عم زاد شادیوں کے نقصانات

عم زاد شادیوں کے نقصانات

پچھلے دِنوں میری نظر سے ایک رپورٹ گذری جو Bradford Research Institute برائے عم زاد شادیوں کے بارے میں تھی۔ یہ رپورٹ، قریباً 11,500 پاکستانی خاندانوں کو جوبریڈفورڈ ، برمنگھم اور لندن میں رہتے ہیں، سامنے رکھ کر بنائی گئی تھی۔ ایسی ہی ریسرچ اِنگلینڈ میں رہنے والی دوسری Immigerant نسلوں پر بھی کی گئی تھی۔ مثلاً مشرقِ وسطیٰ ، وسط ایشیاء ہندو اور رومن کیتھولک مسیحی ۔ ریسرچ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانویوں میں سب سے زیادہ Cousins شادیوں کا رواج ہے اور اُس کے بعد مڈل ایسٹ کے عرب نژاد برطانوی دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ ہندو اور رومن کیتھولک مذہب رکھنے والوں میں عم زاد شادیاں مفتود ہیں۔ مسلمانوں میں عم زاد شادیوں کے نتیجے میں 6 بچے کسی نہ کسی دماغی یا جسمانی نقص کے حامل ہوتے ہیں۔ جبکہ غیر عم زاد شادی کے نتیجے میں 3 سے کم بچے پیدائشی جسمانی نقص رکھتے ہیں۔

ہمیں زمانہِ قبل از تاریخ میں جانا پڑے گا تاکہ عم زاد (یعنی چچا زاد) شادیوں کی اِبتدا کا پتہ لگ سکے۔ انسانی معاشرہ چھوٹے بڑے قبیلوں اور کنبوں (Clans) میں بٹا ہوا تھا۔ اُس وقت شادیاں کُنبے اور قبیلے سے باہر نہیں ہوتی تھیں تاکہ کُنبے کی دولت اور اُس کا اثر و رسوخ کُنبے کے اندر ہی رہے۔ اِبتدائی وحشی انسان تو ہر عورت بلکہ کئی کئی عورتوں کو، بغیر مقدس رشتوں کی تخصیص کے اپنی بیوی بنانے کا حق رکھتا تھا۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب اِنسانی معاشرہ ذرا مہذب ہوا، مختلف مذاہب اور دھرموں نے قدیم انسانوں کو رشتوں کا احترام سکھایا۔اُس وقت سوائے سگی بہن ، ماں اور باپ کی بہن سے شادی نہیں ہو سکتی تھی۔

نفاذِ اسلام سے پہلے عرب قبائل میں Cousins کی آپس کی شادی رائج تھی،80 شادیاں عم زاد میں ہوتی تھیں، بلکہ مسیحی اور یہودی شریعہ میں بھی ماں کے رشتے سے کزنس کی باہمی شادی کی اجازت تھی، یعنی ماموں زاد اور خالہ زاد بھائی / بہن کی شادی ہو سکتی تھی، لیکن عرب معاشرے میں قبل از اسلام سے ہی چچازاد شادیاں رائج تھیں۔ جب قرآنِ مجید نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے عربوں کی اس معاشرتی رسم کو رّد نہیں کیا، بلکہ سورۃ النسا اور سورۃ الاحزاب میں کھول کر تشریح کر دی گئی کہ کون سے رشتے آپس میں شادی کے لئے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اصلی عرب قبائل میں فرسٹ کزن کے درمیان شادیوں کا تناسب 40فیصد سے زیادہ ہے ۔قرآنی اِجازت کے باوجود چچا زاد شادیوں کو شافعی اور حنبلی فقہہ مکروہ قرار دیتا ہے۔ جبکہ جناب امام غزالی اور ابنِ قطامہ چچا زاد شادیوں کی نہ صرف دل شکنی کرتے ہیں، بلکہ بطور سوشیولوجسٹ وہ خاندان سے باہر شادیوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔

دوسرے مذاہب مثلاً بُدھ، جین، ہندہ اور سکھ کسی قسم کی بھی رشتے داری میں شادی کی اِجازت نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ چوتھے اور پانچویں کزن تک پھیلی ہوئی رشتے داری میں بھی شادی کی اِجازت نہیں ہے۔ صرف ساؤتھ انڈیا کے دراوڑی نسل کے تامل اور تیلگو ماموں زاد رشتوں میں شادی کا رواج ہے۔ البتہ زرتشت، یعنی پارسی مذہب ایسا ہے جو قبیلے کے اندر ہی اندر شادی کرنی لازم قرار دیتا ہے ۔ پارسی نسل آپس میں صدیوں سے شادیاں کرنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ معدوم ہو رہی ہے۔ پارسی مذہب میں یہودیوں اور ہندوؤں کی طرح تبدیلی مذہب کر کے کوئی بھی غیر مذہب والا پارسی نہیں بن سکتا ۔ دُنیا میں صرف دو مذاہب ہیں جو تبلیغ کے ذریعے پھیلے اور وہ ہیں اسلام اور عیسائیت۔ آپ دیکھ لیں کہ یہودیت آسمانی مذاہب میں قدیم ترین ہے ،لیکن چونکہ یہودی اپنے آپ کو پیدائشی طور پر بنی اسرائیل کی اعلیٰ نسل سے ملاتے ہیں اِس لئے اُن کی دلیل ہے کہ کوئی بھی غیر اسرائیلی یہودی نہیں بن سکتا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی غیر یہودی تبدیلی مذہب کر کے یہودی نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی اتنی قدیم قوم ہونے کے باوجود تعداد میں 2کروڑ سے زیادہ نہیں بڑھ سکے۔ یہ ہی عقیدہ ہندوؤں کا ہے، یعنی برہمنی مذہب جو ذات پات پر مبنی ہے، اس میں غیر مذہب والا داخل نہیں ہو سکتا۔ ہندوؤں میں شادیاں رشتے داری کی بنیاد پر تو ہو ہی نہیں سکتیں، کیونکہ ہندوؤں میں تو لڑکے اور لڑکی کی کنڈلی مِلانی پڑتی ہے۔

اسلام میں چچا زاد شادیوں کی اجازت کی وجہ سے برصغیر ،وسطی ایشیاء اور سر زمینِ عرب میں پیدائشی نقص کے حامل بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جب سے genetics کا علم زیادہ واضح اور عام ہوا ہے، چچازاد شادیوں کے نقصانات بھی زیادہ عیاں ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی 32 ریاستوں نے تو قانونی طور پر ہر قسم کی عم زاد شادیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ مشرقِ بعید کے مسلمان ممالک، چونکہ شافعی فقہہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے وہاں عم زاد شادیوں کا رواج ہی نہیں ہے۔

اسلام نے عم زاد شادیوں کی اِجازت تو دی ہے وہ بھی عربوں کے رسم و رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عم زاد شادیوں کی ضرور پابندی کریں۔ قرآن شریف کے نزول کے زمانے میں ہمارا علم genetics کے بارے میں بالکل صفر تھا۔ اللہ تعالیٰ تو ضرور جانتے تھے کہ 20 ویں صدی تک میڈیکل سائنس بہت ترقی کر لے گی اور انسانی جینزکی اہمیت عم زاد شادیوں کے سلسلے میں بہت زیادہ ہو گی۔ آپ دیکھیں کہ قرآنِ مجید ہر قسم کے سائنسی علوم کے بارے میں اِتنا ہی ذکر کرتا ہے، جو آج سے 1500 سال قبل کا اِنسان سمجھ سکتا تھا، لیکن ہم اُس وقت کے فقہا حضرت امام شافعی اور حضرت امام حنبل کو داد دیں، جنہوں نے اپنے وجدان اور فقہی علم کے ذریعے عم زاد شادیوں میں مضمر خرابیاں بھانپ لی تھیں اور انہوں نے ایسی شادیوں کو مکروہ قرار دیا۔ امام غزالی جو بڑے تاریخ دان اور Sociologist تھے، وہ تو خاندان سے باہر شادیوں کی ضرورت پر زور دیتے تھے، کیونکہ اُن کے مطابق اُس زمانے میں شادیوں کے ذریعے قبائلی دشمنیاں ختم ہوتی تھیں اور قبائلی حلقہ زیادہ پھیلتا تھا، زیادہ سیاسی طاقت حاصل کرتا تھا۔ اُن دِنوں ریاست کا جدید تصّور تو نہیں تھا، لیکن انسانی سیاسی تاریخ کا اِرتقا قبائلی نظام سے ہی شروع ہوتا ہے۔ امام غزالی تاریخ دان اور سماجیات کے عالم ہونے کے ناطے خاندان سے باہر شادیوں کو اہمیت دیتے تھے۔

