ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود ) (1

ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود ) (1
 ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود ) (1

  


اپنی باسٹھ سالہ زندگی میں کئی ذاتی اتار چڑھاؤ دیکھے ، جن میں تازہ ترین واقعہ میرے لئے منفرد ہوتے ہوئے بھی سیدھا سادہ سا ہے۔ سیدھا سادہ اس لئے پاکستان کے شہر و دیہات میں عام لوگوں کے ساتھ ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ ہر دوسرے تیسرے دن رونما ہوتا ہی رہتا ہے۔ بات اتنی ہے کہ یوم آزادی کی صبح میرے دوست طاہر بخاری اور میں نہر کی ایک ذیلی سڑک پر ہر روز کی طرح سیر کر رہے تھے کہ ایرانی قو نصلیٹ کے قریب پولیس کی ایک گینڈا صفت گاڑی ہم دونوں سے آ ٹکرائی۔ پروفیسر طاہر بخاری ، جو ایم اے او کالج کے پرنسپل ہیں ، زخمی ہونے کے باوجود سر کی چوٹ سے محفوظ رہے۔ میرے ساتھ کیا ہوا ، کیسے ہوا ‘ پولیس بھاگ جانے کی بجائے ہمیں اسپتا ل کیوں لے گئی ؟ اس کے چشم دید گواہ بخاری صاحب ہیں ، ورنہ میں تو چوٹ لگتے ہی پون گھنٹے کے لئے بالکل ’قیں‘ ہو گیا تھا۔

واقعات کا یہ تسلسل کیا ہے ، کچھ پتا نہیں۔ اس لئے کمینٹری جاری رکھنے کی خاطر مائیکروفون بیگم صاحبہ کو دیتا ہوں۔ ’میں عام طور سے رات کو گھنٹی کی آواز بند کر کے سوتی ہوں۔ اس رات بند کرنا بھول گئی۔ صبح چھ بجنے میں دس منٹ پر فون بجا تو نام لکھا تھا ’ملک‘ لیکن آواز بخاری صاحب کی تھی۔ سنتے ہی احساس ہوا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ انہوں نے تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ واک کے دوران پولیس کی گاڑی ہم سے ٹکرا گئی اور دونوں تھوڑے بہت زخمی ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ہدایت کی کہ ان کی بیوی کو بھی اطلاع دے دوں۔ اب کار لے کر سروسز ہاسپٹل کی ایمرجنسی پہنچی تو شاہد ایک بیڈ پر لیٹے تھے اور دو پولیس والے ان کے گرد تھے۔ سر پر پٹی ، ٹی شرٹ اور پتلون پر جگہ جگہ خون۔ میرے بتانے پر کہ گاڑی سے ٹکر ہوئی ہے ‘ حیرت سے کہا کہ کچھ یاد نہیں‘۔

خود طاہر بخاری بری طرح زخمی تھے۔ جسم پہ جگہ جگہ چوٹوں اور زخموں کے نشان مگر ہوش و حواس قائم۔ مجھے اس دن کی سیر کے آغاز پر ان کا مکالمہ یاد آنے لگا کہ آزادی کی رات ہنگامہ خیز سرگرمیوں کے بعد بعض نوجوان ابھی تک ون وہیلنگ میں مشغول ہیں۔ اس پہ میں نے قدرے شرارتی انداز میں کہا تھا: ’ہم نے کھیل کے میدان رہائشی پلاٹ بنا کر افسروں کو الاٹ کر دئے ہیں یا وہاں پلازے کھڑے کر رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں کرکٹ ، ہاکی اور فٹ بال کی ٹیمیں نظم و ضبط کی پابندی ، امپائر کی اطاعت اور ساتھیوں کی محبت سکھاتی تھیں ، اب یہ کام کرائے کی کوٹھیوں میں قائم نجی تعلیمی اداروں میں ممکن ہی نہیں رہا ‘۔ اس دوران ہم اس مقام پر پہنچ گئے جہاں نہر کے کنارے وزارت خارجہ کیمپ آفس کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اتنا یاد ہے۔ ۔ ۔ ’پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ‘۔

