ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزیاں۔۔۔ آخر بھارت چاہتا کیا ہے؟

ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزیاں۔۔۔ آخر بھارت چاہتا کیا ہے؟

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر ایک بار پھر فائرنگ اور گولہ باری کی ہے، جس میں ایک بچے اور خاتون سمیت10افراد شہید ہو گئے ہیں۔ بلا اشتعال فائرنگ کے یہ واقعات سچیت گڑھ،مندروال، ہڑپال، چار واہ، باجرہ گڑھی اور چپراڑ سیکٹر میں ہوئے، پاکستانی فوجیوں نے بھارتی فورسز کو سرحد کے قریب خلافِ ضابطہ کھدائی سے روکا تو انہوں نے گولہ باری شروع کر دی۔ بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے، بھارت نے شہری آبادی کو نشانہ بنا کر دہشت گردی کی ہر حد پار کی ہے۔ ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی بین الاقوامی ضابطوں کے منافی ہے، سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری کے دورے کے موقع پر آرمی چیف نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دینے پر پنجاب رینجرز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا،انتہائی غیر اخلاقی اور بزدلانہ عمل ہے۔ ایل او سی پر فائرنگ اور مُلک میں دہشت گردی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل عرصے سے بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ رکنے میں نہیں آ رہا اور اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اِس سلسلے کو توسیع دینے پر تُل گیا ہے،کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، بھارت کے اندر ایسے انتہا پسندوں کی کمی نہیں،جو اپنی حکومت کو پاکستان پر حملے کے احمقانہ مشورے دیتے رہتے ہیں، خود بھارتی حکمران بھی مختلف ’’جنگی نظریات‘‘ کا اظہار کرتے رہتے ہیں، کبھی ’’کولڈ سٹارٹ‘‘ کی بات کی جاتی ہے تو کبھی ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی یا وہ گوئی کی جاتی ہے، ایک حلقے سے تو یہ آواز بھی اُٹھی جس طرح امریکہ نے حملہ کر کے اُسامہ بن لادن کا خاتمہ کر دیا تھا اِسی طرح بھارت بھی حملہ کر کے اپنے مطلوب افراد کو پاکستان میں گرفتار یا ختم کرنے کی کارروائی کرے، بھارتی میڈیا بھی جنگی جنون کی ان آوازوں میں اپنی آواز ملاتا رہتا ہے۔ تاہم ایسے اخبارات بھی ہیں، جو حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کے مشورے دیتے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ الجھنے کی کوشش نہ کرے، عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تو برملا کہا تھا کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی، اور جنگ چھیڑی، تو اس کا نقصان زیادہ ہو گا۔

اہم سوال مگر یہ ہے کہ کیا بھارتی حکمرانوں کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی ہے کہ وہ ایک ایٹمی قوت کے ساتھ جنگ میں اُلجھنے کے بہانے تلاش کرتا رہتا ہے، پاکستان نے اب تک صبرو تحمل ، برد باری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور بھارتی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں جنگ کا دائرہ پھیلانے سے گریز کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے عزم کا بھی بار بار اظہار کیا ہے، لیکن بھارت نہ صرف بات چیت سے گریز کرتا ہے، بلکہ مذاکرات کی طے شدہ تاریخوں کو بھی حیلوں بہانوں سے ملتوی کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس دوران پاکستان کے ہائی کمشنر نے نئی دہلی میں حریت رہنماؤں سے ملاقات کر لی، جس کی بنیاد پر بھارت نے ان مذاکرات کو ملتوی کر دیا۔ ابھی گزشتہ ماہ جولائی میں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی اوفا(روس) میں ملاقات ہوئی،جس میں طے ہوا کہ دونوں ملکوں کے سیکیورٹی ایڈوائزروں کی سطح پر بات چیت نئی دہلی میں ہو گی۔ وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی اور خارجہ امور کے ایڈوائزر سرتاج عزیز نئی دہلی جانے کی تیاریاں کر رہے تھے اور وہاں پاکستانی ہائی کمشنر نے اُن کے اعزاز میں کھانے کی دعوت کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ اس دعوت میں حریت رہنماؤں کو بھی بلایا گیا تھا، بس اس بات پربھارت سیخ پا ہو گیا اور وزیر خارجہ سشما سوراج یہ دور کی کوڑی لائیں کہ پاکستان اور بھارت کے مذاکرات میں کوئی تیسرا فریق شریک نہیں ہو سکتا، حالانکہ کشمیری حریت رہنما کھانے میں شریک ہو رہے تھے، مذاکرات میں نہیں، پھر انہیں تیسرا فریق کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے؟ کشمیری تو اصولی طور پر بنیادی فریق ہیں، دونوں ملکوں میں اگر کشمیر بنیادی مسئلہ ہے تو یہ زمین کے ٹکڑے کا تنازعہ نہیں ہے۔ یہ ڈیڑھ کروڑ زندہ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اب اگرکشمیری رہنماؤں کو ’’تیسرا فریق‘‘ کہا جائے گا، تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ پھر یہ بنیادی مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ سشما سوراج نے تو ان مذاکرات کو سرے سے مذاکرات ہی ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ تو دونوں ملکوں کے سیکیورٹی ایڈوائزروں کی بات چیت تھی،تو کیا اس بات چیت میں سیکیورٹی ایڈوائزروں نے یہ گفتگو کرنا تھی کہ پراٹھے کیسے پکائے جاتے ہیں؟ اور دال بھات کو بگھار کیسے لگایا جاتا ہے؟ ظاہر ہے اس ملاقات میں انہی تنازعات پر بات ہونا تھی(اوفا اعلان کا پہلا نکتہ) جو دونوں ملکوں میں حل طلب ہیں اور جن کی وجہ سے کشیدگی رہتی ہے۔

