قصور میں قصور کا تعین

قصور میں قصور کا تعین
 قصور میں قصور کا تعین

  


قصور کا سانحہ اس وقت سامنے آیا جب بچوں کے گھروالوں اور مقامی پولیس کے درمیان اس بات پر شدید جھڑپ ہو گئی کہ پولیس ان ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تیار نہ تھی، جنہوں نے 300 بچوں کے ساتھ Rapeکی ویڈیو بنا کر بازار میں بیچنے کا کاروبار جاری کر رکھا ہے۔ اس جھڑپ میں 52لوگ زخمی ہوئے جن میں پولیس اھلکار بھی زخمی ہوئے اور ایک شخص مارا گیا۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ کسی بھی جرم کے بارے میں اطلاع ملنے پر ایف آئی آر درج کرنا پولیس کا فرض اولیں ہے۔ مگر عملی طور پر پولیس سے ایف آئی آر درج کرانا جان جو کھوں کا کام ہے۔ 22/A-22/B کے تحت لاکھوں درخواستیں سیشن جج کے سامنے اس لیے دائر کی جاتی ہیں کہ پولیس خود بخود ایف آئی آر درج نہیں کرتی۔قصور میں بچوں کے ساتھ جو ظلمِ مسلسل 2010ئسے ہو رہا تھا، پولیس کے علم میں ہونے کے باوجودملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کی گئی بلکہ مظلوم بچوں کے فریادکناں والدین کو ڈرا دھمکا کر دھتکا ر دیا گیا۔ دراصل با اثرملزمان پر ہاتھ ڈالنا پولیس کیلئے ممکن نہ تھا۔ بلکہ جب بچوں کے والدین اور رشتہ دار تھانہ گنڈا سنگھ کے ایس ایچ او کے پاس گئے تو اس نے شکایات کنندگان کی تصویریں کھینچ کے ملزمان کے حوالے کر دیں جنہوں نے ایک ایک مدعی کے گھر والوں پر قیامت برپا کر دی۔

یہ وارداتِ مسلسل صیغہ راز میں ہی رہنا تھی۔ اگر سراپا احتجاج والدین مظاہرہ نہ کرتے اور میڈیا اس ہولناک خبر کو طشت ازبام نہ کرتا۔حیرت یہ ہے کہ خبر کے پھیلتے ہی بلا تحقیق شاہ ولی اللہ ایس ایچ او، ڈی پی او قصور اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بیک زبان ہو کران بہیمانہ واقعات کو جائیداد کا شاخسانہ قرار دے دیا۔مقامی پولیس نے مدعیوں کے خلاف دباؤ کا استعمال کیا۔ جھوٹے کیس بنائے تاکہ مدعیان ، معزز ملزمان کے خلاف اپنے دعویٰ جات کی پیروی نہ کریں اور گواہان منحرف ہو جائیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شہادت کو ضائع کرنا یا تبدیل کرنا یاتبدیل کرانا از خود ایک جرم ہے ۔ پاکستان میں عموماً منظم اور اجتماعی بد اخلاقی کی قرار واقعی سزا دینا اس لئے ممکن نہیں رہا کہ شہادت ناکافی ہوتی ہے اور استغاثہ اپنے فرئض منصبی ادا کرنے میں متامّل ہوتا ہے ۔عدالتیں نا مکمل شہادت اور استغاثہ کے ملی بھگت سے تیا ر کردہ کمزور مقدمات پر سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں۔ مکمل محاسبے او ر موثر سزا سے ہی جرم کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ 2002ء میں مختاراں مائی کے بدنام زمانہ کیس کے 6ملزمان کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے عدم ثبوت کی وجہ سے رہا کر دیا۔