صبح کی سیر کا آغاز حسب معمول پانچ بجے ہوا تھا۔ اس لحاظ سے جائے حادثہ تک پندرہ منٹ کا فاصلہ بنتا ہے ، ٹکر کے بعد مزید پندرہ منٹ اسپتال تک لگا لیں۔ چھ بجے میری بے ہوشی ’جا گو میٹی ‘ کی کیفیت میں بدلی تو محسوس ہوا کہ ایک پر ہجوم ہال میں ہیں۔ اس مرحلے پر کچھ کچھ باتیں میری سمجھ میں آنے لگی تھیں جن کی تصدیق بعد ازاں بیگم صاحبہ نے کر دی۔ ’ سب آرک نائیڈ ہیمرج ہوا ہے مگر بے حد چھوٹا ایریا ہے۔ الٹرا ساؤنڈ اور سی ٹی سکین ہو گیا ہے ، اب ایم آر آئی ہوگی۔ سرجری کی ضرورت نہیں مگر سر کی چوٹ کے سبب انڈر ابزرویشن رکھا جائے گا ڈرپس لگی رہیں گی ‘۔ اگلے دن بخاری صاحب نے مزے لے لے کر دہرایا کہ آپ نے ہوش میں آتے ہی آنکھ مار کر ایک پھڑکتا ہوا جملہ کہا تھا ’ سینئر صحافی اور ممتاز ماہر تعلیم پر پولیس کا حملہ‘۔ ساتھ ہی التجا کہ ، یہ ٹکر ہر گز نہ چلے۔

یہ ہدایت اس لئے ضروری تھی کہ ذاتی اطلاع پر جو تین قریبی دوست بلا تاخیر اسپتال پہنچے ان سب کا تعلق کسی نہ کسی اخباری ادارے سے ہے۔ مجھے لگا کہ اگر یہ ’بریکنگ نیوز ‘ چل گئی تو اس سے ایک تو طبی عملہ خوامخواہ دباؤ میں آ جائے گا۔ دوسرے پولیس کی کارکردگی ، ڈیوٹیوں کے اوقات نامے اور حالات ملازمت پہ بے نتیجہ بحث شروع ہو جائے گی۔ خبر کی ترسیل اور تشہیر صحافی کا پیشہ ہے ، لیکن ہر واقعہ کا انسانی پہلو بھی ہوا کرتا ہے۔ سروسز ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں میرے اس سوال پر کہ کھلی سڑک پر جہاں ٹریفک تھی ہی نہیں ‘ ہم آپ کی گاڑی کے نیچے آ کیسے گئے ، سب انسپکٹر محبوب اقبال نے نہایت محبوبانہ انداز میں کہا ’عمر رسیدہ ڈرائیور بارہ گھنٹے سے ڈیوٹی پر تھا ، اس کی آنکھ لگ گئی ‘۔ یہ سن کر میری بیوی نے فوراً لکھ دیا کہ ہم پولیس کے خلاف کسی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔

آپ پوچھیں گے کہ اس ڈرامائی صورتحال میں تمہارا اپنا رد عمل کیا تھا ، غصہ ، خوف یا تشویش۔ میں کہوں گا کہ کوئی رد عمل تھا ہی نہیں۔ بس ایک خود سپردگی کا رویہ کہ جو بھی ہو جائے ٹھیک ہے۔ آپ کہیں گے کہ سر میں سات انچ لمبی چوٹ ، کپڑے خون میں تر ، جسم پہ زخم اور خراشیں ، کیا تمہیں درد محسوس نہ ہوا۔ میرا جواب ہو گا کہ مجھے صحیح پتا نہیں۔ آپ تنگ آکر پوچھیں گے کہ یار ، تم آدمی ہو یا پاجامہ۔ اب سچ تو یہ ہے کہ حادثہ کے دن تک تو میں خود کو آدمی ہی سمجھتا رہا تھا۔ اسپتال میں کوئی قابل ذکر بدسلوکی نہیں ہوئی ، لیکن وہ جو فیض احمد فیض نے کہا تھا ، جیل جانا ایک بنیادی تجربہ ہے کیونکہ اس سے ابتدائے عشق کا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔ مجھے لگا کہ اسپتال میں رہنا بھی ایک بنیادی تجربہ تھا کہ اس کی بدولت گرد و پیش کے ساتھ آپ کے تعلق کے زاویے بدل جاتے ہیں۔

