر اتفاق

ہندوستانی بالادستی تسلیم ،زرعی رہنمائی لینے کیلئے پنجاب کا پارلیمانی وفد ...
ہندوستانی بالادستی تسلیم ،زرعی رہنمائی لینے کیلئے پنجاب کا پارلیمانی وفد بھارت بھیجنے پر اتفاق

  



لاہور ( خبر نگار خصوصی) پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے بھارت کی زرعی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اس سے زرعی عوامل پر کاشتکار کو سبسڈی دینے اور بہتر زرعی پیداوار کے لئے رہنمائی حاصل کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سپیکر نے وزیر خوراک کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومت سے اجازت لیکر اراکین اسمبلی کے ساتھ ذاتی اخراجات پر ہندوستانی پنجاب کا دورہ کریں تاکہ اس کی پالیسی اور طریقِ کار سے استفادہ کیا جاسکے جس کے نتیجے میں اس ملک کے عوام بھی مستفید ہوسکیں ۔یہ اتفاقِ رائے ’گندم کی امدادی قیمت کی تجاویز پر عام بحث‘ میں سامنے آیا ہے ۔ بحث کے دوران اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ امدادی قیمت کے تعین اور پیداوار کی خریداری میں محکمہ ذراعت سمیت بیوروکریسی اور پالیسی ساز مناسب ویژن نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ایک طرف تو چھوٹے کاشتکار کو مشکلات اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑتاہے تو دوسری جانب خوراک کے بحران کا اندیشہ بھی لاحق ہوجاتا ہے جبکہ صرف امدادی قیمت میں اضافے سے غیرکاشتکار اور شہری آبادی کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔سپیکر رانا محمد اقبال خان نے وزیر خوراک کو مخاطب کرکے بھارت کا نام لئے بغیرکہا کہ مہربانی کریں اور ریسرچ پر بھرپور توجہ دیں۔ میری اور اس ایوان کی طرف سے یہ رائے ہے کہ ریسرچ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، پڑوسی ملک جس کے ساتھ تعلق اچھا نہیں ہے ، وفاقی اور پنجاب حکومت سے اجازت لےکر وہاں کادورہ کریں تو شائد آپ ان کی اختیار کی ہوئی چیزوں سے استفادہ کرسکیں ، میں آپ کو پابند نہیں کرسکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اجازت نہ ملے ،آپ ساتھی اراکین کا وفد ساتھ لے جائیں تو اعتراض نہیں ہوگا ۔اس موقع پر سابق وزیر خوراک اور حکومتی رکن چودھری محمد اقبال نے کہا کہ آپ نے تو بھارت کا نام نہیں لیا لیکن میں اس کا نام لے لیتا ہوں حالانکہ بھارت کی تعریف کرنے کو دل نہیں چاہتامگر درست بات تو کرنا پڑے گی ۔ حزبِ اختلاف کی طرف سے تحریکِ انصاف کے سبطین خان نے سپیکر کے موقف کی تائیدو تحسین کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دورے کیلئے ہمیں ایک وفد بنانا چاہئے اور خود اپنے خرچے پر جانا چاہئے کیو نکہ اگر ہم الیکشن لڑنے کیلئے اخراجات کرسکتے ہیں تو اس اہم مقصد کیلئے بھی اپنی جیب سے خرچہ کرسکتے ہیں ۔جس پر سپیکر نے واضح کیا جتنے لوگ بھی جائیں گے وہ اپنے اخراجات خود ادا کریں گے وہ اس دورے کیلئے بھی اپنی جیب سے اخراجات ادا کرسکتے ہیں ۔یوان میں موجود اراکین نے اس تجویز کی تائید کی ۔ بحث میں حصہ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید ۔ امجد علی جاوید ،چودھری محمد اقبال اور سبطین خان نے حصہ لیا ۔

مزید : لاہور