سیاست دانوں کو انتخابات میں با اثر لوگوں کے اثرورسوخ کی ضرورت ہوتی ہے زیر اثر غلام اکثریت کی نہیں۔ اس لئے سیاست دان مظلوم کے حقوق کو افلاطونی رومان گردانتے ہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق پہلے سیاست دان تھے، جنہوں نے حسین خان والا گاؤں کا دورہ کیا۔ جب ہر طرف اس واقعہ کا چرچا ہوا تو حکومت پنجاب نے گنڈا سنگھ کے ایس ایچ او اور ڈی پی او قصور کو تبدیل کر کے منظر سے ہٹا دیا اور 11اگست کو جب کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے حقائق کی تحقیق کیلئے حتا جیلانی کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قصور کے دورہ پر گئی تو اسی دن حکومت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم مرتب کرنے میں عافیت سمجھی۔ مگر تفتیشی ٹیم کی ساخت اور ہئیت بتاتی ہے کہ تفتیش نتیجہ خیز نہ ہو گی۔ اس ٹیم میں سائیبر جرائم کا کوئی ماہر شامل نہیں کیا گیا۔ ریڈیالوجی یا فور ینزک یا دیگرتفتیش کے جدید آلات سے ٹیم کو مسلح نہیں کیا گیا۔ اس ٹیم کا سربراہ ابو بکر خدا بخش ڈی آئی جی وسعت پذیر اور موثر جرم سے متصادم ہے۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہلی باریعنی 26مئی کو تفتیش کے لئے نہیں گئی، بلکہ پولیس کے خلاف نکلنے والے احتجاجی جلوس کومنتشر کرنے گئی تھی۔ اس منظم جنسی دہشت گردی کا شکار ہونے والے 300 بچے 10سال سے 16 سال کے درمیان کی عمر کے تھے۔ اطلاع ملنے کے باوجود پرچہ دائر نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ دھمکی اور جرم خود اپنے آپ میں ایک ادارہ بن چکا ہے۔

کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے قصور کے دورہ کے بعد 19-08-2015کو ایک مفصل مبسوط اورمربوط رپورٹ شائع کی۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان جرائم کے ارتکاب کے بارے میں تفتیش میں کوئی پیشرفت اس وقت تک نہیں ہوئی تھی۔ گواہان کی گواہی پولیس ریکارڈ کا حصہ نہ بنی تھی۔ شہادتیں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ جائے وقوعہ کا معا ئنہ یا نقشہ موقع تیار نہیں ہو سکا تھا۔ جیسے انتظامیہ کیلئے جائے وقوعہ علاقہ غیر تھا۔ کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہ پولیس کی تحویل میں تھی اور نہ ہی برآمدگی کی گئی تھی۔2010 ء سے اب تک وارداتوں کا سیریل اس لئے خفیہ رہا کہ ظلم کا شکار بچوں اور متاثرہ خاندانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا رکھا گیا۔بلیک میل کی دھمکی سے مجبور لوگ ملزمان کو تاوان بھی ادا کرتے رہے۔ گو کہ بشیراں بی بی نے 2013ء میں پولیس کو اطلاع دی تھی۔ مگر بشیراں بی بی کو ملزمان نے پولیس کی اعانت سے تشدد کا نشانہ بنایا اور بالآخر وہ تاریک پس منظر میں دھکیل دی گئی۔ قصور سے ایک غریب راج مزدور ثناء اللہ کے بیٹے عظیم نامی نے بھاگ کر عبداللطیف سرا ایڈووکیٹ کے پاس لاہور میں پناہ لی کیونکہ بڑے بڑے چودھری چمکیلی گاڑیوں میں آئے اور اس کے غریب باپ سے جبری رضامندی حاصل کر لی اب دکھی عظیم ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے کیا کرے۔ ایسی صورت حال میں کوئی کیا کرے۔

جس معاشرے میں کمزور محض کمزور ہونے کی وجہ سے مجبور کیا جا سکے وہاں قانون کی حکمرانی دیوانے کا خواب ہی ہوگا۔ جس معاشرے میں مُلا، مذہب کو محض ڈرانے کا ہتھیار سمجھے۔ استاد اپنے معصوم شاگردوں کو مارپیٹ کرکے سکول سے بھاگنے پر مجبور کر دے۔ بیوی کے سرپر طلاق کی تلوار لٹک رہی ہو۔ جہاں بندوق اور ڈنڈا بولتا ہو اورمعاشرے کی زبان گونگی ہو اور قلم بِک چکا ہو۔ معاشرے پر خوف کا راج ہو۔ ایسی گھٹن اور جبرمیں اظہار کی منفی، ڈراؤنی اور مکروہ، صورتیں ناچتی پھریں گی، ڈکیٹی، سڑیٹ کرائم اور ریپ در اصل معاشرتی ماحول کا عکس ہیں۔ قانون سے بالا تر طبقہ طاقتور اور ریاستی ادارے کمزور ہوں تو جرم پھلتا پھولتار ہے گا۔ مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے وہ مظلوم کس طرح فریاد کرے جس پر 302 کا پرچہ کاٹ دیا گیاہو۔ ATA میں نامزد 92 افراد اپناد کھڑاتفتیشی ٹیم کے سامنے جاکر کیسے بیان کریں گے۔انتظامیہ جھوٹے مدعی بنا رہی ہوتا کہ ان کے ذریعے اثباتی بیان دلوا کر حقیقی مدعیان کو ہوا میں تحلیل کر دیاجائے تو تفتیشی ٹیم کی مہارت کس کام کی۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سیاسی دوکاندار اپنا اپنا سودا بیچ رہے ہوں تو۔ ظالم اور مظلوم دونوں فارغ سمجھیں۔ ظالم جوابدہی سے فارغ اور مظلوم شنوائی سے فارغ۔پولیس کہہ رہی تھی کہ ابھی یہ تفتیش کرنا باقی ہے۔ کہ اس جنسی بے راہروی میں کونسا بچہ رضا مندی سے شامل ہوا ہے اور کون مجبور۔

