ایک فیس بک پیج جس نے افغان حکومت کے ہوش اڑا دیئے، خفیہ ایجنسیوں کے جگہ جگہ چھاپے لیکن بند کروانے میں ناکام

ایک فیس بک پیج جس نے افغان حکومت کے ہوش اڑا دیئے، خفیہ ایجنسیوں کے جگہ جگہ ...
ایک فیس بک پیج جس نے افغان حکومت کے ہوش اڑا دیئے، خفیہ ایجنسیوں کے جگہ جگہ چھاپے لیکن بند کروانے میں ناکام

  


کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوجی انخلاءکے بعد افغانستان کی حکومت پیہم مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ کبھی اسے طالبان کے حملوں اور خودکش دھماکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی جرائم پیشہ عناصر اور اغواءکاروں کا۔ لیکن اس بار افغان حکومت کو ایک انوکھی طرز کی مشکل پیش آ گئی ہے۔ افغان حکومت کی یہ مشکل ایک فیس بک پیج کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس فیس بک پیج کا نام ”کابل ٹیکسی“ ہے اور افغان حکومت کے خیال میں یہ کسی صحافی نے بنا رکھا ہے لیکن افغانستان کی حکومت ، سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں پوری قوت استعمال کرنے کے باوجود بھی اس شخص کا سراغ لگانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔

اس پیج سے افغان حکومت کو مشکل یہ ہے کہ اس پر تقریباً ہر حکومتی و فوجی اعلیٰ شخصیت کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔ افغان خفیہ ایجنسیاں اب تک 6صحافیوں کو طلب کرکے اس معاملے پر تفتیش کر چکی ہیں لیکن کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ کابل کے سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس ٹیکسی ڈرائیور کا ذکر موضوع بحث بن چکا ہے۔صحافیوں میں بھی اس شخص کے متعلق غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے خفیہ ایجنسیاں انہیں طلب کر کے تفتیش کر رہی ہیں اور ان کے خیال میں اس سے حق آزادی¿ اظہار رائے مجروح ہو گا۔

یہ ٹیکسی ڈرائیوراپنے فیس بک پیج ”کابل ٹیکسی“ پر اب تک افغان صدر اشرف غنی، اس کے شریک اقتدار عبداللہ عبداللہ، سابق افغان صدر حامد کرزئی، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حنیف عطار سمیت درجنوں حکومتی عہدیداروں اور بیوروکریٹس پرمزاحیہ پیرائے میں تنقید کر چکا ہے۔افغان حکومت کی طرف سے اس فیس بک پیج کو بند کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا نتیجہ الٹ نکلا، پیج بند تو نہ ہوا بلکہ الٹا راتوں رات اور مقبول ہو گیااور اس کے لائیک کرنے والوں کی تعداد دگنی ہو کر 53ہزار تک جا پہنچی۔ فیس بک پر اس ٹیکسی ڈرائیور کے فین اس کے کام کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور اسے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے مختلف مشورے بھی دے رہے ہیں۔ اس کے ایک فین نے لکھا ہے کہ ”محتاط رہو ڈرائیور! اگر تم اسی انداز میں ٹیکسی چلاتے رہے تو وہ تم پر جمہوریت کا راستہ بند کر دیں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...