دیانتداری ایک گناہ، اہلیت ایک جرم

دیانتداری ایک گناہ، اہلیت ایک جرم
 دیانتداری ایک گناہ، اہلیت ایک جرم

  


مجھے احساس ہے کہ یہ عنوان کئی ماتھوں پر بل ڈال دے گا، شاید فتوے بھی جاری ہوں، لیکن یہ ایک طنز ہے، اس معاشرے پر اس نظام پر جس میں ہم جینے پر مجبور ہیں۔ ایک کوشش ہے، آئینہ دکھانے کی کہ یہ دیکھ کر کہیں، کسی جگہ افراد یا فرد کو احساس ہو جائے کہ ہم نے سب کچھ بھلا کر ریاست اور ملکی سالمیت کو داؤ پر لگا کر حکومت بچانے کا انداز اپنا لیا ہے۔ پیسہ خدا تو نہیں، لیکن ہم بنانے کی کوشش میں ہیں۔ شاید حکمران طبقات اور اشرافیہ کو احساس ہو جائے کہ ہم اربوں ڈالر اور اربوں روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔ شرافت کی سیاست اور اسے عبادت کا درجہ دینا حماقت سمجھا جاتا ہے، مُلک کو خود کفیل کرنے اور خود انحصاری کے راستے کی بجائے پاکستان سے باہر اثاثے بنائے چلے جا رہے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی، پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا، لیکن ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاتھ رہن رکھ دیا ہے، بیچ دیا ہے۔

جس معاشرے میں ہم جی رہے ہیں، اس میں دیانت داری اور اہلیت رکھنے والے کو اتنی پریشانیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے کہ یہ وہی جانتا ہے یا اُس کا خدا، اُس کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے یا کر دی جاتی ہے، اور اگر اتفاق سے اسے اختیارا ور اقتدار مل جائے تو اسے پاگل اور بزدل قرار دیا جاتا ہے، کوئی سچ سننے کو تیار نہیں سفارش نہ مانے تو دوست احباب،عزیز و اقربا ناراض ہو جاتے ہیں، کیونکہ یہاں یہ ’’خوبیاں‘‘ برداشت ہی نہیں ہوتیں۔ اُسے مجبوراً قبول کیا جاتا ہے ، لیکن کوشش ہوتی ہے کہ جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جائے، اس کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی جاتی ہے اور اس میں ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں غبن، رشوت، کمیشن ایک زنجیر ہے، جس میں ایمانداری اور اہلیت کی کڑی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اسے بے اختیار رکھا جاتا ہے اور اس ’’قانون‘‘ پر ہر سیاسی جماعت سختی سے عمل پیرا ہے۔۔۔بااختیار طبقے کی کمزوری خوشامد ہے اور خوشامدی عزت پاتے ہیں اور دیانتداری کو گناہ اور اہلیت کوجرم بنا دیا گیا ہے، اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے، تقریر سنیں تو، احساس ہوتا ہے کہ فرشتے پاکستان میں اُتر آئے ہیں، لیکن عمل دیکھیں تو؟

یہ ایک کوشش ہے کہ شاید اس آئینے میں حکمران طبقات اپنا چہرہ یکھ کر اپنے انداز بدلنے کی کوشش کریں اور عوام جو بے بسی کا سفر طے کر چکے ہیں، اپنے حقوق کے لئے عزت سے جینے اور عزت سے مرنے کا فیصلہ کر لیں۔ ناانصافی، رشوت، ظلم و زیادتی برداشت کرنے کی بجائے اس نظام کے خلاف بغاوت کر دیں۔۔۔ ’’جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی، اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو‘‘۔۔۔ جہاں انصاف بکتا ہے، وہ عمارتیں جلا دیں، جہاں رشوت کی زبان میں بات ہوتی ہے، وہ عمارتیں جلا دیں، ہجوم تو ہم قیام پاکستان سے ہیں۔ اب ایک قوم آزاد اور خود مختار قوم، قوانین اور ضابطے کی متحد قوم بننے کا فیصلہ کر لیں۔ ہمارا خون چوس کر دوسرے ممالک کو اپنا وطن بنانے اور اپنی اولادوں کا مستقبل ’’اپنے وطن‘‘ میں (جو پاکستان نہیں ہے) محفوظ کرنے والوں کو اُلٹا لٹکا کر اپنا حق اُن کے گلے سے نکالیں ’’ شاید کہ تیرے دِل میں اُتر جائے میری بات‘‘۔

مزید : کالم


loading...