پہلے اچھے زمانے میں لوگوں کوخدا کا خوف ہوا کرتا تھا کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ پھر معاشرے کا خوف ہوا کرتا تھا۔ مجرم جرم کو معاشرتی ضمیر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ۔ آج کل بورڈ آویزاں ہیں کہ کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے۔ مگر کیسا دور آگیا ہے کہ اب تو کیمرے کی آنکھ مجرموں کی اعانت کر رہی ہے۔ جرم کی ترویج کر رہی ہے۔ دہشت زدہ بچوں پر ظلم کی ویڈیوز کی لا محدود ترسیل کرنا تو جرم کی تبلیغ کرنا ٹھہرا ۔ہر شخص جرم کے سامنے تنہا کھڑا ہے۔بچہ معاشرے کا کمزور ترین فرد ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے بلکہ احتیاج اور تجسّس کے ہاتھوں بے بس اور معذور ہوتا ہے۔ ایسے اثر پذیر بچے پر جبر کرنے والا منظم گروہ کس قدر انسان دشمن اور سماج دشمن ہوگا۔ ایک بچے کو غیر فطری عمل کیلئے مجبور کرنا تو جرم ہے ہی مگر دوسروں کی موجودگی میں وہی عمل کرانا دوہرا جرم ہوگا۔ اور اگر اسی قبیح عمل کو کیمرے میں محفوظ کرکے ہزاروں لاکھوں لوگ باربار دیکھنے لگیں تو جرم کس قدر بھیانک صورت اختیار کرلے گا۔ اس بچے کیلئے پوری زندگی کی تضحیک وتوہین اور طعنہ زنی موت سے بد تر ہے۔ مظلومیت اور بے بسی کے سوداگروں نے پوری دنیا میں اسلامی مملکت پاکستان کی ساکھ کو چندٹکوں کے عوض بیچ دیا۔ ساری دنیا میں قصور کے اس واقعے کے چرچے ہو رہے ہیں۔ اصل لمح�ۂ فکریہ یہ ہے کہ بچوں کی بے بسی کی تشہیر کے بے شمار خریدار ہمارے اسلامی معاشرے میں ہی موجود ہیں۔ مسلمان معاشرے میں اس مارکیٹ کاپھلنا پھولنا ایک اندوہناک نتیجے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

مظلوم مدعیان سے، ملاقات کے بعد غضب ناک خادم اعلےٰ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملزموں کو الٹا لٹکا دیں گے۔وہ ملزمان کو سیدھا الٹا لٹکانے میں کامیاب ہو سکیں یا نہ ہو سکیں بہر حال اس واقعے کے خلاف عمومی غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے وزیر اعلےٰ نے مناسب الفاظ کا چناؤ کیا ہے۔ ہمارے تمام سیاست دان لفظوں کی لاشیں اقتدار کے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ شہباز شریف خود رسہ لے کر قصور نہیں جائیں گے کہ نامزد ملزموں کو الٹا لٹکادیں۔ قانون کے ادارے یہ کام کرتے ہیں۔اور ہمارے قانون نے نکل بھاگنے کے کافی عقبی دروازے مہیا کر رکھے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری عدالت عدل کا ادارہ نہیں ہے۔ ثبوت کا ادارہ ہے اور ثبوت کو خلط ملط کرنے میں ہم عالمگیر شہرت کے حامل ہیں۔ ثبوت کی غیبت کی وجہ سے عدالتی کاروائی غیر موثر ہو جاتی ہے۔ اگر عدالت بے بس ہو جا ئے تو معاشرہ کا ہر فرد تنہائی کا اور عدم تحفظ کاشکار ہوجائے گا۔ یقین و اعتماد سے محروم ایسے افراد جرم سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرنے کی بجائے قومی اداروں کی کارکردگی کو موثر کرنا ضروری ہے۔ قصور کا سانحہ تو ایک پھوڑا ہے جو ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ ورنہ پورا معاشرتی وجود کینسر زدہ ہو گیا ہے۔ جرم کے کینسر کا علاج لفظوں سے ہو سکتا ہوتاتو ہمارا معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ ہوتا۔

مزید : کالم


loading...