اٹھا ہے دل میں آج تماشے کا شوق بہت

اٹھا ہے دل میں آج تماشے کا شوق بہت
اٹھا ہے دل میں آج تماشے کا شوق بہت
کیپشن: 1

  

آج دو ہفتوں سے جاری آزادی اور انقلاب مارچ نے ایک کامیابی حاصل کر لی تھی اور وہ کامیابی تھی سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے حوالے سے منہاج القرآن کی مدعیت میں ایف آئی آر کا اندراج۔ اب اس پر جو بات کی جائے وہ ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔طاہر القادری کہتے ہیں جیسے ہم نے کہا ویسے اندراج نہیں ہوا، کیونکہ اس میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں، اس پر بحث ہو سکتی ہے ،یہ اتنی بڑی بات نہیں۔ پھر ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اس کیس کو بھرپور قانونی طریقے سے لڑنے کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جو عدالتی کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ کے مندرجات ایک نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز) نے نشر کئے، ان مندرجات پر تو بات کی جائے گی، مگر اس سے پہلے ایک بات کرنا چاہوں گا کہ جناب مجیب الرحمن شامی نے 13 اگست کو شہباز شریف صاحب کا انٹر ویو کیا اور ان سے بہت وضاحت سے یہ سوال پوچھا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر کیوں نہیں آئی، جس کا جواب وزیر اعلیٰ صاحب نے یہ دیا کہ اس کا ایک پروسیس ہے، ابھی وہ ان تک پہنچی ہی نہیں، جیسے ہی پہنچے گی تو اس رپورٹ کو منظر عام پر لے آیا جائے گا۔ ایک یہ وعدہ جو وفا نہ ہوا اور ایک دوسرا وعدہ تھا جو سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے بعد وزیر اعلٰی میاں محمد شہباز شریف نے خود پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا تھا کہ اگر حکومت اس سب میں ملوث ہوئی تو میں خود مستعفی ہوجاو¿ں گا ،یہ وعدہ بھی وفا نہیں ہو سکا۔

 جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس باقرنے کہا انہیں صرف تحقیقات کے لئے کہا گیا ہے کسی پر ذمہ داری عائد کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، جس کا انہیں افسوس ہے۔ پھر انہوں نے بہت وضاحت سے کہا کہ منہاج القرآن کے سامنے موجود بیرئیرز قانونی تھے ،یہ بھی کہا گیا کہ پنجاب حکومت سے منظوری کے بعد پولیس آپریشن کیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پولیس نے وہی کچھ کیا، جس کا حکومت نے اسے حکم دیا، باقی مندرجات کی جانب جانے سے گریز کرتے ہوئے اگر صرف انہی کو اور ان میں سے ایک کو، یعنی منہاج القرآن کے سامنے جو بیرئیرز لگائے ہوئے تھے ،وہ قانونی تھے تو پھر حالات سب کے سامنے آجائیںگے اور حقیقت حال بھی سب پر واضح ہو جائے گی کہ کون کیا چاہتا تھا۔ آیا پولیس درست موقف پر تھی یا منہاج القرآن والے، کیونکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری کارروائی، یعنی بیرئیرز ہٹانے کے لئے آئے تھے جو کہ غیر قانونی تھے۔ آخر انہیں یہ حکم کہیں سے تو آیا ہو گا ،اگر (ٹی ایم او) اتھارٹی کو یہ حکم ملا تو کہاں سے ،ملا کس نے دیا اور کیوں دیا؟

اس رپورٹ میں ایک بات اور بھی نہایت غور طلب ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اس آپریشن میں کیا کر رہے تھے؟ سات عدد ایس پیز وہاں پر کیوں موجود تھے؟ اور کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کو واقعہ کا علم نو بجے سے ساڑھے نو بجے کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ شہباز شریف کے معاملے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ علی الصبح جاگ جاتے ہیں اور 7بجے کے قریب ان کو اخبارات کے تراشے مل جاتے ہیں تمام اخبارات ان کے سامنے ہوتے ہیں اور پھر ماڈل ٹاو¿ن میں یہ واقعہ ہو رہا ہے اور تمام شہر میں گولیوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں لاہور شہر میں ایمرجنسی کی کیفیت ہے اور وزیراعلیٰ کو ساڑھے نو بجے معلوم پڑ رہا ہے۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر یہ تمام معاملہ پولیس پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے تو وہ اس لئے ماننے میں نہیں آتی کہ اس وقت خان بیگ اپنے آفس کا چارج چھوڑ رہے تھے اور نئے آئی جی سکھیرا چارج سنبھال رہے تھے۔ پولیس اس وقت اس حالت میں نہیں تھی کہ اتنا بڑا فیصلہ لے سکے۔ تو پھر کیا توقیر شاہ صاحب نے فیصلہ از خود لیا جو کہ پھر ایک مرتبہ ممکن نظر نہیں آتا، تو کیا یہ فیصلہ رانا ثنا اللہ نے کیا رانا صاحب بھی ایک دانشمند انسان ہیں۔ وہ اس طرح کا نا عاقبت اندیش فیصلہ نہیں لیں گے کمیشن کی اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر توقیر شاہ نے وزیراعلیٰ کے کہنے پر آپریشن ختم کرنے کا حکم نامہ رانا ثنا اللہ اور ہوم سیکرٹری کو دیا جو کہ نہیں دیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپریشن آغاز سے اختتام تک وزیراعلیٰ کی نظر میں تھا ان کی ہدایات پر ہو رہا تھا اور وہ مخالفین کو سبق سکھانے کے موڈ میں تھے۔ اس لئے انہوں نے اس آپریشن کو روکنے کے احکامات جاری نہیں کئے۔

