زین رؤف کا قتل:مدعی کا انحراف ،دیت کا اطلاق؟

زین رؤف کا قتل:مدعی کا انحراف ،دیت کا اطلاق؟
 زین رؤف کا قتل:مدعی کا انحراف ،دیت کا اطلاق؟

  


عزیزم میاں اشفاق انجم نے بڑی درد مندی سے بیوہ والدہ کے صاحبزادے اور تین بہنوں کے اکلوتے بھائی مقتول زین رؤف کے بارے میں قلم اٹھایا اور قارئین کو حقائق سے آگاہ کیا، انہوں نے حالات و واقعات کا تفصیل سے جائزہ لے کر گواہوں کے منحرف ہونے کی بات کی اور ساتھ ہی صلح نامے کا ذکر کیا ہے، اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ میاں اشفاق انجم نے جس طرف اشارہ کیا وہ قانون اس مقدمے کے حوالے سے عمل پذیر نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ سمجھ دار پیروی کرنے والوں نے گواہوں کو شہادت سے منحرف ہونے کے لئے کہا اور وہ منحرف ہوئے کہ ملزم کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی قانونی رموز کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا کہ یہاں مدعی کے حوالے سے دیت کی شرعی حد لاگو نہیں ہوتی۔ دیت ہو جانے پر معاف کرنا کسی ماموں، چچا یا رشتہ دار کا استحقاق نہیں۔ یہ تو صرف اور صرف حقیقی وارثان ہی ہیں جو معاف کر سکتے ہیں اور پھر دیت کا فلسفہ لاگو ہوتا ہے، اس کیس میں بھی ماموں مقتول کے ورثاء میں دوسرے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور حقیقی وارث مقتول کی والدہ اور بہنیں ہیں۔اگر وہ معاف کریں تو دیت کی شرط پوری ہوتی ہے، ورنہ نہیں، اور اس کیس میں والدہ اور بہنوں کو دیت پر راضی کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو پائی، اِسی لئے ماموں کو مدعی بنایا گیا، اور والدہ معہ بہنوں کے نظر انداز کر دی گئیں، اب ماموں نے سودے بازی کر کے شہادت سے انحراف کیا اور ملزم کو شناخت کرنے سے انکار کر دیا، ان کے مطابق وہ ملزموں کو نہیں جانتے اور یہ جو زیر حراست ہیں۔ یہ بہرحال وارث نہیں، اس لئے ان کو شہادت سے منحرف کرایا گیا ہے۔

اب یہاں ایک مودب، گناہ گار اور بزرگوں کی عظمت کو سلام کرنے والے بندے کی حیثیت سے ہم اپنے فاضل علما ئے کرام سے بعض استفسارات پر مجبور ہو گئے ہیں، ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قتل عمد ہو یا قتل خطا، ہر دو صورتوں میں اگر بات صلح پر ختم ہو نا ہے، تو اس پر عمل دیت کے اصول کے مطابق ہی ممکن ہے۔ یہ درست ہے اور بزرگان عظام کی تشریح بھی قابل قبول، لیکن اپنے بزرگوں سے یہ تو دریافت کیا جا سکتا ہے، دیت کے تحت صلح کی شرائط کیا ہیں؟ کیا یہ اتنا ہی سادہ عمل ہے کہ کوئی ملزم اپنے مقدمہ کے مدعی کو آمادہ کر لے اور اس کی درخواست پر دیت کا اصول لاگو ہو تو ملزم کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ اب اسی کیس میں دیکھ لیں کہ صلح کس طرف سے ہو رہی اور کون انکار کر رہے ہیں۔زین رؤف کے والد نہیں ہیں، ان کی بیوہ والدہ اور تین سگی بہنیں لاوارث ہو گئی ہیں کہ کوئی مرد پیچھے نہیں ہے۔ والد کا انتقال ہوا تو پیچھے بیوہ،تین صاحبزادیاں اور اکلوتا بچہ زین رؤف تھا۔ اسی سے والدہ نے توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اور بچے کی تعلیم پر توجہ دی جا رہی تھی، جو دن دہاڑے ایک معمولی سی بات پر قتل کر دیا گیا۔

یہاں صفائی دینے اور پیروی کرنے والوں کی عقل مندی کا مظاہرہ اور پولیس کی نگاہ سے حالات الگ سے نظر آنے لگے۔ بڑی عقل مندی سے مقتول کے ماموں کو بُلا کر رضا مند کیا گیا، کہ والدہ اور بہنوں سے توقعات نہیں تھیں، ماموں کو ڈھونڈھ لیا گیا اور ان کو مدعی بنایا گیا جو وقت آنے پر منحرف ہو گئے کہتے رہے کہ ہم نے ملزموں کو نہیں دیکھا اور ہم ان کو نہیں جانتے، مبینہ طور پر دو کروڑ روپے کے عوض مصالحت پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ یہ بڑی عقل مندی کی چال ہے کہ دیت کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہو، اور ایسا ہی ہوا، یہ سب یکطرفہ طور پر تو ممکن نہیں اور مقتول کے وارثان کے راضی ہونے سے رہے، اس لئے سارا ڈرامہ گواہی سے انحراف کی صورت میں کیا گیا، اس میں مقتول کی والدہ اور بہنوں کی اور دیت کے تحت صلح کی ضرورت نہیں رہتی کہ گواہ جو منحرف ہو گئے۔ بہرحال اب یہ دیکھنا استغاثہ اور عدلیہ کا کام ہے کہ اس کیس میں کیا ہوا اور انصاف کے تقاضے کیا ہیں؟

ہم نے تو میاں اشفاق انجم کی کاوش پر یہ گزارش اس لئے کی کہ دین حق کی رو سے بنائے گئے قوانین یا دین کی حد تک اعتراضات ایسے ہی معاملات کی وجہ سے ہوتے ہیں اور قانون یا حدود کو برحق ماننے والے بھی کہتے ہیں کہ ’’استعمال‘‘ غلط ہو رہا ہے اور بعض اوقات زین رؤف جیسے معصوم کے قتل کی صورت میں روپذیر ہونے والے واقعات کی وجہ سے بھی ایسا کہہ دیا جاتا ہے۔ اب یہ علمائے کرام، علمائے حق اور مفتیانِ دین کا فرض ہے کہ وہ یہ ابہام دور کریں، اس سلسلے میں یہ و ضاحت ضروری ہے کہ کیا کسی دباؤ یا خوف کے تحت دیت ہو سکتی ہے؟ اور کیا دیت کے تحت صلح کا حق والدہ اور بہنوں کے ہوتے ہوئے ماموں کو یا مقدمہ کے مدعی کو حاصل ہے؟ یہ سوالات ہیں اور علمائے کرام کو ان کی وضاحت کر کے اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔

مزید : کالم


loading...