اَ ب میَں جو کہنے جا رہا ہوں اُس سے میرے کچھ قاری ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ جزیرۃ العرب کے اصل باشندے سامی نسل سے تھے۔ میرا مطلب ہے حجاز، یمن، وسطی عرب (سعودی عرب کا وسط) کے رہنے والے۔ مصر، سوڈان، لبنان، عراق یا شمالی افریقہ کے عربی زبان بولنے والے عوام کو ہم عربی نسل نہیں کہہ سکتے۔ نسلی اعتبار سے وہ سامی عربوں سے بالکل مختلف ہیں، چونکہ عرب نسل کے قبائلی نظام میں Cross marriage کا رواج نہیں تھا اس لئے علم الانسان کے حوالے سے عرب نسل عم زاد شادیوں کے رواج کی وجہ سے Cross breeding کے فوائد حا صل نہ کر سکی اور اس لئے فہم و فراست میں زیادہ ترقی نہ کر سکی ، ماسوائے اہلِ قریش سے وابستہ عربوں کے جہاں ہمیں ذہانت، فہم و فراست، شجاعت، سخاوت اور قیادت کثرت سے ملتی ہے۔ عام عرب قبائل البتہ عم زاد شادیوں کی وجہ سے ذہنی طور پر اوسط درجے سے بھی کم رہے۔ جتنے بھی مسلمان سکالرز، مذہبی علوم اور فقہہ کے ماہرین، سائنس دان اور مفکّر ہمیں مسلمانوں کے سنہری دور میں نظر آتے ہیں وہ غیر عرب تھے۔ اہلِ قریش چونکہ حضرت اِبراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی نسل سے تھے اس لئے اُن کی تمام ذہنی و اخلاقی اور جسمانی صلاحتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہیں کیونکہ ہمارے نبی آخرالزماں ؐ نے اس قبیلے میں پیدا ہونا تھا۔ موجودہ دور کے عربوں کو دیکھ لیں۔ رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد سے اَب تک یہ کوئی بھی علمی یا سائنسی کارنامہ نہیں دِکھا سکے۔ البتہ اِن کا ذہن اپنی Survival کے لئے بہت کا م کرتا ہے۔ جب سے پٹرول کی بے انتہا دولت اِن کو حاصل ہوئی ہے اِن عربوں نے اس دولت کے بل بوتے پر غیر ملکی دماغ کرائے پر حاصل کر لئے اور اپنے لئے عیش و عشرت کا سامان تو پیدا کر لیا، لیکن سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں گورے کے ہی محتاج رہے۔ اگر دیکھا جائے تو عرب قوم عم زاد شادیوں کی وجہ سے Intellectually کمزور ہوتی چلی گئی۔ مَیں جدید عرب معاشرے میں سالہاسال رہا ہوں۔ اُن کے ہاں ایک عربی کا جملہ جو عرب اپنے لئے استعمال کرتے ہیں وہ ہے ’’عرب ما فی مُخ‘‘ یعنی عربوں کا دماغ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے عربوں کے ہاں یہ جملہ صرف ایک تکیہ کلام ہو جو خاص خاص موقع پر بولا جاتا ہو۔ اس قسم کے جملے ہمارے پنجاب ، سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی بولے جاتے ہیں مثلاً سندھی کہتا ہے کہ ‘‘پلہ مچھلی کھا اور سندھ چھڈ کے نہ جا‘‘ جس کا مطلب ہے کہ اے سندھی اپنی دھرتی پر ہی جمارہ باہر کا سفر نہ کریا پنجابیوں میں کہاوت ہے کہ پنجابی ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچتے ہیں اِن میں نفاق ہے اس کہاوت میں کچھ حقیقت بھی ہے۔ ایسے Retrogressive جملے ہر دور اور ہر جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ اِن میں کچھ سچائی بھی ہوتی ہے۔ عربوں کے ایسے ’’خود تنقیدی ‘‘ جملے میں یہ حقیقت ضرور پوشیدہ ہے کہ اِن کے ہا ں صدیوں سے کوئی ایسی شخصیت پیدا ہی نہیں ہوئی ،جو سائنسی علوم یا اعلیٰ فلسفہ میں کوئی کار نامہ انجام دے سکتی۔

مزید : کالم


loading...