عسکری ونگز کے خلاف فیصلہ کن ضرب

عسکری ونگز کے خلاف فیصلہ کن ضرب

مسلح جماعتوں اور پُرامن پارٹیوں میں بُعد المشرقین ہے اور نجی عسکری گروہوں کا شرمانند بحرِبے کنار ہوا کئے۔ کوئی اٹھے اور بلند آہنگ صدا دے کہ سمندروں پر پل نہیں بنتے اور خلا میں خلیج کو پاٹا نہیں جا سکتا۔ تضادات اور التباسات عمر بھر ساتھ ساتھ نہیں چلا کرتے اور حقیقت کی ثقاہت اور خرافات کے تفردات کاملاپ بھی ممکن نہیں۔ منزل کیا نشانِ منزل تک مدہم اور معدوم ہوتا ہے کہ جب دلوں اور دماغوں پر شکوک وشبہات تنبوتان لیں اور سچائی و راستائی سمجھائی اور سجھائی تو دے پر دکھائی نہ دے۔ نظری لحاظ سے ننھے دانشوروں اور فکری طور پر نابالغ اخبار نویسوں کے کیا کہنے کہ یہ آج بھی مسلح جدوجہد کی حمایت کرتے نہیں تھکتے اور ہانکے پکارے کہا کئے کہ ’’اچھے اور برے‘‘ ہتھیار میں امتیاز کیاچاہیے۔ جی ہاں! بسم اللہ کیجئے اور سانپوں سے بے زہرے اور مگر مچھوں سے بے جبڑے چھانٹ دیجئے کہ آپ مچھر چھاننے اور اونٹ نگل جانے میں یدِ طولیٰ جو پاتے ہیں۔

سیاسی قیادت اپنے میدان میں اور عسکری قیادت اپنے محاذ پر مسلح جتھوں کے خلاف فیصلہ کن ضرب لگانے چلی ہے اور اِدھر ہمارے غرض مند دانشور اپنی باطل تاویل سے راستہ کھوٹا کرنے نکلے ہیں۔ ’’ بیڈ طالبان اور گڈ طالبان‘‘ کی بے اصیل و بے بدیل اصطلاح کے پردے میں پھر جنگجوئی کا جواز ڈھونڈنے کی سعی مذموم کی جا رہی اور سوچا اور چاہا جا رہا کہ چراغِ خاموش میں پھر سے تیل انڈیل دیا جائے۔ اپنی فقہی شریعت کے نام پر حقِ حکمرانی مانگنے والوں کے لئے اگر زمین سخت اور فلک دور ہے تو سیاست کے لبادوں میں پیرِتسمہ پا بن کر عوام کی گردنیں دبوچنے کا بھی کسی کو حق نہیں۔ ملائی کی سلطانی اگر گوارا نہیں تو قزاق کو سالارِ کارواں تسلیم کرنا کیسے روا ٹھہرا ۔ خوف و وحشت اور جبرو قہر اگر راعی یا فرمانروائی کا فیصلہ کرتے تو انسانی سماج کی تدوین و تعمیر ممکن ہی کب تھی۔ جنگل کے خونخوار درندوں ، سمندر کی مہیب بلاؤں اور غاروں کے پھاڑ کھا جانے والے چوپاؤں سے بڑھ کر کس کی دہشت وہیبت ہو گی۔۔۔ بھلا انسان نے کب ان کی عملداری اورفرمانبرداری تسلیم کی یا ان کی خونی دھاڑ کے آگے عمر بھر ڈھیر رہا۔ سفاکی و سنگدلی اور امن پسندی و شادمانی کا جنم جنم کا بیر رہا ہے، سانپ اور نیولے کی دشمنی۔۔۔ ایسی ابدی اور ازلی دشمنی ہے دونوں میں۔

