الیکشن کمشن کے سامنے دھرنا دینگے ،عمران ،3ارکان استعفا پر رضا مند

الیکشن کمشن کے سامنے دھرنا دینگے ،عمران ،3ارکان استعفا پر رضا مند

لاہور ( نمائندہ خصوصی ) پاکستان تحر یک انصاف کے چےئر مین عمران خان نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے 4اکتوبر کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں جدہ بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں ‘ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے ‘الیکشن کمیشن آزاد اور خود مختار نہیں مسلم لیگ (ن) کی ’’بی ٹیم ‘‘ بن چکا ہے ‘پاکستان کی 21جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کی بات کی ہے بلدیاتی انتخابات میں ہر پو لنگ اسٹیشن پر کیمر ہ لگائیں گے‘ لاہور میں قومی اسمبلی کیلئے عبد العلیم خان ‘صوبائی اسمبلی کیلئے شعیب صدیقی امیدوار ہوں گے مگر میری خواہش ہے نوازشر یف میرے مقابلے میں الیکشن لڑیں انہیں پتہ چل جا ئیگا لاہور کس کا ہے۔ وہ تین حلقوں میں دھاندلی ثابت ہونے کی خوشی میں چےئر مین سیکرٹر یٹ میں جشن کے حوالے سے منعقدہ تقر یب سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر تحریک انصاف کے چودھری محمدسرور‘سنٹر ل آرگنائزر جہا نگیر خان تر ین ‘نیشنل آرگنائزر شاہ محمودقر یشی‘ پنجاب کے آرگنائزر چودھری محمد سرور، عمران خان کے ایڈ وائزر عبدالعلیم خان ‘ایگز یکٹو ڈائریکٹر فضیل آصف ‘تحر یک انصاف لاہور کے آر گنائزر شفقت محمود ‘شعبہ خواتین پنجاب کی صدر سلونی بخاری‘لاہور شعبہ خواتین کی صدر ڈاکٹر زرقا ‘ڈپٹی آرگنائزر محمد سر فرازچیمہ، تحر یک انصاف کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ‘پارٹی عہدیدار اور ہزاروں کارکنان نے شرکت کی جنہوں نے ہاتھوں میں چےئر مین عمران خان کی تصاویر او ر پارٹی پر چم اٹھائے رکھے تھے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے حکو مت سے پہلے دن 4حلقوں کی بات کی ہے اور کہا تھا اگر ان میں دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو ہم نتائج تسلیم کر لیں گے ‘تحر یک انصاف کے پاس وہ کارکن ہیں جوکسی اور کے پاس نہیں، 413 پٹیشن دائر ہوئیں جنکی ماضی میں کوئی مثال نہیں، ہم نے صرف4بات کی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ لوگ سڑکوں پر آئیں اور ملک کو معاشی نقصان ہو ہم ایک سال تک سٹرکوں پر دھکے کھاتے رہے لیکن ہمیں انصاف نہیں اور پھر پتہ چلا کہ الیکشن کمیشن سمیت سب ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے بھی ہمیں دھاندلی کے بارے میں حقائق سے آگا ہ کیا اور دھر نے میں شر کت کی دعوت دی مگر ہم نہیں گئے کیونکہ ہم آئین وقانون میں رہتے اور جدوجہد کے حامی ہے جسکے ہم افتخار محمد چودھری کے پاس گئے اور وہاں بھی چار حلقوں کی بات کی مگر وہ کہنے لگے میرے پاس پہلے ہی 20ہزار مقدمات ہیں وہ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری جو ٹماٹروں پر ازخود نوٹس لے لیتے تھے وہ 20کروڑ عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو پکڑ نے کیلئے تیار نہیں تھے پھر یہ بھی پتہ چلا کہ افتخارمحمد چودھری بھی دھاندلی کر نیوالوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکو مت کو2سال سے زائد کا عر صہ ہو چکا ہے جہا نگیر خان ترین اور خامد خان انصاف کے عدالتوں کے باہر دھکے کھاتے رہے اور جہا نگیر خان تر ین نے انصاف کیلئے 2کروڑ روپے خر چ کیے، اس سسٹم میں حلال کمانے والے کیسے انصاف لے سکتے ہیں یہاں تو صرف طاقتوروں کو انصاف ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قصورمیں بھی غر یبوں کو انصاف نہیں ملا اور وہ پنجاب کا وزیر قانون جس کا نام لیتے ہوئے مجھے شر م آتی ہے وہ کہتاہے یہ زمین کا کیس ہے انہوں نے کہا کہ یہاں تو قبضہ گر وپ نے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے یہاں مظلوم نہیں طاقتور ہی جیتتا ہے لیکن میں نے مسلم لیگ (ن) کو بے نقاب کر نے کیلئے 4حلقوں کی بات کی کیونکہ مجھے یقین تھا کہ مسلم لیگ (ن) خوفزدہ ہے اوراس نے عام انتخابات میں بدتر ین دھاندلی کی اس لیے میں نے جدو جہد کی اور تین حلقوں میں دھاندلی کی تصد یق تحر یک انصاف کی فتح ہے ۔ خیبر پختونخوامیں جب اپوزیشن نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی بات کی تو ہم نے دوبار ہ انتخابات کی بات کی مگر اپوزیشن جماعتیں بھاگ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشر یف کتنے معصوم انداز میں بات کرتے ہیں جس پرمجھے ان پر تر س آتا ہے اور ہم نے احتجاجی دھر نہ گوادار یا چین کے راستے نہیں دیا اس لیے پاکستان کے دوسال میں نہیں نواز شر یف نے ضائع کیے ہیں ۔ تحر یک انصاف نے کبھی جمہو ریت کو ڈی ریل کر نے کی بات نہیں کی اور تحر یک انصاف کے دھر نے کو جنرلوں سے جوڑ نے والے وفاقی وزراء کو شر م آنی چاہیے دنیا کی تاریخ میں کسی جنر ل کے کہنے پر کسی دھر نے کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ہم نے دھر نہ کسی جنر ل نہیں عوام کے تعاون سے دیا ہم نے جمہوریت کے نظام کو مضبوط کر نے کیلئے دھر نہ دیا ہے اور 3حلقوں میں دھاندلی ثابت ہو چکی ہے جو عام انتخابات میں100فیصد دھاندلی کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھاگنے کی باتیں کر نیوالے (ن) لیگ کے لوگوں سے کہنا چاہتاہوں کہ جدہ میں نہیں شر یف برداران اور آپکی پارٹی قیادت بھاگی ہے میں میدان سے بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے انتخابی حلقے میں53ہزار جعلی ووٹ نکلے ہیں اور جتنے مر ضی کھولے ایسے ہی نتائج ہی ملے گے اور اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عام انتخابات 2013مکمل طور پر 2نمبر تھے اور میں نوازشر یف سے کہتاہوں کہ این اے122میں میرا مقابلہ کر یں پورے پاکستان کو پتہ چلا جا ئیگا کہ لاہور کس کا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ میں آپ کی جگہ ہوتا تو3حلقوں میں دھاندلی ثابت ہونے کے بعد سپر یم کورٹ کے پیچھے چھپنے کی بجائے سیالکوٹ کے حلقے میں دوبارہ گنتی کروادیتا اور جب خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں4حلقے کھولنے کی بات کی تو میں نے فوری سپیکر کو خط لکھا دیا کہ ہمارے 4حلقے کھولوں اوراب سیالکوٹ کے حلقہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوئی تو نتائج وہی ہونگے جو باقی 3حلقوں میں آئے ہیں ۔ انہوں نے میں چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کا بہت احترام کر تاہوں کیونکہ 2013کے انتخابات میں انکا کوئی تعلق نہیں تھا،21جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کی بات مگر الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور جوڈیشل کمیشن نے 40نکات میں عام انتخابات میں ہونیوالی دھاندلی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو قرار دیا ہے اور پھر میں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا مگر پھر بجائے مجھے جواب دینے کی بجائے مجھے2/3لائنوں کا سخت جواب دیدیا اور الیکشن کمیشن کے لوگوں کو بہت غصہ آیا کیونکہ الیکشن کمیشن کے لوگوں کو پتہ ہے اگر تحقیقات ہو گئی تو الیکشن کمیشن کے ان لوگوں کو جیلوں میں جانا پڑ یگا کیونکہ دھاندلی کر نا بہت بڑ اجر م ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) کاظم ملک نے (ن) لیگ کے حق میں30فیصلے کیے مگر صرف 1ہمارے حق میں پر ویز رشید اور رانا ثناء اللہ خا ن نے انکو دھمکیاں دیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن (ن) لیگ کی بی ٹیم بن چکا ہے جب پیپلزپارٹی ‘(ق) لیگ اور جماعت اسلامی سب دھاندلی کی بات کرتی ہے تو یہ الیکشن کمیشن کیسے ضمنی یا بلدیاتی انتخابات کرواسکتا ہے مگر اس کے باوجود ہم بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے میں جد ہ بھاگنے والا نہیں یہ2013والی تحر یک انصاف نہیں ہر پو لنگ اسٹیشن پر کیمر ہ لگائیں گے اور دھر نے نے تحر یک انصاف کو بہت مضبوط کر دیا ہے اب جو دھاندلی کر یگا اسکو پو لنگ اسٹیشن میں پکڑ یں گے اور لاہور میں این اے122میں اوپر عبد العلیم خان اور شعیب صد