مردوں کے بال کیسے اور کیوں گرتے ہیں؟ وہ گنجے کیوں ہوجاتے ہیں؟ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

مردوں کے بال کیسے اور کیوں گرتے ہیں؟ وہ گنجے کیوں ہوجاتے ہیں؟ تمام باتیں جو ...
مردوں کے بال کیسے اور کیوں گرتے ہیں؟ وہ گنجے کیوں ہوجاتے ہیں؟ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ تقریباً تمام مردوں کے بال ہی گرتے ہیں اور وہ گنجے ہوتے ہیں لیکن بعض مردوں میں یہ عمل اس قدر کم ہوتا ہے کہ ان کے گنجے ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ دوسری طرف کچھ مردوں میں یہ عمل بہت زیادہ ہوتا ہے اور ان کے سر کا بیشتر حصہ بالوں سے خالی ہو جاتا ہے۔ مردوں کے سر کی کئی جگہوں سے گنجے ہونے شروع ہوتے ہیں۔ کچھ مردوں میں سب سے پہلے ماتھے کے دونوں اطراف سے بال گرنا شروع ہوتے ہیں اور پیچھے کی طرف گرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ عمل بہت سے مردوں میں ہوتا ہے جب وہ جوانی سے ادھیڑ عمری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس سے بالوں کے گرنے کا عمل انتہائی سست ہوتا ہے اور مرد کے مکمل گنجا ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

’وہ خاتون جو شیرنی کیساتھ سوتی ہے مگر وہ کاٹتی نہیں‘تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

دوسرے کچھ مرد سر کے درمیانی حصے یا چوٹی سے گنجے ہونے شروع ہوتے ہیں۔ جن مردوں کے بال اس جگہ سے گرنے شروع ہوں وہ بہت جلدی گنجے ہو جاتے ہیں۔گنجے ہونے والے مرد مختلف کیمیکلز کی تلاش کرتے ہیں جن سے وہ بالوں کا گرنا روک سکیں لیکن فی الحال ایسا کوئی کیمیکل موجود نہیں۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ مردوں کے بال جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی گرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن گنجے ہونے کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ اس میں بال پہلے باریک ہوتے ہیں اور پھر گرتے ہیں۔ سر کے بال باقی جسم پر موجود بالوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ سر کے بال یونٹس کی شکل میں اگتے ہیں اور خلیوں کے گچھوں کی شکل میں پیدا ہوتے ہیں۔اس عمل میں ایک سوراخ سے 2سے 5بال اگتے ہیں۔پیدائش کے وقت اس ایک یونٹ میں ایک بال موجود ہوتا ہے۔ بعد میں 2سے تین سال کی عمر میں اس یونٹ کے باقی بال بھی اگ آتے ہیں۔جب مرد گنجے ہونے لگتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے یہ بعد میں پیدا ہونے والے بال متاثر ہوتے ہیں اور اگنا بند کر دیتے ہیں۔ وہاں صرف پیدائش کے وقت سے موجود پرائمری بال موجود رہ جاتا ہے اور بعد میں وہ بھی گر جاتا ہے۔ اس طرح جب تک مرد پوری طرح گنجا نظر آنا شروع ہوتا ہے ممکن ہے اس وقت تک اس کے 50فیصد تک بال گر چکے ہوں۔

بلڈ پریشر اور دل کے مریض دوپہر میں خراٹے لیں تو وہ تندرست رہیں گے، یورپین سوسائٹی آف کارڈیولوجی کی تازہ رپورٹ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

بال گرنے کا عمل عموماً وراثتی ہوتا ہے جیسا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ جڑواں بچوں میں ہمیشہ ایک ہی طریقے سے بال گرنے شروع ہوتے ہیں، ایک ہی جتنے گرتے ہیں اور وہ ایک جیسے ہی گنجے ہوتے ہیں۔سر کے سامنے کے حصے یا چوٹی کے بالوں کی نسبت پچھلے حصے کے بال مضبوط ہوتے ہیں۔ جب مرد سامنے سے یا چوٹی سے گنجے ہو جاتے ہیں تب بھی پچھلی طرف کے بال سر پر موجود رہتے ہیں اور اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ممکن ہو چکا ہے کہ پچھلی طرف موجود مضبوط بالوں کو سرکے گنجے ہو جانے والے حصوں پر لگا دیا جائے۔ اس طریقہ علاج کے آنے کے بعد اب گنجا ہونا مردوں کے لیے اختیاری ہو گیا ہے۔ وہ چاہیں گنجے رہیں اور چاہیں تو اپنے سرکے پچھلے حصے کے بال سامنے اور چوٹی پر لگوا کر گنجے پن سے چھٹکارہ پا لیں۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...