یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
 یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

  


ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کی تازہ ترین تصویر دیکھی ہے جو علاج کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے ہیں۔ تصویر میں وہ پہچانے نہیں جاتے۔ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے ہیں۔ اُن کی شخصیت کا سارا رعب و دبدبہ ایک معصوم بے چارگی میں بدل چکا ہے، اللہ انہیں صحت دے اور وہ علاج کے بعد بخیریت واپس آئیں، تاہم یہ تصویر دیکھ کر ایک عجیب قسم کا احساس میرے اندر کسک رہا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مخدوم امین فہیم کی شہرت ایک صاف ستھرے سیاستدان کی تھی۔ اُن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا۔ پھر اچانک ایک دن انکشاف ہوا کہ اُن کے اکاؤنٹ میں بے نامی کروڑوں روپے منتقل ہوئے ہیں جس پر وہ بھی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔ مگر اُنہوں نے اُس وقت تک اس رقم کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا جب تک ایف آئی اے نے اس کا کھوج نہ لگا لیا۔ اب انہیں ٹڈاپ سکینڈل کا سامنا ہے۔ جس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم دونوں ہی ملزم نامزد ہیں اور دونوں کی گرفتاری کا حکم بھی جاری ہو چکا ہے۔ مخدوم امین فہیم کی تو حالت ایسی نہیں کہ اُنہیں گرفتار کیا جا سکے۔ تاہم جو بات مجھے اندر سے افسردہ کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ مخدوم امین فہیم جب اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو اُنہیں ایک ایسی جنگ کا بھی سامنا ہے جو اُن کی زندگی کے پورے منظر نامے کو تبدیل کر سکتی ہے، ایک طرف اُنہیں زندگی کو بچانے کا کڑا مرحلہ درپیش ہے تو دوسری طرف اُنہیں اپنی عمر بھر کی عزتِ سادات کو بچانے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کوئی اگر غور کرے تو ایسے واقعات میں آنکھ والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہوتی ہیں۔ عبرت کے کئی سامان اور مال و زر کے لئے سب کچھ قربان کرنے والوں کی اصلاح کے لئے ان گنت پیغام، مگر انسان مکمل طور پر خسارے میں ہے۔ وہ سمجھتا ہے جو کچھ سمیٹا جا سکتا ہے سمیٹ لے، کل کس نے دیکھی ہے، حالانکہ اُسے دوسری بات کو زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کل کس نے دیکھی ہے، پھر اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنی آخرت کا سودا کیوں کیا جائے۔ انسان اپنی ذات سے باہر جو کچھ اکٹھا کرتا ہے، وہ اگر جائز نہ ہو تو جلد یا بدیر عذاب بن جاتا ہے۔ میں جب ڈاکٹر عاصم حسین کے بارے میں سوچتا ہوں جنہیں حال ہی میں کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آصف زرداری کا رائٹ ہینڈ ہونے کی حیثیت سے اربوں روپے کی کرپشن کی آج صرف اپنی ذات اور جسم کے ساتھ رینجرز کی تحویل میں ہیں ان کے گھر میں درجنوں اے سی لگے ہوں گے۔ ہر کام ان کے اشارۂ ابرو پر ہوتا ہوگا، لیکن اب وہ ایک بے بس پرندے کی طرح حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ آج کل اُن کی راتیں جس کمرے میں گزرتی ہیں وہاں ایئرکنڈیشنڈ بھی لگا ہوا ہے یا نہیں۔ اُنہیں کھانا بھی وہ ملتا ہے، جس کے وہ عادی ہیں رات کو کسی وقت جب انہیں پیاس لگتی ہے تو کیا وہاں فریج موجود ہے جس سے وہ غیر ملکی جوس کی بوتل یا غیر ملکی منرل واٹر پی سکتے ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوگا، وہاں تو ایک جیل نما کمرہ ہی ہوگا۔ جس قسم کی فوجی روٹی دال کھاتے ہیں، اُس قسم کا کھانا بھی ملتا ہوگا۔ اب ایسا آدمی بھلا کب تک اپنے سینے میں دفن راز چھپا سکتا ہے؟ سو ڈاکٹر عاصم حسین بھی سب کچھ اُگل دیں گے وعدہ معاف گواہ بنے تب بھی عبرت کا نشان بن جائیں گے اور اگر قانون کے ہاتھوں سزا یافتہ ٹھہرے تب بھی اُن کی ساری زندگی کا سفر ایک کلنک کا ٹیکہ بن کر رہ جائے گا۔

دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر چند کہ ہمارے لئے عظیم شخصیات نے سب کچھ طے کر دیا ہے، لیکن ہم مانتے کب ہیں۔ ہمارے نبی اکرمؐ نے دولت کو ایک فتنہ قرار دیا۔ اُنہوں نے پر قناعت زندگی گزاری اور دو جہانوں کے سردار ہونے کے باوجود دولت کو جمع کیا اور نہ ہی اُس کی خواہش کی۔ سادگی و قناعت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کر کے انہوں نے زندگی گزارنے کا اصل راستہ بتا دیا۔ مگر افسوس کہ آج ملت اسلامیہ کے حکمران ہوں یا بڑے عہدیدار وہ اس راستے کو چھوڑ چکے ہیں سب مال کی ہوس میں مبتلا ہیں اور اس کے لئے قانون بھی توڑتے ہیں اور اپنے دین کی نفی بھی کرتے ہیں طبقہ اشرافیہ میں دولت مند بننے کا خبط بہت پرانا ہے۔ لیکن اس کے لئے اگر کوئی بل گیٹس کا راستہ اختیار کرتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں، ایسے لوگ اپنی دولت پر سانپ بن کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ انسانیت کی فلاح پر خرچ کرتے ہیں مگر جو لوگ کرپشن اور دیگر منفی ذرائع سے دولت لوٹتے ہیں، وہ واقعتاً اُس پر سانپ کی طرح کنڈلی مار کے بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ناجائز دولت کو ظاہر ہی نہیں کر سکتے۔ صدام حسین نے اپنی دولت چھپائی، کرنل معمر قذافی نے خفیہ رکھی، حسنی مبارک نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے۔ اسی طرح کی صورتِ حال ہمارے ہاں بھی ہے، سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثوں کا کچھ پتہ ہے اور نہ آصف زرداری کے، نوازشریف کی جائیدادوں اور اثاثوں کی کچھ خبر ہے اور نہ ان سابق جرنیلوں، بیورو کریٹس اور سیاست دانوں کی جو ملک کو لوٹتے رہے ہیں، جن کے خلاف کیسز موجود ہیں۔ لیکن وہ قانونی کارروائی سے ماورأ نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں آج کل مالی کرپشن کرنے والوں کے خلاف احتساب کی فضا بنی ہے تو ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ وہی پرانے جملے، وہی پرانی باتیں اور وہی پرانی دھمکیاں دہرائی جا رہی ہیں۔ اُس جمہوریت کا ایک بار پھر ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، جس نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ یہ عجیب منطق گھڑلی گئی ہے کہ جمہوریت بچانی ہے تو پھر کسی کو نہ پکڑا جائے۔ تف ہے ایسی جمہوریت پر جو ملک لوٹنے والوں کے احتساب سے بھی روکتی ہو۔ پہلی بار مضحکہ خیز چیزیں رونما ہو رہی ہیں۔ مثلاً قائم علی شاہ کہنے کو سندھ کے انتظامی سربراہ ہیں، مگر وہ باتیں ملزموں کو بچانے کی کر رہے ہیں۔ اُلٹا یہ کہنے کے کہ کرپشن نہیں ہونے دیں گے، کہہ یہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے اور رینجرز حدود سے تجاوز کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد ڈی جی رینجرز نے جب انہیں الزامات سے آگاہ کیا تو شاہ جی نے بڑی معصومیت سے کہہ دیا کہ یہ الزام ایسے تو نہیں جس پر ایک بڑے شخص کو گرفتار کر لیا جائے۔ آخر شاہ جی کو یہ الہام کیسے ہو گیا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر جو الزامات ہیں، وہ درست نہیں۔ صوبے کا انتظامی سربراہ چیف جسٹس کی طرح سوچنے لگا ہے، حالانکہ وہ آج کل اپنے ذہن سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ آزادی، ملک کو بے دریغ لوٹنے والے جب اندھے ہو جاتے ہیں تو اُنہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ قدرت کا بھی ایک نظام ہوتا ہے، مکافاتِ عمل بھی ایک حقیقت ہے یہ وطن عزیز پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ مجھے مفتوحہ علاقے کی طرح لوٹا گیا ہے۔ آپ اس پہلو پر ذرا غور فرمائیں کہ اگر سندھ میں رینجرز، ایف آئی اے اور نیب کو کرپشن کے خلاف کارروائی کی ہدایت و آزادی نہ ملتی تو وہاں کیا کچھ جاری رہتا۔ بیرون ملک بھاگنے والا منظور کاکا بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا، قبضہ گروپ اور ان کے سرپرست بھی سر گرم رہتے جس صوبے کا چیف سیکرٹری اور آئی جی احتساب کی زد میں ہوں اور بچنے کے لئے حفاظتی ضمانتوں کا سہارا لیتے ہوں۔ وہاں قانون کی حکمرانی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جس صوبے کا وزیر اعلیٰ لوٹ مار میں ملوث افراد کی گرفتاری پر کف افسوس ملتا ہو، اس صوبے کو کیا نام دیا جائے گا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ قدرت نے پاکستان اور اس کے عوام کی سن لی ہے، اسے ان پر ترس آ گیا ہے۔ کرپش مافیا کے خلاف گھنٹی بج گئی ہے، کل کے جو شاہ تھے آج ان کے گدا بننے کا وقت آ گیا ہے۔ اس دنیا کو صرف انسان نہیں چلا رہا۔ اس کے اوپر بھی ایک بڑا نظام موجود ہے اور وہی اصل نظام ہے وہ نظام کہیں مخدوم امین فہیم کو بے بسی کی تصویر بنا دیتا ہے اور کہیں ڈاکٹر عاصم حسین جیسے لوگوں کے پر کاٹ کے رکھ دیتا ہے۔

