تر ک صد ر نے عبوری کا بینہ کی منظوری دے دی

تر ک صد ر نے عبوری کا بینہ کی منظوری دے دی

انقرہ( آن لائن )ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عبوری وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ عبوری کابینہ کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ یکم نومبر کو ملک میں نئے عام انتخابات کے انعقاد تک نظام حکومت چلائے گی۔صدر طیب ایردوآن نے اسی ہفتے احمد داؤد اوغلو کو نگران وزیراعظم نامزد کرکے انھیں عبوری حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔اسی حکومت کی نگرانی میں نئے انتخابات منعقد ہوں گے لیکن حزب اختلاف کی دو جماعتوں ری پبلکن پیپلز پارٹی اور قوم پرست تحریک پارٹی (پی ایچ پی) کے ارکان پارلیمان اس عبوری کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے حالانکہ ترکی کے قانون کے تحت عبوری حکومت میں پارلیمان میں نمائندگی کی حامل چاروں جماعتوں کے ارکان شامل ہونے چاہئیں۔ان دونوں جماعتوں کے انکار کے بعد نگران وزیراعظم نے اپنی جماعت اور سابق حکمران انصاف اور ترقی پارٹی (آق) اور غیر جماعتی شخصیات پر مشتمل کابینہ تشکیل دی ہے۔البتہ اس میں آق کی بھاری بھرکم شخصیات کو شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ان میں نائب وزیراعظم علی بابا جان بھی شامل ہیں۔آق سات جون کو منعقدہ عام انتخابات میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور پارلیمان میں نمائندگی کی حامل دوسری تین جماعتوں میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شمولیت پر آمادہ نہیں ہوئی ہے جس کے بعد صدر کے پاس قبل از وقت انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔جدید ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عام انتخابات کے بعد جیتنے والی جماعتیں مخلوط حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہی ہیں اور ملک میں قبل از وقت نئے انتخابات کرائے جارہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...