چین کی معاشی ترقی:پاکستان کے لئے قابل تقلید ماڈل

چین کی معاشی ترقی:پاکستان کے لئے قابل تقلید ماڈل
 چین کی معاشی ترقی:پاکستان کے لئے قابل تقلید ماڈل
کیپشن: 1

  


چینی معیشت کی عالمگیریت پاکستان کیلئے ایک مددگار امر ہے ۔ اور پاکستان کیلئے ایک مشعل راہ بھی۔ہم معاشی ترقی کے حوالے سے چین کی عالمی حکمت علمی کا مطالعہ کر کے اپنے مستقبل کی راہوں کا واضح تعین کر سکتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آخر چین نے ایسا کونسا قد م اٹھا یا کہ آج ساری دنیا میں چینی معیشت کا بول بالاہے۔

در اصل عالمی تجارتی پالیسی کا نفاذ، حکومت چین کا ایسانمایاں اقدام ہے جس نے چین میں اوپن اکنامک سسٹم کو زیادہ سبک رفتا ر کر دیا ہے۔چین کی سٹیٹ کونسل کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ تمام تر تجارتی پالیسیوں پر تمام سرکاری اداروں میں مقامی سطح پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہیے کیونکہ چین کی تجارتی پالیسیاں صرف چین ہی کا معاملہ نہیں بلکہ چین کی ہر پالیسی عالمی اقتصادی و تجارتی نظام کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ چین اپنے ہاں تجارتی قواعد وضوابط کواتنے عمدہ انداز سے استعمال کرے کہ نہ صرف چین کے اندر کے وسائل موثر انداز سے بروئے کار لائے جاسکیں بلکہ اس سے عالمی منڈیوں کے ارتباط اور اشتراک کے بھی مثبت نتائج برآمد ہوں۔چین دنیا کا سب سے بڑا تجارتی ملک بن چکا ہے جبکہ اس کی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر ابھر چکی ہے جو عالمی معیشت پر ہر طرح سے اثر انداز ہو رہی ہے کیونکہ یہ پہلے ہی دنیا کے 120 ممالک کا سب سے بڑ ا تجارتی پارٹنرہے۔اس لئے چین کی وزارت تجارت اپنی تجارتی پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے پالیسی کی تشریح، ایڈووکیسی، ٹریننگ اور عملدرآمدگی رولزکے حوالے سے ٹھوس کوششیں بروئے کار لاچکی ہے۔

سال 2000 میں حکومت چین نے چینی کمپنیوں کو بیرون ملک سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے لئے ’’گو گلوبل ‘‘ کے نام سے نئی حکمت عملی کا آغا ز کیا ۔ اس ضمن میں ستمبر 2007 میں 200 ارب ڈالر کے فنڈ سے چائنہ انویسٹمنت کارپوریشن کی بنیاد رکھی گئی۔ا س اقدام کا ایک بنیادی مقصد یہ تھا کہ زر مبادلہ کے ذخائیر میں وسیع پیمانے پر اضافہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ تیل اور معدنیات جیسے قدرتی وسائل حاصل کیئے جائیں۔سال 20012 میں چین نے کینیڈا، آسٹریلیا اور بعض یورپی ممالک میں سرمایہ کاری کی۔بعد ازاں سنگا پور، جاپان، جنوبی کوریا اور فلپائن میں دیگر ممالک کی نسبت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔حجم کے اعتبار سے تیل ، گیس اور توانائی کے شعبوں میں ہونے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے اس دوران چین کے تین بڑے منصوبے ، CNOOC، سائنوپیک اور سائنو چیم، منظر عام پر آئے جو کہ توانائی کے میدان میں قابل توجہ منصوبے تھے۔

چین نے آسیان (ASEAN)ُ پاکستان، چلی، ہانگ کانگ، مکاؤ، نیوزی لینڈ ، سنگا پور، پیرو اور کوسٹا ریکا کے ساتھ فری ٹریڈ کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ جبکہ چین نے تائیوان کے ساتھ بھی اقتصادی تعاون کا ایک اہم معاہدہ کر رکھا ہے۔چین اس وقت سعودی عرب ، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر ، بحرین، آسٹریلیا، آئس لینڈ، ناروے ، سوٹزر لینڈ اور جنوبی افر یقن کسٹم یونین( جن میں جنوبی افریقہ بوٹنسوانہ، لیسوتھو، نمیبیا اور سوازی لینڈ شامل ہیں) کے ساتھ فری ٹریڈ اگریمنٹ کرنے کے عمل میں ہے،چین نے بھارت کے ساتھ بھی ایک فری ٹریڈ اگریمنٹ کرنے کی کوشش کی جس پر پیش رفت کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔

