چین کا وہ گاﺅں جس کے ہر باسی کے پاس ایک ”خفیہ ہتھیار“ ہے

چین کا وہ گاﺅں جس کے ہر باسی کے پاس ایک ”خفیہ ہتھیار“ ہے
چین کا وہ گاﺅں جس کے ہر باسی کے پاس ایک ”خفیہ ہتھیار“ ہے

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کراٹے اور مارشل آرٹس کا ذکر آئے تو فوری طورپر ذہن میں چین کا نام ابھرتا ہے۔ یہ تو ہم سبھی جانتے ہیںکہ چین میں مارشل آرٹس کو عبادت کا درجہ حاصل ہے اور چینیوں کی اکثریت مارشل آرٹس سیکھتی ہے لیکن ایسے چینیوں کی تعداد بھی کم نہیں جو مارشل آرٹس سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ باقی پورے چین میں یہ شرح کم یا زیادہ ہے لیکن چین کا ایک گاﺅں ایسا ہے جس کا ہرباشندہ مارشل آرٹس کا ماہر ہے۔ وسطی چین کے ضلع تیان ژو میں واقع اس گاﺅں کا نام گنگ ژی ڈانگ ہے اوریہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس گاﺅں میں ڈانگ قبیلے کے افراد رہتے ہیں جو چین کی 56نسلی اقلیتوں میں سے ایک ہے۔

باقی چین سے کٹے ہوئے اس گاﺅں کا ہر باشندہ کنگ فو مارشل آرٹس کے ایک انوکھے سٹائل کا ماہر ہے اور ان کے پاس ہمہ وقت ایک خفیہ ہتھیار ہوتا ہے۔ اس گاﺅں کے باشندوں کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ کاشتکاری کے علاوہ ان کا صرف ایک ہی مشغلہ ہے اور وہ ہے مارشل آرٹس۔ گاﺅں کا ہر شخص فارغ وقت میں صرف مارشل آرٹس کی مشق کرتا ہے۔اس گاﺅں میںمخالف سے نمٹنے کے لیے زیادہ ہاتھوں کا استعمال کیا جاتا ہے یا پھر لاٹھی اور ترشول بطور ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔یہاں لوگ بچپن ہی سے اپنے ماں باپ اور گاﺅں کے دیگر افراد سے مارشل آرٹس سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔گاﺅں میں چین کی روایتی طرز کی عمارتیں ہیں۔

گاﺅں کے مقامی افراد کا اپنے اس عجیب و غریب رہن سہن کے بارے میں کہنا ہے کہ چونکہ ان کا گاﺅں پہاڑوں کے درمیان ایک جنگل میں واقع ہے اس لیے اکثر جنگلی درندے گاﺅں پر حملے کرتے رہتے ہیں اور انسانوں اور جانوروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے حملوں سے بچنے کے لیے گاﺅں کے ہر شخص کو مارشل آرٹس کا ماہر بنایا جاتا ہے۔وہ شیروں ، چیتوں اور سانپوں سے نمٹنے کے لیے مختلف قسم کا مارشل آرٹس سیکھتے ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ اس گاﺅں میں باقی چین کی نسبت مارشل آرٹس کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...