بھارت اگر بات چیت یا مذاکرات سے الرجک ہے تو کیا دونوں ملکوں کے بنیادی تنازعات اب جنگ سے حل ہوں گے؟ بھارت کی اشتعال انگیزیوں سے تو لگتا ہے کہ وہ کسی شرارت کے موڈ میں ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تو برملا کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت جو مقاصد پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کروا کر حاصل نہیں کر سکا وہ اب سرحدوں پر جنگ چھیڑ کر حاصل کرنا چاہتا ہے اور کیا مذاکرات سے گریز کی پالیسی اس کی کسی ایسی مہم جوئی کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہے؟ کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزیاں کیا کسی طویل جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، کیا بھارت ایسی اشتعال انگیزیوں کے ذریعے یہ چاہتا ہے کہ پاکستان بھی جوابی کارروائی کرے اور یوں دونوں مُلک ایک بار پھر جنگ میں اُلجھ جائیں؟

یہ درست ہے کہ دونوں مُلک جنگ اور کشیدہ تعلقات کی ایک تاریخ رکھتے ہیں، لیکن کیا بھارت میں کوئی ایسے ہوش مند لوگ نہیں، جو اپنے جنگ باز حکمرانوں کو سمجھائیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، پہلے بھی جنگوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا،بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر ایک کامیابی حاصل کی تھی اس لئے اب بھی وہ مہم جوئی کر کے اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے، تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے ایک تو اب1971ء نہیں،2015ء ہے۔ اس دوران دُنیا بدل گئی،دُنیا میں تیز ترین تبدیلیاں آ گئیں، گنگا جمنا اور چناب و جہلم کے پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا، پاکستان ایٹمی قوت ہے اور اس نے جنگ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا،اس لئے بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ بند کر دے اور نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر آنے، دُنیا میں جو مُلک آپس میں دست و گریباں رہے، اُن کی قیادتوں نے وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے سبق سیکھے اور جنگوں اور دشمنیوں کو فراموش کر کے دوست بن گئے، جو دوست نہیں بنے انہوں نے بھی ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرلی اور اربوں انسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی لے آئے، کیا بھارتی حکمرانوں کی یہ خواہش ہے کہ اس خطے کے لوگ جنگوں اور تعصبات کا مسلسل ایندھن بنے رہیں؟ بھارت اگر مذاکرات نہیں کرنا چاہتا، تو بھی سرحدوں پر اشتعال انگیزیوں کا بہرحال کوئی جواز نہیں۔ اگر یہ سلسلہ بڑھتا رہا، تو خطے کا امن تباہ ہو جائے گا اور اس آگ میں بھارتی خواہشات بھسم ہو کر رہ جائیں گی،اس لئے نریندر مودی اور اُن کے ساتھی ہوش کے ناخن لیں اور اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بند کر دیں۔

مزید : اداریہ


loading...