میرے زاویے بدلنے کا امکان اگر زیادہ نکلا تو اس کی کوئی وجہ بھی ہوگی۔ اس کا سراغ بیگم صاحبہ نے لگایا جو تعلیم و تربیت کے لحاظ سے ڈاکٹر اور پیشہ ورانہ اعتبار سے استانی ہیں۔ مجھے رشتہ دار اور دوست احباب عام طور پہ ہمدرد انسان سمجھتے ہیں۔ پر اسپتال میں دو ہی دن گزرے تھے جب بیگم نے احساس دلایا کہ جسمانی تکلیف سے دوچار ہونے کی صورت میں بندہ کی سوشل انجینئرنگ کام نہیں آتی اور وہ اپنی اصلیت پہ آ جاتا ہے ، مطلب ہے جبلی طرز عمل۔ میں نے وضاحت پوچھی تو کہنے لگیں ’اسٹاف سے آپ کا رویہ مناسب نہیں‘۔ آپ ان کے سوالوں کے عجیب و غریب جواب دیتے ہیں ، جیسے ’انکل ، آپ کا حال کیا ہے؟‘ ’جی اللہ کا شکر ہے ‘۔ ’بازو میں ڈرپ والا برینیولا تنگ تو نہیں کر رہا ‘۔ ’ مجھے کیا معلوم؟ میں نے تو یہ مضمون پڑھا ہی نہیں‘۔ یہ کیا جواب ہوا؟

میں ڈر سا گیا ، اس لئے کہ میں شعوری طور پہ بے انصافی کرنے سے بہت گھبراتا ہوں۔ نیوز رائٹنگ کے پر چے دیکھنا ہوں تو بیس نمبر کے سوال میں متن کے سات ، خبر ی ڈھانچہ کے سات اور اتنے ہی اسلوب کے لئے مختص کر دیتا ہوں۔ پھر تینوں اجزاء کے نمبر جمع کر لئے جاتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ تجربہ کار ممتحن ہونے کے ناطے سے اگر جواب کے شروع ، درمیان اور آخر کی چند سطریں پڑھ کر اندازے سے نمبر لگا دوں تو بھی ٹوٹل زیادہ مختلف نہیں ہو گا ، مگر میں اندازے والی حرکت نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک چینل کے لئے نیوز ریڈنگ کی ٹریننگ کا نتیجہ نکالنے کے لئے امیدواروں کی کارکردگی کی اوسط پانچ الگ الگ ملحوظات کے تابع رکھی۔ آواز ، لفظوں کی پہچان ، تلفظ ، نیز معانی کے لحاظ سے رفتار میں کمی بیشی ، اتار چڑھاؤ اور وقفے۔ خوبصورتی سے مراد لی ذہین چہرہ جو جھوٹ بولتا ہوا نہ لگے۔

سٹاف کے علاوہ ایک خوف عزیز و اقارب کا بھی تھا۔ خاص طور پہ وہ تجربہ کار مریض جو اندرونی چوٹوں کے لئے ہلدی اور دودھ ، دھریک کے پتے اور تارا میرا کے تیل کا مشورہ بڑے خلوص سے دیتے ہیں۔ جدید ذہن رکھنے والے ہمدردو نیورو سرجری کے کسی نامور ماہر یا بڑے آرتھیو پیڈک سر جن کا دن میں تین چار مرتبہ نام لے کر کہیں گے کہ انہیں ضرور دکھائیں۔ خاندان میں ایک شادی کی وجہ سے میرے اکثر رشتہ دار گوجرانوالہ میں جمع تھے جو لاہور پہنچ گئے۔ پھر بھی کسی نے کوئی فالتو مشورہ نہ دیا۔ بیگم کے بقول ، آپ کے عزیز و اقارب جانتے ہیں کہ آپ ان ٹوٹکوں پر عمل نہیں کریں گے۔ ہاں ، چوتھے دن آئینہ دیکھا تو جوش ملیح آبادی کی طرح لگا کہ ’بوڑھا سا کوئی اور نظر آتا ہے ‘۔ اندر سے آواز آئی کہ مشکل کی اس گھڑی میں اقبال سے رجوع کرو ، جو کہہ گئے ہیں کہ :

ٹھہرتا نہیں کاروان وجود

کہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود

(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...