کھجورکے نئے باغات لگانے کیلئے زیر بچہ ستمبر اور اکتوبر میں منتقل کرنے کی ہدایت

کھجورکے نئے باغات لگانے کیلئے زیر بچہ ستمبر اور اکتوبر میں منتقل کرنے کی ...

فیصل آباد(بیور رورپورٹ) ماہرین ایوب ریسرچ فیصل آبادنے کھجورکے نئے باغات لگانے کیلئے زیر بچہ ستمبر اور اکتوبر میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کھجور کی منظورشدہ اقسام شکری، کڑ، ڈھیڈی، شامران، عیدل شاہ، سفیدہ، خضراوی، مکران، حلاوی، اصیل، زاہدی، کپڑا، ہیمن والی، بصرہ والی، فصلی، تار والی، ماکھی اور حلینی کاشت کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ ماہرین اثمار و شعبہ باغات نے بتایاکہ پاکستان میں بلوچستان کھجور پیدا کرنے والا اہم علاقہ ہے جبکہ اس کے علاوہ خیر پور سندھ ،ڈیرہ اسماعیل خاں سرحد ، کے علاوہ پنجاب میں مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور جھنگ کھجور پیدا کرنے والے علاقے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باغبان کھجور کے نئے باغات لگانے کے لیے زیر بچہ ستمبر اور اکتوبر میں منتقل کریں کیونکہ ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں کھجور کے پودوں سے زیربچے علیحدہ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کھجور کی منظور شدہ اقسام کی اوسط پیداوار 80سے 130کلو گرام فی پودا ہے جبکہ کھجور کیلئے گرم وخشک آب وہوا درکار ہے۔انہوں نے کہاکہ کھجور اگانے والے علاقوں میں اوسطاً درجہ حرارت 27سے32ڈگری سینٹی گریڈ ہونا ضروری ہے جبکہ کھجور کا پودا زیادہ سے زیادہ 50ڈگری سینٹی گریڈتک درجہ حرارت برداشت کرسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ کھجور کا درخت ہر قسم کی زمین میں اگایا جاسکتا ہے تاہم اچھی زرخیز زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو موزوں خیال کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ باغبان پودے لگانے سے 10سے15دن قبل 3x3 فٹ کا گڑھا بنا کر بھل سے بھر دیں اورپانی لگا دیں نیز پودا لگاتے وقت دیمک سے بچاؤ کے لئے مناسب زہر کا استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ کھجور کے زیربچے کا وزن 10سے 15کلوگرام ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں پودا لگانے کے بعد گاچے کو باندھیں اور پودا ہلنا نہیں چاہئے اور تنے کے ساتھ تھوڑی سی مٹی بھی لگا دیں۔ انہوں نے کہاکہ باغبان پودا لگانے سے پہلے اس کی جڑیں 10سے 12گھنٹے پانی میں رکھیں اورپودا لگانے کے بعد دیمک اور کیڑوں سے بچاؤ کیلئے مناسب زہر زمین میں ڈالیں اور سپرے بھی کریں۔انہوں نے کہاکہ پودے کا پودے سے فاصلہ اور لائن سے لائن کا فاصلہ 20 فٹ رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ باغبان پودا لگانے کے بعد اتنی آبپاشی کریں کہ زمین وتر میں رہے نیز پودے کو ایک سال تک گرمی سردی کی شدت سے بچانے کے لئے اسے کھجور کے پتوں یا پرالی سے ڈھانپ دیں تاہم جب پودا چل پڑے یا نئے شگوفے نکال لے تو ایک سال بعد گوبر کی گلی سڑی کھاد 10 سے15 کلوگرام فی پودا ڈال دیں۔انہوں نے کہاکہ باغبان جن پودوں سے زیر بچے اتاریں ان پر کلوروپیری فاس کا سپرے کریں اور مٹی لگا کر تنوں کواچھی طرح بھر دیں تاکہ پودوں پر کیڑوں کے حملہ کا احتمال نہ رہے۔

مزید : کامرس


loading...