تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانی 9گھنٹے موت و زندگی کی جنگ لڑتا رہا ، والدہ اور چھوٹی بہن جان کی بازی ہار گئیں

تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانی 9گھنٹے موت و زندگی کی جنگ لڑتا رہا ، والدہ اور ...
تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانی 9گھنٹے موت و زندگی کی جنگ لڑتا رہا ، والدہ اور چھوٹی بہن جان کی بازی ہار گئیں

  


زوارہ (آن لائن) ایک نوعمر پاکستانی شخص حمزہ کو لیبیا کے سمندر میں ڈوبنے والی تارکینِ وطن کی ایک کشتی کے تختے پر تقریباً 9 گھنٹے تک زندگی اور موت کی جنگ لڑنی پڑی اور جب تک کوسٹ گارڈز پہنچے ،اس کی والدہ اور چھوٹی بہن جان کی بازی ہار چکی تھیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریڈ کریسنٹ کے ترجمان محمد المصراتی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو لیبیا کے مغربی ساحل زوارہ کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 76 افراد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 198 افراد کو بچا لیا گیا جن میں عرب اور افریقی پس منظر رکھنے والے افراد شامل ہیں تاہم درجنوں لوگ ابھی بھی سمندر میں لاپتہ ہیں۔ زوارہ کے قریب ایک پولیس سٹیشن میں زمین پر اپنے بھائی کے برابر بیٹھے حمزہ کو بھی بحفاظت سمندر سے نکالا گیا۔17 سالہ حمزہ نے بتایا: "ہم نے رات ڈیڑھ بجے کے قریب سفر کا آغاز کیا، وہ ایک لکڑی کی کشتی تھی جس میں 350 افراد سوار تھے، میرے ساتھ میرے والد، والدہ، میری 11 سالہ بہن، 27 سالہ بہن اور 16 سالہ بھائی بھی کشتی میں موجود تھے۔" حمزہ نے بتایا کہ ”تقریباً آدھے گھنٹے بعد کشتی نے ہچکولے کھانے شروع کردیئے اور پانی کشتی میں داخل ہوگیا اور پھر ہم نے خود کو کھلے سمندر میں پایا“۔ کشتی لکڑی کے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی، میری والدہ اور میں نے ایک ٹکڑا پکڑ لیا اور پھر میں نے اپنے بھائی اور چھوٹی بہن کو بھی برابر میں دیکھا“۔

حمزہ کے مطابق یوں وہ 9 گھنٹے تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہا اور جب کوسٹ گارڈز ان کی مدد کو پہنچے تو اس وقت تک اس کی ماں اور بہن زندگی کی بازی ہار چکی تھیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...