دُنیا کا کوئی نظامِ سیاست، کوئی جمہوریت اور کوئی نظامِ عدل کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے اس مافیا کے چنگل سے آزاد نہیں کرایا جاتا، جو اسے مفلوج کرنے کے درپے ہوتی ہے۔ آج نجانے کیوں پہلی بار یہ یقین ہو چلا ہے کہ پاکستان مافیاؤں کے چنگل سے آزاد ہونے جا رہا ہے۔ قوم سیاسی وابستگیوں، گروہی مصلحتوں، علاقائی مفادات اور ذاتی تعلق سے بلند ہو کر سوچنے لگی ہے کرپٹ کو کرپٹ کہنے کی راہ پر چل نکلی ہے۔ خود سیاستدانوں کی زبانیں بھی سچ بولنے لگی ہیں وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ کرپٹ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ پورے ملک میں کسی میں یہ جرأت نہیں کہ عوام کو کرپشن کے خلاف اس جاری مہم کی مخالفت پر اُکسا سکے، عوام خود اس مہم کے محافظ بن گئے ہیں۔ مکافات عمل شروع ہو چکا ہے، اسے اب روکنا ممکن نہیں، اب یہ قوم کی آواز ہے اور جو بھی اس آواز کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے گا، عوام کی نظروں میں گر جائے گا، جیسے بہت سے لوگ اب تک گر بھی چکے ہیں اور اُن میں اُٹھنے کی سکت بھی نہیں رہی۔

مزید : کالم


loading...