یقی الیکشن لڑ یں گے اور رحیم یار خان میں جہا نگیر خان تر ین لڑ یں گے ۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے ہمارے مطالبے کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان کو فارغ نہ کیا تو4اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاجی دھر نا دیں گے اور یہ دن پاکستان کا ایسا دن ہو گا جب خواتین اور نوجوانوں سمیت ہر پاکستانی الیکشن کمیشن کے باہر پہنچے گا اور پھر ہم آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔تحریک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چودھری محمدسرور نے کہا کہ تحر یک انصاف نے مسلم لیگ (ن)کی دھاندلی کی پوری قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور حکمرانوں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے توانہیں چاہیے کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی بجائے فوری اقتدار سے الگ ہوجائیں اور ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جو مر ضی کرے وہ تحر یک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتی، ہم بلدیاتی اور عام انتخابات میں حکمرانوں کو عبر تناک شکست دیں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے قوم سے ہمیشہ جھوٹ بولا ہے اور اب ثابت ہو چکا ہے کہ حکمران عوام کے ووٹوں سے نہیں دھاندلی سے کا میاب ہو کر آئے ہیں اور انہیں آخر کار گھر جانا پڑ یگا۔ عمران خاناسلام آباد، اے این این کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کو چیلنج کیاہے کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ کراین اے 122 میں ان کے ساتھ انتخابی میچ کھیلیں،دنیا کو پتہ چل جائیگا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، میاں صاحب کو اپنی مقبولیت کا پتہ چل جائیگا ، نوازشریف اپنے امپائر بھی کھڑے کردیں تو بھی انھیں شکست دوں گا۔لاہور روانگی سے قبل بنی گالہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس حکام کی جانب سے بار بار سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے کے بعد لاہور کی ریلی منسوخ کی، ہم اپنے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل نہیں سکتے، لاہور کی ریلی میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی اور کچھ ہو جاتا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر آتی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ریفرنس لائے ، کیو نکہ جو چیز یں جوڈیشل کمیشن میں نہ کہہ سکے وہ صحیح طور پر بتا سکیں گے ،ٹربیونلز میں ایک چیز کی تصدیق کی گئی جوڈیشل کمیشن میں مجموعی چیزیں دیکھی گئیں ،ٹربیونلز کے فیصلے پہلے آجاتے تو جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ مختلف ہوتا ، میرے حلقے اور جہانگیر ترین کے حلقے کے فیصلے جان بوجھ کر جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد کئے گئے ،میرے حلقے میں جس دن آخری سماعت ہونی تھی نادراکا چیئرمین بیرونی ملک چلاگیا ، ہم دوسال سے کیس کے فیصلے کا انتظار کررہے تھے وہ کس کے کہنے پر دیا گیا ہے؟، ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے خلاف آراء دی ہیں اس کے مطابق بہت کچھ غیر قانونی ہوا ، ہمیں پتہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ الیکشن کمیشن میچ فکس کیا تھا ۔ خورشید شاہ کا بیان بھی آگیا ہے کہ ہم نے مک مکا کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے جسٹس ریاض کیانی کو پنجاب کے لئے مانگا تھا اب انہوں نے معافی مانگی ۔ خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن سندھ کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ جب فخر الدین جی ابراہیم مستعفی ہوئے تو تمام فیصلے ریاض کیانی ہی کرتے تھے، ان سب باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی مسلم لیگ (ن) کے کھلاڑی تھے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن، آئی این پی) الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تین ارکان نے مستعفی ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن کمیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر کو استعفے پیش کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک رکن نے اپنا استعفا تحریر بھی کر لیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس پیر کے روز طلب کر لیا گیا ہے جس میں استعفے پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صوبائی الیکشن کمشنر کے بیٹے کی وفات کے باعث اس ضمن میں ان سے کوئی بات چیت نہیں ہو سکی تاہم اس بات کا واضح امکان ہے کہ وہ بھی اپنا استعفا پیش کر دیں گے۔ آن لائن کے مطابق عمران خان کے دھرنے کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے پیر کے روز ایک نکتے کے ایجنڈے پر اہم اجلاس طلب کرلیا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کرینگے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے جسٹس ریاض کیانی نے پہلے سے ہی اپنا استعفا چیف الیکشن کمشنر کو پیش کردیا تھا تاہم ان کااستعفا منظور نہیں کیا گیا تھا ، عمران خان کے دباؤ کی وجہ سے تین ارکان نے استعفا ٰدینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے کل پیر کے روز اہم ا جلاس طلب کرلیا ہے جس میں تینوں صوبائی ارکان اپنا استفا چیف الیکشن کمشنر کو پیش کرینگے ۔ آئی این پی کے مطابق ارکان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے کھل کر اپنا دفاع نہ کرنے پر استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے ان کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو عمران خان کی طرف سے ان پر لگائے گئے الزامات پر کھل کر ان کادفاع کر نا چاہیے تھا، کل کے اجلاس میں عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں احتجاج کے پروگرام ٗالیکشن کمیشن کے ارکان کے استعفوں اور دیگر اہم امورپر غور کیا جائیگا ۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی استعفوں کے مطالبے کے بعد ان ارکان نے یہ فیصلہ کیا ہے جبکہ ایک حالیہ اجلاس کے بعد ان ارکان کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ عمران خان کے دباؤ میں آکر استعفے نہیں دینگے ۔ ان ارکان میں پنجاب سے جسٹس (ر) ریاض کیانی، سندھ سے جسٹس (ر) محمد روشن عیسانی اور خیبرپختونخوا سے جسٹس (ر) شہزاد اکبر خان شامل ہیں۔

اسلام آباد، لاہور(نمائندہ خصوصی، آئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی حیثیت دیکھ کر چیلنج کریں ‘ نواز شریف کے سپاہی سے دو مرتبہ الیکشن ہارنے والا کیسے جیت سکتا ہے ‘ ضمنی الیکشن کی وجہ سے عمران خان بوکھلائے ہوئے ہیں ‘ عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان انصاف کے جس نظام پر تنقید کر رہے ہیں اس کے دو فیصلوں پر اترا رہے ہیں، گزشتہ 3 سال میں قوم عمران خان کی حیثیت کو جان چکی ہے جب سے ضمنی انتخاب کا اعلان کیا ہے عمران خان بوکھلائے ہوئے ہیں ۔ نواز شریف 3 مرتبہ وزیر اعظم بن چکے ہیں، آپ بمشکل ایم این اے بنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان پولنگ پر کیمرے ضرور لگائیں تاکہ پتہ چلے قوم آپ کو ووٹ نہیں دیتی نواز شریف کے سپاہی سے 2 مرتبہ شکست کھانے والا نوا ز شریف کو کس طرح چیلنج کر رہا ہے، اس نے قوم کے ساتھ ایک اور مذاق کر دیا ہے۔ نوا زشریف کو چیلنج کر کے خود امیدوار تبدیل کر دیا۔ دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ عمران خان پہلے نواز شریف جیسا بن کر دکھائیں، پھر الیکشن کے لئے چیلنج کریں، لاہور کے شہری عمران خان کو تاریخی شکست دیں گے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان این اے 122 سے بھاگنے کے بہانے تراشیں، وہ پہلے نواز شریف جیسا بن کر دکھائیں پھر انہیں چیلنج کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے، زندہ دلان لاہور عمران خان کو این اے 122 میں تاریخی شکست دے کر اس کی غلط فہمی ہمیشہ کے لئے دور کر دیں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...