امریکہ نے مغوی شہریوں کی رہائی کیلئے پہلی مرتبہ صدارتی نمائندہ مقرر کردیا

امریکہ نے مغوی شہریوں کی رہائی کیلئے پہلی مرتبہ صدارتی نمائندہ مقرر کردیا
امریکہ نے مغوی شہریوں کی رہائی کیلئے پہلی مرتبہ صدارتی نمائندہ مقرر کردیا

  


نیویارک (آن لائن) امریکہ نے مغویوں کی رہائی سے متعلق معاملات کیلئے پہلی مرتبہ صدارتی نمائندے کا تقرر کیا ہے۔ وائٹ ہاو¿س سے جاری ایک علامیے کے مطابق اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد جیمز اوبرائن ’بیرون ملک اغوا ہونے والے امریکی شہریوں کی با حفاظت واپسی‘ یقینی بنانے کیلئے کام کریں گے۔یہ قدم امریکی حکومت پر ہونے والی حالیہ تنقید کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

رواں سال کئی اموات کے بعد حکومت کو امریکی مغویوں کی رہائی کے معاملات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔رواں سال جون میں وائٹ ہاو¿س کی جانب سے رشتے داروں کو اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ تاوان کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے تک امریکی حکومت کے اختیار میں تھا کہ اگر کوئی اپنے رشتے دار کو بچانے کے لیے تاوان کی ادائیگی کرنے کی کوشش کرے تو حکومت ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود محکمہ انصاف کی طرف سے کبھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

مسلح جنگجو گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت برتنے پر طویل عرصے سے جاری پابندی کی پالیسی پر امریکی صدر براک اوباما کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔کچھ یورپی حکومتیں خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والے گروہ کے جنگجوو¿ں سے عراق اور شام میں اغوا ہونے والے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرتی رہی ہیں۔ یہ بات سامنے آنے کے بعد سے امریکی حکومت پر دباو¿ میں مزید اصافہ ہو گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...