کہا جاتا ہے کہ جب ریاست کے خطوط و خال متشکل کئے گئے تو انسانی جان کی حرمت اور املاک کی حفاظت سرفہرست رکھی گئی ۔ رکھی جانی چاہیے بھائی رکھی جانی چاہیے کہ نوعِ انسانی اپنے بے پایاں حقوق سے دستبردار ہوئی ریاست کی عملداری تسلیم کر کے۔ کسی بھی ریاست کا بنیادی و اساسی فریضہ یہی ہے کہ انسان کے جان و مال کی نگہبان و پشتی بان ہواور بس۔ باقی سب ثانوی ، ذیلی و ضمنی اور سطحی و سرسری باتیں ہیں۔ مصیبت مگر یہ کہ جب کسی مملکت کے سماج میں عسکری ونگز بننے ، پنپنے اور چلنے لگیں تو انتظامی مشینری مفلوج و منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔ عسکری ونگز کا وجود ریاستی عملداری پر سوالیہ نشان چپکا دیتا ہے۔ ریاست کی اپنی بقا ان کی فنا میں مضمر ہوتی اور مملکت کی حیات اس کی موت میں پیوست ہوا کئے۔ جماعت دینی ہو کہ سیاسی، مذہبی ہو کہ سماجی ، فلاحی ہو کہ تعلیمی ۔۔۔ کچھ بھی اور کیسی بھی ہو، اس کے مسلح وجود سے کم از کم شریف اور لطیف روحیں اور صالح و سعید طبیعتیں اِبا کرتی آئی ہیں۔ ایسی ناقابل برداشت اور ناقابل اصلاح جماعتوں کو زیست تب عطا ہوتی کہ جب ان کے ناخدا بھی بڑی ترنگ کے ساتھ ایک نگل جانے والی دلدل کی جانب بڑھا کئے۔ جاننے والے خوب جانتے ہیں اور جونہیں جانتے وہ جان لیں کہ دلدل کی طرف بڑھنے سے زندگی بھر ایک پتھر کی طرح بے جنبش پڑے رہناکہیں بہتر ۔ کہنے والے نے کیا خوب کہا اور کمال کہا ۔۔۔ ’’ صبح اور شام کی جس گامزنی میں راہ سے بے راہ ہو جانے کا ڈر ہو، اس کے حق میں اپنے گھٹنوں کو شل جانو‘‘۔

اصلاح احوال ، مذاکرات ،اعتدال، میانہ روی، صلح جوئی اور بین بین کی بات بہت ہو چکی کہ سننے والے سن سن کر بوڑھے ہوئے اورکان پک گئے ہیں۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مسلح جنگجوؤں کو ان کی سرشت و خصلت اور جبلت و فطرت کے عین تحت ان سے وہی سلوک کیا جائے جو شاہوں کے شایانِ شان ہو۔ مزدوروں کو یہ مژدا نہیں سنایا جا سکتا کہ سرمایہ داروں نے روزہ رکھ لیاہے اورنہ ہی نحیف و ناتواں کے بدن پر باتوں سے گوشت چڑھایا جا سکتا ہے۔ روز روز کی پھڈا گیری ، دہشت گردی اور خونریزی سے اب عامۃ الناس بھی عاجز آ چکے اور وہ ٹھوس اقدامات مانگتے ہیں۔ کرچی کرچی کراچی کے باسیوں کو اب سوائے امن و سلامتی کے اور کوئی لولی پاپ بہلا نہیں سکتا کہ عرصہ ہائے دراز بعد اب وہ امن کے سپیدہ سحر سے حظ اٹھا چکے۔ ریڑھی بان، خوانچہ فروش، پان والے، گوالے، مزدور ، محرر، مستری ، استاد، شاگرد، سرمایہ دار، صنعتکار، دوکاندار اور حتیٰ کہ اللہ میاں کی گائے بھی۔۔۔ گور کنارے لگے عسکری ونگز کے وجودکو لحد میں اترا دیکھا چاہتے ہیں۔ اور ہاں عسکری ونگز کے پالن ہار اور تخلیق کار بھی اب چراغِ سحری ہیں۔

مزید : کالم


loading...