اب چلتے ہیں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کی جانب اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے تمام پہلے صفحات جو کہ ہماری قومی زبان میں ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ پولیس کی جانب سے کروائی گئی ایف آئی آر کو سامنے رکھ کر اور اسے درست ثابت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ جس اسلحے کا ذکر جے آئی ٹی میں کیا گیا ہے کہ وہ منہاج القرآن کے لوگ یعنی خرم نواز گنڈا پور وغیرہ کا تھا تو اس کا فرانزک ٹیسٹ ہوا ہے یا نہیں؟ اس پر موجود انگلیوں کے نشانات کی جانچ کروائی گئی ہے یا نہیں؟ اس کا ذکر نہیں ملتا ایک اور بات جو کہ یہاں ذکر کرنا چاہوں گا کہ وہاں جن لوگوں کی شہادت ہوئی ہے ان میں سے کسی کو بھی اس اسلحے کے فائر نہیں لگے،جو پولیس نے منہاج القرآن سے وابستہ کئے ہیں اس سانحے میں چند لوگ ایسے بھی تھے جن کو اونچائی سے فائر کر کے مارا گیا تھا اور سات لوگ ایسے تھے جن کو سیدھا فائر کر کے مارا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر اونچائی سے اسنائپرز کو بٹھایا گیا، مگر کیا عورتوں نے بھی پولیس پر فائرنگ کی تھی یا ان کا کوئی بندہ مارا تھا، جس کی وجہ سے فائر کیا گیا یا ان عورتوں نے کوئی خودکش جیکٹ زیب تن کر رکھی تھی اور وہ دھماکہ کرنے والی تھیں جو ان خواتین کو سنائپرز نے مارا۔ پھر وہ اختلافی نوٹ جو کہ اس جے آئی ٹی کی اصل ہے اور وہ اس لئے کہ اگر پاکستان کی دو بنیادی اور بڑی سیکیورٹی ایجنسیاں جو کہ ہر طرح کے آلات اور جدید سہولیات سے آراستہ ہیں وہ اگر اختلاف کر رہی ہیں تو اس میں کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی انہوں نے اپنا استدلال کسی ٹھوس بنیاد پر تو کھڑا کیا ہوگا۔ وہ کیا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات ہے کہ اگر یہ حکومت کے حق میں ہے تو پردہ داری کس بات کی ہے۔

 ہٹ دھرمی اور اقتدار سے چپکے رہنے کی وجہ سے یہ نوبت آئی کہ عمران خان اور طاہر القادری دونوں کو مارچ کرنا پڑا۔ بہت سے وفاقی وزراءاور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ طاہر القادری کی ایف آئی آر والی بات ہم مان رہے ہیں، مگر یہ تو آگے ہی بڑھتے جارہے ہیں یہ تو نظام لپیٹنے کی بات کر رہے ہیں ان تمام صاحبان کی خدمت میں عرض ہے کہ اس نظام کے خلاف ہی طاہر القادری نے پاکستان آنے کا اور انقلاب لانے کا اعلان کیا تھا۔ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن اسی اعلان کے رد عمل میں حکومت سے سرزد ہواتھا، تو پھر قادری صاحب اپنی بات میں حق بجانب ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی ایف آئی آر تو راستے میں آگئی ہے۔ اصل مطالبہ تو اس نظام کو بدلنا ہی ہے۔ اس قانون کی درست طریقے سے عمل داری ہے اس آئین کا اپنی حالیہ مکمل شکل میں نفاذ ہے جو کہ درست ہے ان پر بات چیت سے ڈر کیوں آخر موجودہ نظام کو اِس کی خامیوں سمیت بچانے کی وجہ کیا ہے؟آج کی ملاقات میں نواز شریف صاحب نے آرمی چیف سے درخواست کر دی کہ ثالثی کروائیں اور معاملہ ختم کروائیں۔ اگر یہی کرنا تھا تو اتنا تماشا کیوں صرف اپنا اقتدار بچانے کے لئے جمہوریت کو نہیں۔ یہ رویے عوام کے خادموں کے نہیں ہوتے آگے آپ خود سمجھدار ہیں میں تو صرف اتنا کہوں گا:

لگا کہ آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا

اٹھا ہے دل میں آج تماشے کا شوق بہت

جھکا کر سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے

حضور شوق سلامت رہے شہر اور بہت....

مزید :

کالم -