چین کی کامرس منسٹری نے بیرونی تجارت کے فروغ کو مستحکم بنانے کیلئے بہت محنت کی ہے۔ منسٹری کی قیادت نے بیرونی تجارت کو اولین ترجیح قرار دے رکھا ہے اور اس کے فروغ کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ بیرونی تجارت کی سہولت کے لئے مقامی کاروباری اداروں کی سہولت کے لئے پانچ اہم اقدامات کئے جا چکے ہیں ۔۔۔اول، چین نے ایسی مصنوعات کی کیٹگریز کو کم کر دیا ہے جن کے لئے لائسنس کا حصول ضروری ہو۔ دوئم، چین نے زرعی پراسیسنگ سے وابستہ تجارت کی نظامت کار ی اور معائینہ وغیر ہ کے اختیارات حکومت کی نچلی سطح پر منتقل کر دیئے ہیں ، سوئم، چین نے ٹیکسٹائل پراڈکٹس کے سرٹیفکیٹ آف اوریجن کے اجراء سے متعلقہ فیس کو ختم کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی وزارت تجارت سے وابستہ تمام لائسنس فیسیں بھی ختم کر دی ہیں۔، چہارم، چین نے پراسیسنگ ٹریڈ سے متعلقہ کاروباری اداروں سے ویلیو ایڈڈخدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیسوں میں بھی نمایاں کمی کر دی ہے ۔ اس طرح پراسیسنگ ٹریڈ سے وابستہ 25000 کمپنیوں میں سے اکثر کی ویلیو ایڈڈ سروس فیس کم ہو کر صرف آٹھ فیصدی رہ گئی ہے اور جن چند کمپنیوں کی فیس زیادہ ہے وہ بھی 75 فیصدی سے زیادہ نہیں۔علاوہ ازیں، ایکسپورٹ امپورٹ کے 116 ویں کینٹن فیئر کے ایکسپورٹ سیکشن کی سٹالوں کی فیس میں بھی نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔

تاہم ، چین کے بعض تجزیہ نگار چین کی طرف سے اس برس براہ راست ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری کی سست روی پر تشویش کا شکار ہیں۔لیکن اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کی براہ راست ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری ، گلوبل اکانومی کے اتار چڑھاؤ، عالمی سرمائے کے بہاؤ کی اونچ نیچ اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے رجحان سے وابستہ ہے۔یقیناً براہ راست ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری کی سٹرکچرل ایڈجسٹمنت نے بھی بیرونی سرمایہ کاری پر کچھ منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔لہٰذا ، اگر مستقبل میں چین کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں معمولی کمی واقع ہوتی ہے تو اسے نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

اگر ہم اس صورتحال کا تجریہ تکنیکی یا دیگر قلیل المدتی عوامل کی روشنی میں کریں تو اس برس چین کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں واقع ہونے والی کمی کے چار پہلو سامنے آتے ہیں۔ جن میں پہلا اور بنیاد ی پہلو یہ ہے کہ گزشتہ برس فروری میں چین کے ادارے کنوک (CNOOC) نے کینیڈ ا کی نیکسن کمپنی 14.8ارب امریکی ڈالر میں خرید لی جو کہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ مگر رواں سال کے پہلی ششماہی تک اس ضمن میں کوئی ڈلیوری نہیں ہوئی۔لہٰذا اگر گزشتہ برس کے اعداد وشمار میں سے نیکسن پراجیکٹ کو نکال دیں تو پتہ چلے گا کہ اس برس پہلے پانچ ماہ کے دوران گزشتہ برس کے اس دورانیہ کی نسبت 58 فیصدزیادہ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔اگر نیکسن جیسا بڑا منصوبہ رواں سال کے اواخر تک شروع ہو جا تا ہے تو پھر صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔جوں جوں چینی معیشت مستحکم ہوتی ہے اور بڑے سرحدی منصوبے پایہءِ تکمیل تک پہنچتے ہیں، چین کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 10 فیصدی اضافہ متوقع ہے۔

چین کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کا دوسرا پہلو، عالمی سطح پر معاشی سست روی، زر شراکت میں کمی اور فنانسنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں جن کی وجہ سے کسی کمپنی کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی استعداد کم ہوجاتی ہے۔اس ضمن میں تیسرا پہلو، زر مبادلہ کا اتار چڑھاؤ اور چوتھا پہلو عالمی منڈی میں قیمتوں کی مسابقت ہے۔کیونکہ چین کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری زیادہ تر انرجی اور مائیننگ کے شعبوں میں ہے۔ لہٰذا ، جب عالمی منڈی میں ان شعبوں کے مال کی قیمتیں گرتی ہیں تو چینی سرمایہ کاروں کا جوش و خروش انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ماند پڑ جاتا ہے۔

سال2002 ء میں چین کی غیر مالیاتی بیرونی سرمایہ کاری کا حجم2.7 ارب امریکی ڈالر تھا۔ جبکہ سال2013ء میں یہ حجمم بڑھ کر 90.2 ارب امریکی ڈالر ہوگیا۔گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہونے والا یہ 33 گنا اضافہ ایک حوصلہ افزاء امر ہے۔آج دنیا بھر میں چینی سرمایہ کاری کا ایک وسیع جال بچھ چکا ہے ۔چین کی ’’گلوگلوبل ‘‘ کی حکمت عملی کامیابی سے رواں دواں ہے اور اس برس بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے عالمی سطح پرنظر آنے والی معمولی کمی سے صرف نظر کیا جانا چاہیے۔ اور چین کی وزارت تجارت جس تندہی کے ساتھ اپنی ترقی پسندانہ حکمت عملی پر کارفرما ہے مستقبل میں چین کی بیرونی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہوگاجس کے مثبت اثرات پاکستانی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے،تاہم پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لئے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکا م کی اشد ضرورت ہے۔اور ایوان اقتدار کے ساتھ ساتھ حزب مخالف کی جماعتوں کو بھی پاکستان کی معاشی ترقی کے ایجنڈے کو اولیں ترجیح بنانا پڑے گا۔

(نوٹ: کالم نگار پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہیں)

مزید :

کالم -